Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیسید نصرت آغا کے انتقال پر سردار منظور احمد خان کاکڑ کا اظہار تعزیتجشن میلادالنبی ﷺ سیرتِ طیبہ اپنانے کا پیغام ہے، مولانا محمد عثمان مدنیبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیسید نصرت آغا کے انتقال پر سردار منظور احمد خان کاکڑ کا اظہار تعزیتجشن میلادالنبی ﷺ سیرتِ طیبہ اپنانے کا پیغام ہے، مولانا محمد عثمان مدنی

مدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیں

تحریر

شکیل گوندل

آج کل سوشل میڈیا اور خبروں میں مدارس سے متعلق کچھ واقعات سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ ایک طرف دین کی خدمت کا عظیم مقصد ہے، دوسری طرف چند واقعات ایسے ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
پہلے دیکھنا ضروری ھے کہ مسئلہ کیا ہے؟
معصوم بچوں پر ائے دن جسمانی تشدد ھی مسئلہ ھے۔
کچھ مدارس میں اساتذہ بچوں کو جلدی “حافظ” اور “عالم” بنانے کے چکر میں سختی اور مار پیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اساتذہ کا بظاھر مقصد تو تعلیم دینا ہوتا ہے لیکن طریقہ غلط اپنا لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ چھوٹے بچے مار کے خوف سے پڑھ تو لیتے ہیں لیکن علم سے محبت ختم ہو جاتی ہے۔ان میں اکثرغریب گھروں کے بچے اور اخلاقی تربیت سے عاری ھوتے ھیں ہمارے اکثر مدارس میں وہی بچے آتے ہیں جن کے والدین فیس افورڈ نہیں کر سکتے۔ مدارس انہیں مفت رہائش، کھانا اور تعلیم دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑا احسان ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب بچہ گھر کے ماحول سے دور ہو اور اسے صرف سختی ملے تو اس کی اخلاقی تربیت متاثر ہوتی ہے۔ بچے کو محبت، کونسلنگ اور کھیل کود کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو بعض جگہوں پر بالکل نہیں ہے۔ مدرسے کے اساتذہ چاھتے ھیں کہ یہ بچے چند دن میں حافظ یا عالم دین بن جائیں۔
مقابلے اور شہرت کی وجہ سے کچھ اساتذہ پر یہ دباؤ بھی ہوتا ہے کہ بچے کو بہت کم وقت میں سبق یاد کروایا جائے۔ اس جلدی میں بچوں پر غیر ضروری دباؤ اور سزا بڑھ جاتی ہے۔اس کا سدباب کیا ہے۔
یاد رکھنا چاہیئے کہ اصلاح کردار کشی سے نہیں، تعاون سے ہو سکتی ھے۔ مزید یہ کہ مدارس کی قانونی نگرانی اور اساتذہ ٹریننگ ھونی چاہیئے۔اس کے لئےحکومت اور مدارس کے بورڈز مل کر اساتذہ کے لیے “چائلڈ سائیکالوجی” اور “غیر تشدد طریقہ تدریس” کی لازمی ٹریننگ کروائیں۔ تا کہ سخت سزا کی بجائے حوصلہ افزائی کا نظام بنے۔ علاوہ ازیں والدین کا بھی رابطہ اساتذہ سے ضروری ھے۔ بچوں کے والدین کا مہینے میں ایک بار مدرسے آنا لازمی ہو۔ تا کہ بچے کو بھی چھٹی ملے۔اور وہ گھر کا ماحول نہ بھولے۔ بچوں کو مدرسوں میں مکمل سہولیات اور کونسلنگ کے لئے ہر بڑے مدرسے میں ایک کونسلر یا معالج ہو جو بچوں سے بات کر سکے۔ کھیل اور تفریح کا وقت بھی دیا جائے۔ مزید بہتری کے لئے ھر مدرسے میں شکایات کا نظام ایک آزاد ہیلپ لائن بنے جہاں بچہ یا والدین بغیر خوف کے شکایت کر سکیں۔ مجرم استاد کے خلاف فوری کارروائی ہو۔
یاد رکھیں کہ99% مدارس میں ہمارے علماء انتہائی محنت سے، بغیر کسی فیس کے قوم کے بچوں کو قرآن و سنت پڑھا رہے ہیں۔ چند لوگوں کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کرنا انصاف نہیں۔ اس افسوسنک صورتحال میں میڈیا کا کردارانتہائی
نفی ھے۔جو اصلاح کے بجائے حقائق سے ماورا کسی تکلیف دہ واقعہ کو حقائق جانے بغیر خوب مرچ مصالحہ لگا کر منفی انداز سے تشہیر کر کے معاشرے میں سنسنی پھیلانے کا باعث بنتے ھیں۔حالانکہ یہاں میڈیا کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔
جب کوئی ایک واقعہ ہوتا ہے تو کچھ چینلز اور سوشل پیجز فوراً اسے “بریکنگ نیوز” بنا کر، عنوان میں سب سے چونکا دینے والا لفظ لگا کر چلا دیتے ہیں۔ مقصد اصلاح نہیں بلکہ ریٹنگ اور ویوز ہوتے ہیں- ایک واقعے کو “تمام مدارس کا چہرہ” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔جو کہ قطعا درست نہیں ھے۔خبر میں تفصیل کم، جذبات اور الزام زیادہ ہوتا ہے جبکہ
مدارس کی ہزاروں مثبت خدمات کا ذکر نہیں ہوتا
اس سے ہوتا کیا ہے؟ لوگوں میں مدارس سے نفرت بڑھتی ہے۔ غریب والدین ڈر کر بچوں کو داخلہ نہیں کرواتے۔ اور اصل مجرم پسِ پردہ رہ جاتا ہےلہذا میڈیا کو چاہیے کہ خبر کو حقائق کے ساتھ چلائے، بغیر بڑھا چڑھا کر واقعے کے ساتھ ماہرین سے “حل” بھی پوچھے جانا چاہیئے۔
مدارس کی مثبت سرگرمیوں کو بھی جگہ دے تاکہ توازن رہے۔دراصل مدارس ہمارا فخر ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں قوم کے غریب بچوں کو سہارا دیا ہے۔ لیکن ہر ادارے میں اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ تنقید نہیں بلکہ تعمیری مکالمے کی تا کہ تشدد کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی ہو، لیکن پورے نظام کو داغدار نہ کیا جائے۔
اگر ہم نے مل کر اساتذہ کو ٹرینڈ کیااور والدین کو بھی شامل کیا اس کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی پوری ذمہ داری کا ثبوت دیا، تو ان شاء اللہ ہمارے مدارس سے نہ صرف حافظ اور عالم نکلیں گے بلکہ اخلاق کے پیکر بھی نکلیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *