Banner

پاکستان کا مصلحتی اور قائدانہ کردار

featured
Share

Share This Post

or copy the link

قارئین صحافت آج کی بٹی ہوئی اور دفاعی حکمت عملی کی کشمکش میں گھری ہوئی دنیا میں پاکستان کا ابھرتا ہوا مصلحتی کردار ایک ایسی نویدِ سحر بن کر سامنے آیا ہے جس نے عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، اسلام آباد جس تیزی کے ساتھ عالمی امن اور مفاہمت کے مرکز کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی بصیرت افروز حکمت عملی اور قیادت کے تدبر کا نچوڑ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک سفارتی تگ و دو اور آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کی مضبوط عسکری قیادت نے مل کر ریاست کے تمام ستونوں کو ایک ایسے آہنی عزم میں پرو دیا ہے جس کا مقصد صرف اپنے ملک کا دفاع نہیں بلکہ پوری دنیا کو جنگوں اور انسانی المیوں سے نکال کر امن کی راہ پر گامزن کرنا ہے، دنیا کی بڑی طاقتیں جو کبھی پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اب وہ بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ خطے میں پائیدار استحکام کی کنجی صرف اور صرف پاکستان کے پاس ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل اور مصلحت کا راستہ اختیار کر کے ہزاروں لاکھوں انسانی جانوں کو ممکنہ جنگوں کی نذر ہونے سے بچایا ہے۔پاکستان کے اس عظیم الشان مصلحتی کردار پر عالمی برادری میں جو خوشی اور اطمینان پایا جاتا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک متحرک اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے، جنرل حافظ عاصم منیر کی “پیس اینڈ اسٹبلٹی” (امن و استحکام) کی حکمت عملی نے جہاں دہشت گردی کے عفریت کو لگام ڈالی وہاں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیاء کیا جس پر دنیا بھر کے بڑے ممالک اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، آج جب مشرق وسطیٰ سے لے کر یوکرین تک اور افغانستان سے لے کر وسطی ایشیاء تک امن کی بات ہوتی ہے تو پاکستان کا نام ایک معتبر ثالث کے طور پر سرفہرست آتا ہے، یہ پاکستان کی قیادت کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنے جغرافیائی محل وقوع کو بوجھ بننے کے بجائے ایک ایسی نعمت میں بدل دیا ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کام کر رہا ہے، عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے اس کردار کو بے حد سراہا جا رہا ہے کیونکہ دنیا اب مزید کسی تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی اور پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے تمام فریقین کے ساتھ رابطے بھی ہیں اور وہ سب کے لیے قابل قبول بھی ہے۔
پاکستانی عوام اور پوری امت مسلمہ کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ اسلام آباد آج عالمی امن کا ایسا گہوارہ بن چکا ہے جہاں سے نکلنے والی ہر آواز انسانیت کی بقاء اور فلاح کی ہوتی ہے، شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورمز پر پاکستان کی معاشی سفارت کاری کو جس طرح امن سے جوڑا ہے اس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار معاشی کھلاڑی بھی ہے، اس مصلحتی کردار نے جہاں پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے وہاں سرمایہ کاروں اور عالمی اداروں کا اعتماد بھی بحال کیا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عالمی میڈیاء اور دانشور اب پاکستان کو ایک “اسٹیبلائزر” (استحکام لانے والا) کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستان کی قیادت نے جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹھوس حقائق اور مصلحت پسندی کو ترجیح دی جس کی بدولت آج پاکستان نہ صرف اپنے بلکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے بھی ناگزیر بن گیا ہے، ان عظیم کامیابیوں کے بعد اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا کی صف اول کی معاشی اور سیاسی قوتوں میں شامل ہو کر انسانیت کی رہنمائی کرے گا۔

پاکستان کا مصلحتی اور قائدانہ کردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us