Banner

علم، فن اور ادب کی تابندہ روشنی شیریں گل رانا

featured
Share

Share This Post

or copy the link

منشاقاضی
حسبِ منشا

دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو علم کے چراغوں سے روشنی پھیلاتی ہیں اور محبت کے لہجوں سے دلوں کو منور کرتی ہیں۔ محترمہ شیریں گل رانا انہی نفیس، شفیق اور علم و فن کی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھنے والی شخصیات میں سے ہیں۔ وہ ایک ایسی معلمہ، مصنفہ، شاعرہ اور فنکارہ ہیں جن کی ذات میں محبت، علم، فن اور تہذیب ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کی شخصیت علم و احساس، فن و تخلیق، اور روح و دل کے حسین امتزاج کی آئینہ دار ہے۔ شیریں گل رانا کا تعلق اس نسلِ اساتذہ سے ہے جن کے نزدیک تدریس محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت ہے۔ وہ اپنی شاگردوں کے لیے ایک رہنما، ایک ماں جیسی مربیہ، اور ایک دوست کی صورت ہیں۔ ان کی تعلیم ایم اے اسلامیات اور بی ایڈ ہے، اور انہوں نے ڈی پی ایس (Divisional Public School) میں بیس سال تک اپنی خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں انہوں نے نہ صرف علم کی شمعیں روشن کیں بلکہ اخلاق و کردار کی تعمیر بھی کی۔ ان کے شاگرد آج بھی ان کے ذکر کو عقیدت، محبت اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتی ہیں، ان کی شاگرد ان کے قدم بوسی کو موجود ہوتی ہیں — یہ وہ روحانی ناتا ہے جو صرف ایک عاشقِ علم معلمہ ہی پیدا کر سکتی ہے۔ شیریں گل رانا کی شخصیت کا دائرہ تدریس سے کہیں آگے بڑھ کر فنونِ لطیفہ تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے خانۂ فرہنگِ ایران ، لاھور سے خطاطی اور فارسی بول چال میں مہارت حاصل کی اور تین سالہ کورسز مکمل کیے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے عربی بول چال کے تین کورسز اور دعوۃ اکیڈمی سے تفہیمِ قرآن کے تین سالہ کورسز پاس کیے جوکہ ان کی علمی جستجو، ذوقِ مطالعہ، اور روحانی وابستگی کی علامت ہے۔
شیریں گل رانا نہ صرف ایک معلمہ بلکہ ایک ہمہ جہت فنکارہ بھی ہیں۔ انہوں نے کوکنگ، بیکنگ، چائنیز اور کانٹیننٹل، گلاس فلاورز، کینڈل میکنگ اور ایمبرائیڈری جیسے فنون میں کمال حاصل کیا۔ ان کی زندگی علم و فن کے رنگوں سے بھری ہوئی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ علم صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ زندگی کے ہر پہلو سے حاصل ہوتا ہے۔ ادبی دنیا میں ان کا نام بطور شاعرہ نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کے تین شعری مجموعے ’’میرے سنگ چلو‘‘ (2002)، ’’میرے اپنے یہ سنو‘‘ (2008) اور ’’میرے لیے کہو تم‘‘ (2011) اردو شاعری میں خلوص، احساس اور نسائی لطافت کا حسین مرقع ہیں۔ ان کے اشعار میں دل کی دھڑکن، روح کی خوشبو، اور زمانے کے دکھوں کی نرمی ایک ساتھ بولتی ہے۔ وہ درد کو گیت بناتی ہیں، محبت کو فلسفہ، اور خاموشی کو معنی عطا کرتی ہیں۔
سن 2016 میں ان کی نثر کی دنیا میں ایک منفرد کتاب منظرِ عام پر آئی ۔ ’’میرے اپنے‘‘ ۔ یہ کتاب خاکہ نگاری کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جس میں 1970 اور 1980 کی دہائی کے چوک وزیر خان، لاہور کے کرداروں، گلیوں، بازاروں اور تہذیبی رنگوں کی جھلکیاں اس انداز میں پیش کی گئی ہیں کہ قاری خود کو ان کرداروں کے بیچ محسوس کرتا ہے۔ ان کے قلم نے ماضی کی وہ خوشبو قید کر لی جو اب رفتہ رفتہ مٹتی جا رہی ہے۔ ان خاکوں میں محبت، خلوص، محنت اور انسانی رشتوں کی گرمی محسوس کی جا سکتی ہے، گویا لاہور کی قدیم تہذیب ان کے لفظوں میں سانس لیتی ہے۔ آج کے زمانے میں، جب ادب آن لائن دنیا میں منتقل ہو چکا ہے، محترمہ شیریں گل رانا بھی اس تبدیلی کا مثبت چہرہ ہیں۔ وہ آن لائن عالمی مشاعروں میں بھی نہ صرف شرکت کرتی ہیں بلکہ اکثر صدارت کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔ ان کا لہجہ نرم، بات عالمانہ، اور طرزِ بیان میں وہ مٹھاس ہے جو سامع کے دل میں دیر تک گونجتی رہتی ہے۔ شیریں گل رانا کی ذات علم، عمل، اور محبت کا حسین سنگم ہے۔ وہ ایک ایسی معلمہ ہیں جن کے ہونٹوں پر دعا، دل میں محبت، اور آنکھوں میں روشنی ہے۔ وہ اپنی زندگی سے یہ درس دیتی ہیں کہ علم محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں، بلکہ روح کی بیداری کا سفر ہے۔ ان کی شخصیت کا فلسفہ سادہ مگر عمیق ہے۔ ”سیکھو، سکھاؤ، اور ہر دن کو علم و محبت سے بھر دو۔“ شیریں گل رانا کی زندگی اس فلسفے کی عملی تفسیر ہے۔ ان کے وجود سے روشنی پھوٹتی ہے، اور ان کا ہر لفظ، ہر عمل، اور ہر مسکراہٹ علم و محبت کا پیغام دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی شاگردوں کے دلوں میں ایک روشن چراغ کی مانند زندہ ہے — جو وقت کے اندھیروں میں بھی علم و محبت کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ شیریں گل رانا کے ہاں زندگی ایک مسلسل تعلیم، تخلیق اور خدمت کا نام ہے۔ اُن کی زندگی کا ہر باب اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب علم، محبت، فن اور روحانیت ایک وجود میں جمع ہو جائیں تو ایک ایسی شخصیت سامنے آتی ہے جو خود شناسی کی پیکر متحرک کی صورت اختیار کر جاتی ہے ۔ دو علمی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔ موصوفہ کے چاروں بچے اعلیٰ تعلیمی امتیازات سے متصف ہیں اور گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ شیریں گل رانا کے شوہر کرنل رانا محمد اکرم مرحوم بلوچستان میں ایڈیشنل کمشنر کے عہدہ ء جلیلہ پر فائز رہ چکے ہیں ۔

علم، فن اور ادب کی تابندہ روشنی شیریں گل رانا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us