Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائبسینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورپمز سانحے کے بعد اسلام آباد کے فائر اینڈ ریسکیو نظام میں اہم پیشرفت، چین کا بڑا اقدامیوم شہداء صحافت بلوچستان میڈیا فورم کا صوبہ بھر یوم سیاہبازئی قبائل کی ملکیتی اراضی پر سرکاری اسکیمات کیخلاف شدید احتجاجخورشیدِ معرفت کی خوشبوجمہوریت، فریبِ نظر اور افلاطون کی تاریخی پیش گوئیامن کے نام پر جنگپردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تکمال کی کثرت نہیں، رزقِ حلال کی برکت اصل کامیابی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقجھنڈے، نعتیں، نعرے مگر کردار غائب

پردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تک

پردے کے پیچھے سے زندگی کے اسٹیج تک
سلیمہ ہاشمی کی خودنوشت ’’Waiting in the Wings‘‘ کی لاہور میں رونمائی

منشاقاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی ممتاز مصورہ، فنونِ لطیفہ کی استاد، دانشور، مقررہ اور نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) کی سابق پرنسپل محترمہ سلیمہ ہاشمی کی زندگی، فن، فکری سفر اور تخلیقی تجربات پر مبنی خودنوشت کتاب ’’Waiting in the Wings‘‘ کی پُروقار تقریبِ رونمائی لاہور میں Vanguard Books، گورومانگٹ روڈ پر منعقد ہوئی۔ تقریب میں کتاب کی مصنفہ سلیمہ ہاشمی نے معروف پاکستانی صحافی، سیاست دان، مقررہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن جگنو محسن کے ساتھ ایک بھرپور اور معنی خیز گفتگو میں اپنی زندگی کے مختلف ادوار، فنّی تجربات، تعلیمی سفر، سماجی مشاہدات اور تخلیقی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔
یہ تقریب محض ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی زندگی کے اوراق کھولنے کا موقع بھی تھی جس نے پاکستان کے فن، تعلیم اور فکری منظرنامے پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ ’’Waiting in the Wings‘‘ دراصل ایک فنکارہ کی خودنوشت ہونے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی تہذیبی، سماجی اور فنّی یادداشت بھی محسوس ہوتی ہے جس میں سلیمہ ہاشمی نے اپنی آنکھوں سے کئی تبدیلیوں کو آتے، گزرتے اور تاریخ کا حصہ بنتے دیکھا۔
سلیمہ ہاشمی کا نام پاکستان کے جدید فنونِ لطیفہ میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ مصوری، تدریس، تحقیق اور فکری مکالمے کے میدان میں ان کی طویل وابستگی نے انہیں محض ایک فنکارہ نہیں بلکہ ایک ایسی صاحبِ نظر شخصیت بنا دیا ہے جس نے فن کو زندگی سے الگ کسی جزیرے کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کے نزدیک فن انسانی تجربے، سماجی شعور، یادداشت اور احساس کی ایک ایسی زبان ہے جو خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تقریب میں جگنو محسن کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے کتاب کے مختلف پہلوؤں کو مزید نمایاں کیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان مکالمہ محض سوال و جواب تک محدود نہیں رہا بلکہ زندگی، فن، معاشرے، تعلیم، عورت کے کردار، تخلیقی آزادی اور بدلتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے ایک فکری گفتگو کی صورت اختیار کر گیا۔ جگنو محسن نے سلیمہ ہاشمی کی زندگی اور کتاب کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے، جن کے جواب میں مصنفہ نے اپنے ذاتی تجربات، یادوں اور مشاہدات کو نہایت بے ساختگی اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا۔
