Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گنداخہ کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری اولین ترجیح ہے، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیمولانا فضل الرحمان کے خلاف غیر شائستہ بیان بازی ناقابلِ برداشت ہے، میر نعیم خان عمرانیبلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے، میر عبید گورگیجپی۔ایم۔ڈی۔سی کو کمزور کرنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے، ورکرز یونینعوام تبدیلی اور روشن مستقبل کے خواہاں ہیں،پروفیسر حلیم صادقکوئٹہ کراچی روٹ پر مذید 4 مسافر کوچ اغواءمیونسپل کمیٹی روہڑی کے پٹرول و ڈیزل اخراجات پر سوالات، شفاف آڈٹ اور تحقیقات کا مطالبہجھل مگسی میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، ایس پی رحمت اللہ درانیگڈانی میں ایک ماہ سے پانی کا بحران، سینٹرل جیل میں قیدی بھی پانی کو ترس گئےحب: کمیونیکیشن شاپ پر ڈکیتی کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ سے مالک سمیت 2 افراد زخمیگنداخہ کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری اولین ترجیح ہے، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیمولانا فضل الرحمان کے خلاف غیر شائستہ بیان بازی ناقابلِ برداشت ہے، میر نعیم خان عمرانیبلوچستان کی خوشحالی پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے، میر عبید گورگیجپی۔ایم۔ڈی۔سی کو کمزور کرنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے، ورکرز یونینعوام تبدیلی اور روشن مستقبل کے خواہاں ہیں،پروفیسر حلیم صادقکوئٹہ کراچی روٹ پر مذید 4 مسافر کوچ اغواءمیونسپل کمیٹی روہڑی کے پٹرول و ڈیزل اخراجات پر سوالات، شفاف آڈٹ اور تحقیقات کا مطالبہجھل مگسی میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، ایس پی رحمت اللہ درانیگڈانی میں ایک ماہ سے پانی کا بحران، سینٹرل جیل میں قیدی بھی پانی کو ترس گئےحب: کمیونیکیشن شاپ پر ڈکیتی کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ سے مالک سمیت 2 افراد زخمی

جنوبی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو کمسن لڑکیاں بازیاب

‎سیکیورٹی فورسز کی جنوبی بلوچستان میں اہم کارروائی؛ فتنة الہندوستان (بی ایل اے) کی جانب سے خودکش بمبار کے طور پر تیار کی گئی دو کمسن لڑکیاں گرفتار
کوئٹہ: بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) فتنة الہندوستان کا کمسن لڑکیوں کو خودکش حملے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں ناکام بنا دیا گیا۔ انٹیلیجنس معلومات پر کی گئی اس کارروائی کے دوران 16 سالہ زینب اور اس کی 12 سالہ کزن فاطمہ کو محفوظ تحویل میں لے لیا گیا۔
اس آپریشن کی تفصیلات کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے لائی گئیں، جس کی قیادت صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کی اور دونوں لڑکیاں بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ اس بریفنگ کا بنیادی مقصد بی ایل اے کے مذموم ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوئی واقعہ رونما ہونے پر عوام سیکیورٹی اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن سیکیورٹی ادارے پس پردہ ایسے درجنوں منصو بوں کو خاموشی سے ناکام بناتے ہیں۔
انٹروگیشن کے دوران دونوں لڑکیوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعات اور جبر کا انکشاف کیا۔ زینب نے بتایا کہ اس کے شوہر سیف کو بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر کی تنظیم کے لیے کام کرنے سے انکار پر نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی عسکریت پسند نیٹ ورک نے اس کے خاندان کے دیگر 8 سے 10 افراد کو بھی قتل کیا۔ سیف کے قتل کے بعد، مذکورہ کمانڈر نے زینب سے مسلسل رابطہ قائم رکھا اور اس کے شوہر کے قتل کا جھوٹا الزام ریاستی اداروں پر لگا کر اسے انتقام کے لیے جذباتی طور پر بلیک میل کیا۔ فاطمہ، جس کے والد بھی بی ایل اے کے ایک حملے میں شہید ہوئے تھے، زینب سے قریبی تعلق کی وجہ سے اس نیٹ ورک کے دام میں آ گئی۔
غم اور جھوٹے بیانیے سے متاثر ہو کر، دونوں لڑکیاں ایک خفیہ مقام پر پہنچیں جہاں انہیں 40 دن تک محبوس رکھا گیا۔ اس قید کے دوران عسکریت پسندوں نے ان پر تشدد کیا اور مقامی کمانڈر نے زینب کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ جب بھی لڑکیاں کمانڈر سے براہِ راست ملنے کی درخواست کرتیں، تو انہیں بتایا جاتا کہ وہ پڑوسی ملک کے دورے پر ہے اور واپسی پر ملاقات کروائی جائے گی۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایل اے غیر ملکی مفادات کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہی ہے، جسے بالخصوص نئی دہلی کی سرپرستی حاصل ہے، جبکہ اس کی قیادت کابل، قندھار اور یورپ کی محفوظ گاہوں میں چھپ کر مقامی مظلوم خاندانوں کا استحصال کر رہی ہے۔ کمسن بچوں کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنے کی یہ کوشش اسلامی اصولوں اور بلوچوں کی روایتی اقدار کی براہِ راست خلاف ورزی ہے، جو تاریخی طور پر خواتین اور بچوں کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں۔
یہ منصوبہ اس وقت خاک میں ملا جب سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس وقت کارروائی کی جب لڑکیوں کو ایک خفیہ مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ ان کی کم عمری اور ورغلائے جانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریاست نے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بجائے، حکام نے انہیں ان کے اہلخانہ سے ملوانے کا اہتمام کیا تاکہ وہ عام زندگی کی طرف لوٹ سکیں اور اپنے علاقوں میں ان عسکریت پسند نیٹ ورکس کی حقیقت کے بارے میں شعور بیدار کر سکیں۔ زینب اور فاطمہ دونوں نے اپنی جانیں بچانے پر سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *