Banner

قرضوں کی سلطنت اور بھوک کا بجٹ تحریر و تجزیہ کلیم اللہ خان

Share

Share This Post

or copy the link


قرضوں کی سلطنت اور بھوک کا بجٹ

تحریر و تجزیہ
کلیم اللہ خان

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک سیاسی غیر یقینی معاشی دباو¿ بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی بے روزگاری اور سکیورٹی چیلنجز جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے بلوچستان خیبرپختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال عالمی سطح پر بدلتی ہوئی معاشی ترجیحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط نے حکومت کےلئے مالیاتی منصوبہ بندی کو مزید مشکل بنا دیا ہے ایسے ماحول میں عوام کی توقع تھی کہ بجٹ ان کی مشکلات میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور بنیادی ضروریات زندگی تک آسان رسائی کا ذریعہ بنے گا تاہم بجٹ کے مجموعی خدوخال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ مالیاتی دستاویز عوامی فلاح کےلئے ترتیب دی گئی ہے یا ریاستی اور ادارہ جاتی ترجیحات کے تحفظ کےلئے حکومت نے تقریباً 18.7 کھرب روپے کے حجم کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں محصولات کے حصول، مالیاتی خسارے میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو بنیادی اہداف قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کےلئے 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے بظاہر یہ ایک بلند ہدف ہے، لیکن ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی محصولات کے اہداف بڑھائے جاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے چھوٹے تاجروں اور عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے جبکہ بڑے سرمایہ دار طبقات مختلف قانونی اور انتظامی رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیںاس بجٹ کا سب سے تشویشناک پہلو قرضوں اور سود کی ادائیگی ہے پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بلند ترین قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وفاقی اخراجات کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کےلئے مختص کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست کی مالی ترجیحات میں عوامی فلاح سے زیادہ قرضوں کے تقاضے شامل ہو چکے ہیں جب قومی وسائل کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو تعلیم، صحت تحقیق روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہے جہاں نئے قرضے پرانے قرضوں کی ادائیگی کےلئے لیے جا رہے ہیںدفاعی بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے حکومت کا مو¿قف ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور قومی سلامتی کے تقاضے اس اضافے کو ناگزیر بناتے ہیں بلاشبہ ریاست کی سلامتی اہم ہے لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا سلامتی کو صرف عسکری نقطہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے؟ ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہوں صحت کی بنیادی سہولیات ناکافی ہوں اور نوجوان بے روزگاری کے باعث مایوسی کا شکار ہوں وہاں انسانی ترقی کو بھی قومی سلامتی کا بنیادی جزو تصور کیا جانا چاہیے ایک مضبوط ریاست صرف اسلحے سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ صحت مند اور بااختیار شہریوں سے بنتی ہےتعلیم کے شعبے کو بدستور وہ اہمیت حاصل نہیں ہو سکی جس کی ایک ترقی پذیر ملک کو ضرورت ہے پاکستان اب بھی مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے تعلیم پر انتہائی کم اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، جامعات کو درپیش مالی مشکلات تحقیقی سرگرمیوں کے لیے محدود وسائل اور اساتذہ کی تربیت کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ اگر ریاست واقعی طویل المدتی ترقی چاہتی ہے تو تعلیم کو دفاع اور قرضوں کے بعد بچ جانے والے وسائل سے نہیں بلکہ قومی ترجیحات میں سرفہرست مقام دینا ہوگا صحت کے شعبے کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت طبی عملے کی کمی اور جدید سہولیات کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ ہے آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود صحت کے شعبے کے لیے مختص وسائل عوامی ضروریات کے مطابق نہیں بڑھائے گئے دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات آج بھی محدود ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری معیاری طبی خدمات سے محروم ہیںسرکاری ملازمین اور پنشنرز کو اس بجٹ میں محدود ریلیف دیا گیا ہے تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا لیکن یہ اضافہ مہنگائی کے حقیقی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ناکافی محسوس ہوتا ہے گزشتہ چند برسوں کے دوران اشیائے ضروریہ بجلی گیس ایندھن اور رہائش کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس تناظر میں معمولی اضافہ ملازمین کی مالی مشکلات میں خاطر خواہ کمی لانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نجی شعبہ اس پر مو¿ثر انداز میں عمل درآمد کرے گا؟ پاکستان میں لاکھوں مزدور غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں جہاں لیبر قوانین کا اطلاق محدود ہےاگر نگرانی کا مو¿ثر نظام موجود نہ ہو تو اجرت میں اضافے کے اعلانات محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا مسئلہ بھی بدستور موجود ہے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی حقوق ایک آئینی حقیقت ہیں، لیکن کئی صوبے شکایت کرتے ہیں کہ انہیں وسائل ان کی ضروریات اور آئینی حق کے مطابق نہیں ملتے بلوچستان، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے آج بھی ترقی تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے کئی اشاریوں میں ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہے صوبے کے عوام طویل عرصے سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ معدنیات اور قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ان کا حصہ شفاف انداز میں یقینی بنایا جائے خیبرپختونخوا بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کر چکا ہے ایسے صوبوں کو اضافی وسائل اور خصوصی ترقیاتی پیکیجز کی ضرورت ہے تاکہ وہاں پائیدار امن اور معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر وسائل کی تقسیم کے حوالے سے موجود تحفظات دور نہ کیے گئے تو وفاقی اکائیوں اور مرکز کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید بڑھ سکتا ہے بجٹ کے معاشرتی اثرات بھی گہرے ہوں گے بے روزگاری مہنگائی اور غربت پہلے ہی لاکھوں خاندانوں کو متاثر کر رہی ہے نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ چھوٹے کاروبار بلند شرح سود اور کمزور طلب کے باعث مشکلات کا شکار ہیں خواتین معذور افراد اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے بھی کوئی جامع اور نمایاں پالیسی سامنے نہیں آئی جو سماجی انصاف کے حوالے سے ریاست کے عزم کو واضح کر سکےحکومت نے معاشی ترقی برآمدات میں اضافے سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی نظم و ضبط کے اہداف مقرر کیے ہیں۔ اگر یہ اہداف مو¿ثر انداز میں حاصل ہو جائیں تو معیشت کو استحکام مل سکتا ہے، لیکن ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صرف اہداف کے اعلان سے نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ شفاف طرز حکمرانی احتساب پالیسیوں کا تسلسل سرمایہ کاروں کا اعتماد اور سیاسی استحکام اس عمل کے بنیادی ستون ہیںپاکستان کو اس وقت ایک ایسے معاشی وڑن کی ضرورت ہے جو قرضوں پر انحصار کم کرے انسانی ترقی کو ترجیح دے صوبوں کے حقوق کا احترام کرے اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے بجٹ کو صرف آمدن اور اخراجات کی سالانہ دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ایک سماجی معاہدے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا ہومجموعی طور پر وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسی مالیاتی دستاویز ہے جس میں استحکام کی کوشش ضرور نظر آتی ہے لیکن عوامی ریلیف سماجی انصاف اور طویل المدتی معاشی اصلاحات کے حوالے سے کئی سوالات بدستور موجود ہیں اگر ریاستی ترجیحات میں عام شہری کی زندگی تعلیم، صحت روزگار اور صوبائی خودمختاری کو مرکزی حیثیت نہ دی گئی تو معاشی استحکام کے تمام دعوے محض اعداد و شمار تک محدود رہ جائیں گے پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب بجٹ کا مرکز طاقتور طبقات نہیں بلکہ عام شہری بنے۔

قرضوں کی سلطنت اور بھوک کا بجٹ تحریر و تجزیہ کلیم اللہ خان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us