Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے بالاتر رہی، خواجہ آصفایران کا متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰواشک: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاکطلباء کے جائز مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، حبیب الرحمن کاکڑعلماء کرام خانقاہوں اور حجروں سے نکل کر امن کا پیغام عام کریں، مولانا محمد طاہر توحیدیسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیچوری، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں فوری روکی جائیں، مولانا عبدالرحمن رفیقعوامی مسائل کا حل اور پسماندگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، سردار زادہ فیصل خان جمالیغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، عوامی مشکلات برداشت سے باہر ہیں، حمل خان مریسکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی دہشت گردی کے خلاف ثبوت ہے، سرفراز بگٹیپاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے بالاتر رہی، خواجہ آصفایران کا متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰواشک: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاکطلباء کے جائز مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، حبیب الرحمن کاکڑعلماء کرام خانقاہوں اور حجروں سے نکل کر امن کا پیغام عام کریں، مولانا محمد طاہر توحیدیسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیچوری، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں فوری روکی جائیں، مولانا عبدالرحمن رفیقعوامی مسائل کا حل اور پسماندگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، سردار زادہ فیصل خان جمالیغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، عوامی مشکلات برداشت سے باہر ہیں، حمل خان مریسکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی دہشت گردی کے خلاف ثبوت ہے، سرفراز بگٹی

پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے بالاتر رہی، خواجہ آصف


اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی واحد طبقہ ہے جو طویل عرصے سے احتساب کے عمل سے مکمل طور پر بالاتر رہا ہے، جبکہ دیگر حکمران طبقات اور خصوصاً سیاستدانوں کو اپنے فیصلوں اور اقدامات کی قیمت چکانا پڑی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے قومی احتساب کے نظام میں موجود خامیوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات پر سیاستدانوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم بیوروکریسی بڑی حد تک قانونی گرفت اور جوابدہی سے محفوظ رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کے عام شہریوں کو اس حقیقت کا مکمل ادراک نہیں کہ پاکستان میں مختلف ادوار کے دوران بیوروکریسی کا اثر و رسوخ انتہائی مضبوط رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں غلام محمد، چوہدری محمد علی، سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان جیسے اہم عہدوں پر فائز شخصیات کا تعلق بیوروکریسی سے رہا، جس سے ریاستی معاملات میں اس طبقے کے کردار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس وقت بھی برقرار رہی جب بظاہر اقتدار منتخب سیاستدانوں کے پاس تھا۔ سیاستدانوں کی باہمی کشمکش، اختلافات اور کمزوریوں نے بیوروکریسی کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ طبقہ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو مسلسل موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے سیاستدانوں کو پہلے اپنے طرزِ عمل اور سیاسی معاملات کا جائزہ لینا چاہیے۔ سیاسی قیادت اگر اپنے معاملات درست کرلے، باہمی اختلافات کم کرے اور مؤثر انداز میں نظام چلائے تو بیوروکریسی کے کردار اور احتساب کے نظام میں بھی اصلاحات لانا آسان ہوگا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مؤثر احتساب کے لیے تمام طبقات کو قانون اور جوابدہی کے یکساں دائرے میں لانا ضروری ہے تاکہ ریاستی اداروں اور حکومتی نظام میں شفافیت کو فروغ دیا جاسکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *