Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل

بلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیار

چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بلوچستان پرائس کنٹرول اور منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ایکٹ 2026 کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت نے صوبے میں قیمتوں کے استحکام، ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی مسودہ “بلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پریوینشن آف منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ 2026” تیار کیا ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ مجوزہ قانون 1977 کے قدیم وفاقی فریم ورک کی جگہ لے گا اور صوبائی سطح پر موثر نفاذ کے لیے جدید اور مضبوط انتظامی ڈھانچے اور کاروائیوں کا تعین کرتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد قیمتوں کا کنٹرول صوبائی موضوع ہے؛ موجودہ 1977 کا ایکٹ وفاقی دور کا رہ جانے والا ہے۔ مجوزہ 2026 ایکٹ مکمل طور پر صوبائی اختیارات اور ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون میں پرائس کنٹرول کونسل، صوبائی کنٹرولر جنرل اور ڈپٹی کمشنرز کو ضلع کنٹرولرز کے طور پر تعین کرنے سمیت ایک مربوط کمانڈ اسٹرکچر وضع کیا گیا ہے تاکہ تیز، مربوط اور حسابی کارروائی یقینی بنائی جا سکے، اور یہ مسودہ قانون کو موجودہ صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا تاکہ رائے شماری اور درکار ترامیم کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا سکے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول وزارتِ قانون، محکمہ کموڈٹی مینجمنٹ، ضلعی انتظامیہ، اور تجارتی نمائندوں کو مشاورت کے لیے شامل کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے، مارکیٹ میں منصفانہ رویہ یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف مو¿ثر کاروائی کے لیے اس قانونی اصلاحات کے نفاذ کی خواہاں ہے۔ مجوزہ ایکٹ کے ذریعے صوبے میں قیمتوں کے استحکام، کھاد، خوراک اور ضروری اشیائے خوردونوش کی دستیابی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سیکرٹری کموڈیٹی منیجمنٹ ارشد حسین بگٹی، سپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالسلام اچکزئی و دیگر نے شرکت کی

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *