Banner

کرپشن کےخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عمل جاری رہے گا، نیب بلوچستان

Share

Share This Post

or copy the link


کوئٹہ)پ ر) قومی احتساب بیورو بلوچستان نے ریاستی عملداری کی بحالی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی۔ یہ کارروائیاں نیب ہیڈ کواٹر کی ہدایات پر عمل میں لائی گئیں، جن کا مقصد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ، شفاف احتساب کا فروغ اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کو یقینی بنانا ہے، یہ کامیابی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی حکومت، محکمہ مال اور جنگلات کے تعاون کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 میں بلوچستان میں جنگلاتی اراضی کی ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ جنگلات کی تقریباً 28 لاکھ ایکڑ اراضی کے حوالے سے سرکاری سطح پر انتقال اراضی کا با قاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب کی ہدایات پر نیب بلوچستان نے فوری اور بلا امتیاز کارروائیوں کا آغاز کیا۔تفصیلات کے مطابق سال 2025 کے دوران دس لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کروا کر 1370 ارب روپے کی ریکوری ممکن بنائی گئی، جو پاکستان کی تاریخ کی بڑی اراضی واگزاری کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سال 2026 میں کارروائیوں کو مزید تیز کیا گیا، جس کے تحت کوئٹہ، سبی، شیرانی، حب، لسبیلہ اور گوادر میں مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی، جسکی مالیت 414.2 ارب روپے بنتی ہے۔ جسکی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں ۔ضلع کوئٹہ میں محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی 47 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت تقریباً 354 ارب روپے ہے واگزار کرائی گئی۔ اسی طرح ضلع سبی میں بھی محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی 28,61 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 2.3 ارب روپے، ضلع شیرانی میں 15 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت 29 ارب روپے بنتی ہے واگزار کرائی گئی ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی ضلع حب میں 153 ایکڑ اراضی جس کی مالیت 50 کروڑ روپے ہے، ضلع لسبیلہ میں 17 ہزار ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی جس کی مالیت 2.2 ارب روپے ہے، جبکہ محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کی ضلع گوادر میں 1 لاکھ 76 ہزار ایکڑ اراضی جس کی مالیت 25 ارب روپے بنتی ہے، واگزار کرائی گئی ہے۔اس کامیابی میں حکومت بلوچستان کی مکمل معاونت حاصل رہی، جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) بلوچستان اور محکمہ جنگلات نے بھی کلیدی کردار ادا کیا کیوں کہ بین الادارہ تعاون کے بغیر اس نوعیت کی کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔واضح رہے کہ نیب پُر عزم ہے کہ کرپشن اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور ریاستی زمین پر غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کارروائیاں بلا امتیاز، قانون کے مطابق اور مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔مزید برآں باقی ماندہ سرکاری اراضی کی واگزاری کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ مستقبل میں غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے جدید ریکارڈ سسٹم، ڈیجیٹلائزیشن اور م¶ثر مانیٹرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جو آئندہ ایسے مسائل کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔واضح رہے واگزار شدہ زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کی جا رہی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد اور ماحول دوست منصوبوں میں بروئے کار لایا جا سکے، جبکہ صوبے بھر میں یہ مہم اسی جذبے کے ساتھ زیادہ متاثرہ اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر جاری رہے گی۔

کرپشن کےخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عمل جاری رہے گا، نیب بلوچستان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us