سلیمہ ہاشمی کی شخصیت میں فنکارانہ حساسیت اور فکری بے باکی کا امتزاج ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ان کا فن رنگوں اور اشکال تک محدود نہیں بلکہ اپنے عہد کے سوالات سے مکالمہ کرتا ہے۔ بطور استاد انہوں نے نئی نسل کے بے شمار فنکاروں کو تخلیقی سوچ، سوال اٹھانے اور اپنے اظہار کی تلاش کا حوصلہ دیا، جبکہ NCA کی سابق پرنسپل کی حیثیت سے بھی انہوں نے فنونِ لطیفہ کی تعلیم اور ادارہ جاتی روایت میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
’’Waiting in the Wings‘‘ اسی وسیع تجربے کا ایک ادبی اور شخصی اظہار ہے۔ کتاب میں ایک فنکارہ کی زندگی کے ساتھ ساتھ وہ لوگ، واقعات، یادیں اور احساسات بھی جگہ پاتے ہیں جنہوں نے ان کی شخصیت اور فنّی شعور کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ خودنوشت کا حسن یہ ہے کہ اس میں ایک بڑی شخصیت اپنے عہد کو محض تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی یادداشت کے آئینے میں دیکھتی ہے۔ یوں ذاتی زندگی اجتماعی تاریخ سے جڑ جاتی ہے اور ایک فرد کی کہانی پورے معاشرے کے کئی رنگ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
تقریب کے دوران کتاب کے حوالے سے گفتگو نے یہ احساس بھی اجاگر کیا کہ یادداشت صرف گزرے ہوئے وقت کا ذخیرہ نہیں بلکہ حال کو سمجھنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ انسان جب اپنے ماضی کی طرف پلٹتا ہے تو اسے صرف اپنے گزرے ہوئے دن نظر نہیں آتے بلکہ ان دنوں میں چھپے ہوئے خواب، شکستیں، کامیابیاں، رشتے، سوالات اور معاشرتی رویے بھی دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ سلمیٰ ہاشمی کی خودنوشت اسی معنوی سطح پر ایک شخصی داستان سے بڑھ کر ایک عہد کی دستاویز کا روپ اختیار کرتی ہے۔
تقریب میں کتاب کے مداحوں اور ادب و فن سے وابستہ افراد کے لیے Book Discussion، سوال و جواب کی نشست، مصنفہ سے ملاقات اور کتاب پر دستخط کا اہتمام بھی کیا گیا۔ شرکاء نے سلیمہ ہاشمی سے ملاقات کی اور ان کی خودنوشت کے دستخط شدہ نسخے حاصل کیے۔ اس موقع پر کتاب کی مصنفہ اور جگنو محسن کے درمیان ہونے والی گفتگو نے حاضرین کو ایک ایسی فکری فضا فراہم کی جہاں فن، زندگی اور یادداشت ایک دوسرے میں گھلتے محسوس ہوئے۔
سلیمہ ہاشمی کی زندگی کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فنکار صرف کینوس پر رنگ نہیں بھرتا، وہ اپنے عہد کے چہرے پر بھی کچھ لکیریں ثبت کرتا ہے۔ کبھی یہ لکیریں رنگوں میں ظاہر ہوتی ہیں، کبھی الفاظ میں اور کبھی خاموشی میں۔ ’’Waiting in the Wings‘‘ اسی خاموشی کو آواز دینے اور ان پردوں کے پیچھے موجود زندگی کو سامنے لانے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔
لاہور میں منعقد ہونے والی یہ تقریب یوں بھی اہم تھی کہ اس نے کتاب، مصنفہ اور قاری کے درمیان فاصلے کو کم کیا۔ ایک طرف پاکستان کے فنونِ لطیفہ کی ممتاز شخصیت اپنی زندگی کے اوراق حاضرین کے سامنے کھول رہی تھیں اور دوسری طرف ایک تجربہ کار صحافی اور سماجی شعور رکھنے والی شخصیت ان اوراق کے درمیان چھپی ہوئی کہانیوں کو سوالات کے ذریعے روشن کر رہی تھیں۔
یوں ’’Waiting in the Wings‘‘ کی تقریبِ رونمائی ایک کتاب کی اشاعت سے آگے بڑھ کر یادداشت، فن، زندگی اور تاریخ کے باہمی رشتے کا جشن بن گئی—ایک ایسا جشن جس میں ماضی نے حال سے گفتگو کی، رنگوں نے لفظوں کا روپ دھارا اور ایک فنکارہ نے اپنی زندگی کے پردے کے پیچھے سے نکل کر اپنے سفر کی داستان خود سنا دی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *