Banner

سندھ میں اسکولوں کی حالت

سندھ میں اسکولوں کی حالت
Share

Share This Post

or copy the link

حسن عباس

کچھ دن پہلے ایک سماجی تنظیم کی جانب سے عید کے موقع پر بچوں میں کپڑے تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی، جہاں دیگر سرکاری افسران کے ساتھ محکمۂ تعلیم کے ضلعی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ مگر مجھے افسوس ہوا کہ ان میں سے کسی کو بھی بچوں یا اسکول کی حالت سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس سب اپنی باری کے انتظار میں تھے کہ بچوں کو کپڑے دیتے ہوئے تصویر بنوائیں، تقریر کریں اور داد سمیٹ کر واپس چلے جائیں۔ ہوا بھی یہی نہ انہوں نے اسکول کا جائزہ لیا، نہ بچوں سے ان کے مسائل پوچھےالبتہ میری نظر صوفوں پر بیٹھے افسران کے سامنے زمین پر بیٹھے پھول جیسےمعصوم بچوں اور اسکول کی کھنڈر بنی عمارت پر پڑی نہ چاردیواری، نہ چھتوں کی مناسب حالت، نہ کلاسوں میں فرنیچر، نہ اساتذہ کے بیٹھنے کے لیے کوئی مناسب کرسی میں وہاں سے تو چلا آیا، مگر خیالات وہیں رہ گئے جو ذہن کو جھنجھوڑتے رہے۔
میں نے ایک دوست کو فون کیا، جو مختلف اداروں کے ساتھ سندھ کے تعلیمی نظام پر سروے کر چکا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ اگرچہ مجھے بھی سندھ کی تعلیمی صورتحال کا کچھ اندازہ ہے، مگر تم مستند اعداد و شمار دے سکتے ہو۔ اس نے کہا کوشش کروں گا۔ پھر میں اس کے پاس گیا، اور ہماری تفصیلی گفتگو ہوئی، جس سے سندھ میں تعلیم کی صورتحال کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئےکہا جاتا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی شعور، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اسی لیے آگے بڑھی ہیں کہ انہوں نے تعلیم کو اولین ترجیح دی۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ جیسی تاریخی، ثقافتی اور علمی ورثے کی حامل دھرتی میں آج بھی تعلیم کا شعبہ شدید مسائل کا شکار ہےاکثر لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں، خاص طور پر دیہی آبادی کو، قبائلی جھگڑوں، سماجی برائیوں اور غربت میں الجھا کر تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ شعور حاصل نہ کریں بہرحال، یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہاں صرف تعلیم کی بات کرتے ہیں۔
سندھ میں سرکاری اسکولوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ یہ صرف تعلیمی نظام ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہے محکمۂ تعلیم اور مختلف اداروں کی رپورٹس کے مطابق صوبے میں تقریباً 48 سے 49 ہزار سرکاری اسکول موجود ہیں، جن میں زیادہ تر پرائمری اسکول ہیں، جبکہ مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد کم ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے 10 ہزار سے زائد اسکول مکمل طور پر بند یا غیر فعال ہیں کئی جگہ عمارتیں تباہ حال ہیں، کہیں اساتذہ موجود نہیں، اور کہیں طلبہ کی کمی کے باعث تعلیم کا عمل ہی ختم ہو چکا ہے۔
اساتذہ کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار اساتذہ موجود ہیں، مگر اس کے باوجود ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں مناسب تعداد میں اساتذہ نہیں ہیں ایک سروے کے مطابق 17 ہزار سے زائد اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک استاد پورےاسکول کو سنبھال رہا ہے وہ مختلف کلاسوں کو ایک ساتھ پڑھانے پر مجبور ہے، جس سے تعلیم کا معیار شدید متاثر ہوتا ہےبنیادی سہولیات کی کمی سندھ کے اسکولوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 26 ہزار اسکولوں میں صاف پانی کی سہولت نہیں 20 ہزار سے زائد اسکولوں میں ٹوائلٹ نہیں23 ہزار سے زائد اسکولوں میں فرنیچر موجود نہیں تقریباً 12 ہزار اسکول بجلی سے محروم ہیں تقریباً 19 ہزار اسکولوں میں چار دیواری نہیں کئی اسکولوں کی عمارتیں اس قدر خستہ حال ہیں کہ ان میں بیٹھنا بھی خطرناک ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کرنا نہ صرف مشکل بلکہ غیر محفوظ بھی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، جن کے لیے ٹوائلٹ اور چار دیواری انتہائی ضروری ہیں سندھ میں ایک اور بڑا مسئلہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد ہے مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 78 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ اس کی وجوہات میں غربت، سماجی مسائل، اسکولوں کی کمی اور تعلیم کے بارے میں شعور کی کمی شامل ہیں دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی خراب ہےکئی جگہ اسکول موجود تو ہیں مگر ان کی عمارتیں تباہ حال ہیں۔ کہیں بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں، اور کہیں اسکولوں کی عمارتیں دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اگرچہ سندھ حکومت ہر سال تعلیم کے لیے بڑا بجٹ مختص کرتی ہے، اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 400 ارب روپے سے زائد رقم تعلیم کے لیے رکھی گئی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ نتائج کیوں نظر نہیں آتے؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی نااہلی اور کرپشن ہےتعلیمی ماہرین کے مطابق اگر سندھ میں تعلیم کو بہتر بنانا ہے تواسکولوں کو فعال کرنا، اساتذہ کی کمی پوری کرنا، بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور جدید تدریسی طریقے متعارف کرانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں میں شفافیت اور ان کی کارکردگی کی نگرانی بھی لازم ہےہم سب کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیں، انہیں اسکول بھیجیں اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے آواز اٹھائیں۔ میڈیا، سماجی تنظیموں اور دانشوروں کو بھی شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سندھ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ دھرتی علم و ادب کی عظیم شخصیات پیدا کرتی رہی ہے۔ اگر آج بھی تعلیم کو ترجیح دی جائے تو مستقبل میں سندھ کا نوجوان نسل بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں کی موجودہ حالت یقیناً تشویشناک ہے، مگر اگر حکومت، ادارے اور عوام سنجیدگی سے مل کر کام کریں تو اس صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو قوموں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتی ہے

سندھ میں اسکولوں کی حالت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us