Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پنجاب حکومت کو بدنام کرکے متبادل انتظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، خواجہ آصففتنۃ الہندوستان کا اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلیے خواتین کا استعمال، اہم انکشافات سامنے آگئےمولانا فضل الرحمان کے قریبی اتحادی سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری2025 میں ختم دہائی کے دوران پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً دگنا ہوگیاٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے اہم مشاورتخیبرپختونخوا میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریاں روکنے کے احکامات معطلترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونیپنجاب حکومت کو بدنام کرکے متبادل انتظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، خواجہ آصففتنۃ الہندوستان کا اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلیے خواتین کا استعمال، اہم انکشافات سامنے آگئےمولانا فضل الرحمان کے قریبی اتحادی سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری2025 میں ختم دہائی کے دوران پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً دگنا ہوگیاٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے اہم مشاورتخیبرپختونخوا میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریاں روکنے کے احکامات معطلترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونی

بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، صوبہ اس صورتحال تک کیسے پہنچا، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان بار کونسل کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ایک وقت تھا جب وہ بغیر کسی محافظ کے کہیں بھی آ جا سکتے تھے، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ جاتے ہوئے بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کو امن و امان کی موجودہ صورتحال اور اس کی وجوہات پر غور کرنا ہوگا۔ صوبے میں امن قائم ہوگا تو کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی اور لوگوں کو عدالتوں تک رسائی میں بھی آسانی ہوگی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے سانحہ سول اسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس المناک واقعے کو کبھی نہیں بھول سکتے۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل بیٹھ کر سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *