Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن قابلِ تحسینجنوبی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو کمسن لڑکیاں بازیابکوہلو میں ہیپاٹائٹس کی صورتحال تشویشناک، سول سوسائٹی کی آگاہی واکپنجگور کے روشن مستقبل کیلئے نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ناگزیر ہے، چاکر صدیق بلوچصدر آصف علی زرداری بلاول بھٹو کا رشتہ لیکر یورپی ملک ‘لیختن شٹائن’ پہنچ گئے، ذرائعفنانس ایکٹ : غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ پر 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگاایران ایک ہفتے کے دوران 59 زلزلوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھاپمز اسپتال میں انتظامی عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاریبانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی ہیں کہ عمران خان بالکل فٹ ہیں: خواجہ آصفپاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے، بلال بن ثاقبوزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن قابلِ تحسینجنوبی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو کمسن لڑکیاں بازیابکوہلو میں ہیپاٹائٹس کی صورتحال تشویشناک، سول سوسائٹی کی آگاہی واکپنجگور کے روشن مستقبل کیلئے نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ناگزیر ہے، چاکر صدیق بلوچصدر آصف علی زرداری بلاول بھٹو کا رشتہ لیکر یورپی ملک ‘لیختن شٹائن’ پہنچ گئے، ذرائعفنانس ایکٹ : غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ پر 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگاایران ایک ہفتے کے دوران 59 زلزلوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھاپمز اسپتال میں انتظامی عہدوں پر نئی تقرریوں کے احکامات جاریبانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی ہیں کہ عمران خان بالکل فٹ ہیں: خواجہ آصفپاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے، بلال بن ثاقب

گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی، جس میں عمارت کی انتظامیہ سمیت مختلف متعلقہ اداروں کی غفلت اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کو فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں اور خطرناک حالت کے باوجود تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جبکہ انتظامیہ نے معلوم نقائص دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ سول ڈیفنس کی 2024 اور 2025 کی رپورٹس میں بھی فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور خارجی راستوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

جوڈیشل کمیشن کے مطابق عمارت میں آتش گیر سامان کی بڑی مقدار موجود تھی، جبکہ منظور شدہ پلان میں 1102 دکانیں تھیں لیکن عملی طور پر 1153 دکانیں قائم تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے میں تاخیر ہوئی، بجلی منقطع ہونے سے عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور بالائی منزلوں سے نکلنے کے امکانات مزید محدود ہوگئے۔ عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے ہنگامی صورتحال میں استعمال نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کے رسپانس میں بھی تاخیر ہوئی اور تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد مؤثر فائر فائٹنگ شروع ہوسکی۔ پانی کی کمی اور ری فلنگ کے مسائل نے آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیوں کو مزید متاثر کیا۔

کمیشن نے قرار دیا کہ 2024 اور 2025 میں نشاندہی کیے گئے نقائص دور کرنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں سول ڈیفنس، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، الیکٹرک انسپکٹر اور ریسکیو اداروں سمیت مختلف متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد بھی کچھ وقت تک متاثرین کو ریسکیو کرنے کے مواقع موجود تھے، تاہم دستیاب وقت کو بڑے پیمانے پر مؤثر ریسکیو آپریشن میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ کمیشن نے کہا کہ جانی نقصان صرف آگ کے باعث نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور غیر مؤثر حفاظتی نظام کے باعث بھی ہوا۔

رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ سانحے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ متعدد متعلقہ ادارے اپنی قانونی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہے۔

واضح رہے کہ 17 جنوری 2026 کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جو کئی روز تک جاری رہی۔ سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ پلازہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *