Banner

کراچی محکمہ تعلیم میں سنگین بدعنوانی کا بڑا معاملہ بے نقاب

Share

Share This Post

or copy the link

کراچی محکمہ تعلیم میں سنگین بدعنوانی کا بڑا معاملہ بے نقاب
ضلع کورنگی میں کرپشن جعلسازی اور غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف
ٹی ای او شاہ فیصل ٹاؤن فہد شریف معطل انکوائری شروع
تحریر،محمد عُبيـــدالله میرانی
کراچی کے ضلع کورنگی کے محکمہ تعلیم میں سنگین بدعنوانی کا ایک بڑا معاملہ بے نقاب ہوا ہے جس میں جعلسازی رشوت خوری غیر قانونی بھرتیوں مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری اسکولوں کی عمارتوں پر مبینہ قبضوں کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں معاملے کے منظرعام پر آنے کے بعد ٹی ای او شاہ فیصل ٹاؤن فہد شریف کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق فہد شریف پر جعلی کاغذات کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے غیر قانونی ترقیاں لینے اور تقرریوں تبادلوں اور پروموشنز کے عوض بھاری رقوم وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ضلع کورنگی کے متعدد اساتذہ نے ایچ ایس ٹی سے ہیڈ ماسٹر (HM) پروموشن کے ورکنگ پیپرز کے عوض چار سے پانچ لاکھ روپے طلب کیے جانے کی شکایات متعلقہ افسران کو کیں تاہم مبینہ طور پر انہیں براہ راست مذکورہ افسر سے رجوع کرنے کا کہا گیا، بعد ازاں متاثرہ اساتذہ نے وزیر تعلیم سردار علی شاہ کو تحریری شکایت ارسال کی جس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری تعلیم نے فہد شریف کی معطلی کے احکامات جاری کیے سرکاری ریکارڈ کے مطابق فہد شریف کی ابتدائی تقرری 2001-02 میں بطور پرائمری اسکول ٹیچر (PST) گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول شاہ فیصل کالونی میں ہوئی تاہم بعد ازاں ان کی طویل غیر حاضری کے باعث سروس ریگولر نہ ہو سکی اور مبینہ طور پر بعد میں غیر قانونی طریقے سے ریگولرائز کی گئی دفتری ریکارڈ کے مطابق ابتدائی سروس فائلز اور حاضری سے متعلق اہم دستاویزات غائب ہیں جس پر انتظامیہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں دستاویزات کے مطابق 2012 میں ایک مبینہ سنگل پیج لیٹر کے ذریعے انہیں PST سے HST ظاہر کیا گیا جبکہ وہ مختلف ادوار میں تنخواہوں کے اسکیل سے متعلق مبینہ طور پر فوائد حاصل کرتے رہے مزید یہ کہ سپریم کورٹ کے احکامات CP 89/2011 کے تناظر میں خود کو سندھ یونیورسٹی ٹیسٹ پاس ظاہر کر کے مبینہ جعلی آفر اور اپائنٹمنٹ آرڈرز جمع کروانے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں سرکاری دستاویزات کے مطابق ان کا نام نہ ٹیسٹ پاس امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے نہ تقرری پانے والوں نہ جوائننگ دینے والوں اور نہ ہی ریگولرائز ہونے والے اساتذہ کی فہرستوں میں موجود ہے جو معاملے کو مزید مشکوک بناتا ہے ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اسکولوں کی عمارتوں پر مبینہ قبضوں غیر قانونی بھرتیوں تبادلوں اور ترقیوں کے عوض رشوت لینے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن میں گورنمنٹ گرلز اسکول ملیر کالونی (برف خانہ) اور گورنمنٹ بوائز لوئر سیکنڈری اسکول شاہ فیصل کالونی نمبر 5 سمیت دیگر تعلیمی ادارے شامل ہیں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فہد شریف کو معطل کر دیا ہے اور مکمل انکوائری شروع کر دی گئی ہے حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اس حوالے سے فہد شریف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کا موقف موصول نہیں ہو سکا جبکہ تعلیم جیسے حساس شعبے میں بدعنوانی کے اس بڑے معاملے نے عوامی اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے

کراچی محکمہ تعلیم میں سنگین بدعنوانی کا بڑا معاملہ بے نقاب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us