Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع’جے یو آئی سینیٹر کے گھر پر 40 افراد کا حملہ، خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا‘الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات روکنے کافیصلہ

ذہنی سکون کی جانب ایک پُرسکون سفر کی روداد

منشا قاضی
حسبِ منشا

روزمرہ زندگی کی تیز رفتاری، مسلسل مصروفیات، پیشہ ورانہ دباؤ اور ذہنی تھکن کے اس دور میں جہاں انسان جسمانی آرام کے باوجود ذہنی سکون کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے، وہیں Constructive Thinkers Network (CTN) نے ذہنی آسودگی، خود آگہی اور مثبت طرزِ زندگی کے فروغ کے لیئے ایک منفرد اور بامقصد سرگرمی کا اہتمام کیا ہے۔
سی ٹی این میں منعقدہ یہ خصوصی سیشن طلبہ، پیشہ ور افراد، ممبران کے لیئے ایک ایسی پُرسکون ساعت فراہم کرنے کی کوشش تھی جس میں انسان چند لمحوں کے لیے دنیا کی ہنگامہ خیزی سے کنارہ کش ہو کر اپنے باطن کی آواز سن سکے۔ جس میں شرکاء کو ذہنی تناؤ سے نجات، خود کو پرسکون کرنے اور زندگی کے معمولات میں سکون و توازن پیدا کرنے کے لیئے مراقبے اور ذہنی یکسوئی کی مشقوں سے روشناس کرایا گیا۔ پروگرام کا مرکزی خیال ہی اس کی معنویت کو واضح کرتا ہے کہ کبھی کبھی انسان کو آگے بڑھنے کے لیئے چند لمحوں کے لیئے رکنا بھی پڑتا ہے؛ شور سے دوری اختیار کر کے خاموشی میں اپنے وجود سے ملاقات کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ سی ٹی این
کی اس سرگرمی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے محض روایتی لیکچر یا رسمی نشست تک محدود نہیں رکھا گیا بلک ’’Fun-Filled Therapeutic Relaxing Meditation Session‘‘ کے تصور کے تحت اسے ایک خوشگوار، دوستانہ اور عملی تجربے کی شکل دی گئی۔ اس کا مقصد شرکاء کو ذہنی دباؤ کے بوجھ سے عارضی نجات دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ احساس بھی دینا ہے کہ سکون کوئی دور کی منزل نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر موجود ایک کیفیت ہے، جس تک توجہ، سانس، خاموشی اور خود آگہی کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس بامقصد پروگرام کی میزبانی اور رہنمائی CTN کے چیئرمین مسعود علی خان کر رہے تھے، جن کی قیادت میں Constructive Thinkers Network مختلف فکری، سماجی، تعلیمی اور معاشرتی موضوعات پر مکالمے اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیئے سرگرمیاں منعقد کرتا رہا ہے۔ ان کی جانب سے CTN کے تمام ایگزیکٹو ممبران، ان کے اہلِ خانہ اور مہمانوں کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ، جبکہ پروگرام کو طلبہ، پروفیشنلز اور خاندانوں کے لیئے بھی ایک مفید اور صحت بخش موقع قرار دیا گیا ۔
سیشن کی Moderator محترمہ شمیلہ ارم تھیں، جو Clinical Psychologist، CBT اور DBT Practitioner، NLP Life Coach، Hypnotherapist، Reiki Master اور Meditation Healer کی حیثیت سے ذہنی و جذباتی بہبود کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہونے والے اس سیشن میں ذہنی سکون اور خود آگہی کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مسعود علی خان کے سوالات اور شمیلہ ارم کے جوابات میں اثبات ہی اثبات تھا ۔ مثبت سوچ اور پاکیزہ خیالات اجسام و ابدان کو مسرتوں سے بھر دیتا ہے ۔ مصطفٰی کمال پاشا جیسے اینکر ، شہر یار خان اور نسلِ نو کی نمائندہ قیادت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ مسعود علی خان نے مراقبے کے ذریعے ذہنی یکسوئی، اپنے جذبات اور خیالات کا مشاہدہ، اندرونی تناؤ کو کم کرنے اور لمحۂ موجود میں توجہ مرکوز کرنے جیسے موضوعات اس نوعیت کی سرگرمی کے اہم پہلو سمجھے جاتے ہیں۔ سی ٹی این
