Banner

پاکستان عالمی سیاست کا مرکز اور امنِ عالم کا علمبردار

featured
Share

Share This Post

or copy the link

ایران امریکہ کشیدگی کا خاتمہ

پاکستانی تدبر سپہ سالارِ اعظم جنرل سید حافظ عاصم منیر کی بصیرت اور دفاعی حکمت عملی

روزنامہ صحافت کوئٹہ کا پاکستانی ثالثی پر خصوصی نظر

قارئین کرام۔تاریخِ عالم کے اوراق جب بھی اکیسویں صدی کے نازک ترین موڑ کا ذکر کریں گے، پاکستان کا نام ایک ایسے مصلح اور ثالث کے طور پر ابھرے گا جس نے اپنی بے مثال سفارت کاری سے دنیا کو ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔ ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج اور جنگی جنون نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا تھا، ایسے میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے میدانِ عمل میں قدم رکھا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے جس مستعدی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ پاکستان صرف اپنے مفادات کا محافظ نہیں بلکہ عالمی استحکام کا داعی بھی ہے۔ پاکستان کی اس مصلحتی ثالثی نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحے کے ڈھیر نہیں بلکہ وہ جراءت مندانہ فیصلے ہیں جو انسانیت کی بقاء کے لیے کیے جاتے ہیں۔ آج دنیا کے وہ ممالک جو کل تک پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھے، وہ بھی ہماری اس امن پسندی اور سفارتی کامیابی کے معترف ہو چکے ہیں اور پاکستان کا وقار عالمی ایوانوں میں ایک بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اس عظیم اور تاریخی کامیابی کے پیچھے جو اصل متحرک قوت اور دفاعی حکمت عملی کا دماغ کارفرما رہا، وہ بلاشبہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید حافظ عاصم منیر کی شخصیت ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنی تعیناتی کے پہلے دن سے ہی جس وقار، متانت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا، اس نے نہ صرف پاکستان کے اندرونی استحکام کو یقینی بنایا بلکہ بین الاقوامی محاذ پر بھی پاکستان کے دفاعی اور سفارتی اثر و رسوخ کو نئی جلا بخشی۔ ایک حافظِ قرآن سپہ سالار ہونے کے ناطے ان کی شخصیت میں وہ روحانی بصیرت اور انصاف پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہے جو کسی بھی بڑے فیصلے میں توازن پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی “خاموش سفارت کاری” (Quiet Diplomacy) کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کے وہ پل تعمیر کیے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے تھے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور ملٹری ڈپلومیسی کے ذریعے عالمی طاقتوں کو یہ سمجھایا کہ تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں اور خطے میں امن کی کنجی صرف باہمی احترام اور مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ ان کی اس جرات مندانہ پیش قدمی نے نہ صرف مشرقِ وسطٰی کو ایک ہولناک آگ سے بچایا بلکہ پاکستان کے عسکری ادارے کے امیج کو ایک “امن فورس” کے طور پر پوری دنیا میں مستکم کیا۔پاکستان کی اس عظیم کامیابی نے دوست اور دشمن دونوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں گروہ بندیوں میں مصروف تھیں، پاکستان نے غیر جانبداری اور مصلحت پسندی کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف سرحدوں کی پاسبان نہیں بلکہ ایک ایسی فکری تنظیم ہے جو عالمی پیچیدگیوں کو سلجھانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ جب قیادت مخلص ہو اور سپہ سالار صاحبِ بصیرت ہو، تو ریاست ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ آج دنیا بھر کے تھنک ٹینکس اور سیاسی مبصرین پاکستان کے اس “مصلحتی ماڈل” کا مطالعہ کر رہے ہیں اور جنرل سید حافظ عاصم منیر کو ایک عالمی مدبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن کی ہر چال میں امن کی خوشبو اور ہر فیصلے میں انسانیت کی بہتری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یہ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے اور ان شاء اللہ شہباز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی اور جنرل عاصم منیر کی فولادی عزم و بصیرت کے سائے میں یہ ملک دنیا کے لیے امن کا مثال بنا رہے گا۔ اب دنیا کو مکمل اطمینان ہو جانا چاہیے کہ پاکستان کی قیادت ایک ایسے مضبوط اور پرامن ہاتھ میں ہے جو نہ صرف اپنے ملک بلکہ پورے عالمِ اسلام اور انسانیت کے مفادات کی نگہبانی کرنا جانتی ہے۔اس سلسلے میں جب ہم مزید گہرائی میں اترتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم تصادم نہیں بلکہ تعاون کے حامی ہیں۔ جنرل سید حافظ عاصم منیر کی ملٹری ڈپلومیسی نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک ماہرِ حرب ہی نہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے سفارت کار بھی ہیں جنہوں نے خطے کے وسیع تر مفاد میں تہران اور ریاض کے بعد اب تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی اس حکمت عملی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اب کسی کی جنگ کا ایندھن نہیں بنے گا بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے ایک ناگزیر قوت بن کر ابھرے گا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات اور سپہ سالار کی جانب سے ملکی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات نے عوام میں یہ اعتماد پیدا کیا ہے کہ ملک کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس سفارتی جیت نے ان تمام قوتوں کے منہ بند کر دیے ہیں جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔ آج پوری امتِ مسلمہ پاکستان کی اس لیڈرشپ کی طرف دیکھ رہی ہے جس نے نہ صرف اسلامی ممالک کے مفادات کا تحفظ کیا بلکہ عالمی سطح پر اسلام کا پرامن چہرہ بھی پیش کیا۔ یہ رپورٹ اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ان شاء اللہ ان مخلص قیادتوں کی موجودگی میں پاکستان کی ترقی اور امن کا یہ سفر جاری رہے گا اور آنے والے دن پاکستان کی خوشحالی اور عالمی مرتبے میں مزید اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ اب عالمی برادری پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور مضبوط فوج صرف دفاع کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن کے استحکام کی ضامن ہے اور جنرل سید حافظ عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اس مقصد کی تکمیل میں سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اس عظیم کامیابی کا سہرا ان کی خاموش مگر موثر حکمت عملی کے سر جاتا ہے جس نے دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

پاکستان عالمی سیاست کا مرکز اور امنِ عالم کا علمبردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us