کی جانب سے اس پروگرام کو محض ایک تقریب نہیں بلک ’’Recharge Yourself‘‘ کے پیغام کے ساتھ ایک مثبت تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جدید زندگی میں موبائل فون، سوشل میڈیا، مسلسل معلومات، دفتری ذمہ داریوں اور سماجی تقاضوں نے انسان کے ذہن کو لمحہ بھر کے لیے بھی خالی رہنے نہیں دیا۔ ایسے ماحول میں ’’Unplug Your Mind & Relax‘‘ کا تصور علامتی طور پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے—یعنی کچھ دیر کے لیے بیرونی دنیا سے رابطہ کم کر کے اپنے اندر کے جہان سے رابطہ استوار کیا جائے۔
پروگرام کے آخر میں شرکاء کے لیے پرتکلف چائے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس طرح سیشن کے اختتام پر غیر رسمی ملاقات، باہمی گفتگو اور دوستانہ ماحول میں وقت گزارنے کا موقع بھی میسرآیا۔۔ پرتگال قونصلیٹ جنرل افتخار فیروز کے انکسار میں ایک وقار اور افتخار تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ مسعود علی خان چیئرمین سی ٹی این کے وہ دوست ہیں ، حفظِ مراتب کے تکلفات میں وہ نہیں پڑتے وہ ہمہ تن گوش تھے ۔ جنرل محمد مقبول TAC کے سربراہ کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی آپ ملت پاکستانیہ کے محسن ہیں جو ہماری آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کر رہے ہیں اور مستقبل کے معمار تیار ہو رہے ہیں ، مسعود علی خان ماضی سے نکال کر حال میں لاتے ہیں اور مستقبل کے تفکرات سے نجات دلاتے ہیں ، جاوید اقبال کارٹونسٹ جو قلزم کو قطرے میں انڈیلنے کے ہنر سے آشنا ہیں، سی ٹی این فورم کے ایگزیکٹیو اراکین سینئر وائس چیئرمین میجر مجیب آفتاب جو خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں ، محترمہ عذرا مجیب تعلیمی سائنسدان ، برگیڈیئر عرفان علی خان نقابت اور خطابت کے بے تاج بادشاہ ، فیاض احمد سیاحت کی دنیا کے عجوبہ ء روزگار مسافر ، انجینئر شائلہ صفوان کا وجدان جاگ رہا تھا ان سب نے مسعود علی خان کی اس کاوش کو سراہا اور خوب داد دی ۔ سی ٹی این
کے اس پروگرام کی معنویت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر صرف بڑے منصوبوں، علمی مباحث اور پیشہ ورانہ کامیابیوں سے نہیں ہوتی بلکہ ایک متوازن، پُرسکون اور مثبت ذہن بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر انسان اپنے ذہن کو مسلسل تھکن، اضطراب اور بے ترتیبی سے محفوظ رکھ سکے تو اس کی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، تعلقات اور اجتماعی کردار بھی بہتر سمت اختیار کر سکتے ہیں۔
’’Unplug Your Mind & Relax‘‘ دراصل اسی ضرورت کی طرف ایک خوبصورت اشارہ ہے کہ زندگی کی دوڑ میں خود کو بھول جانا کامیابی نہیں؛ کبھی اپنے لیے چند لمحے نکالنا، خاموش بیٹھنا، گہری سانس لینا اور اپنے باطن سے ہم کلام ہونا بھی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے یہ کاوش اسی شعور کو ایک اجتماعی تجربے میں ڈھالنے کی کوشش ہے—جہاں ذہن کو وقفہ، دل کو سکون اور شخصیت کو تازگی کا ایک نیا احساس میسر آ سکے ۔ یہاں اگر سید ثقلین عباس شاہ اور حاکم علی کی فرض شناسی کی بلائیں نہ لی جائیں تو کوئی ناانصافی ہو گی ، جن کے انتظامات میں حُسن ، سلیقہ اور قرینہ ماحول میں چاندنی بکھیر میں رہا تھا میں شمیلہ ارم کی کاوش کو سراہتے ہوئے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *