Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیمصنوعی ذہانت (AI) – ابتدا، حال اور مستقبلچراغِ علم سے روشن ہوتی نسلیں پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ کی تعلیمی خدمات اور طالبات کی تربیتنصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجروہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری، منصوبے پر ایک ارب 27 کروڑ روپے لاگت آئے گیکوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لیکوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیمصنوعی ذہانت (AI) – ابتدا، حال اور مستقبلچراغِ علم سے روشن ہوتی نسلیں پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ کی تعلیمی خدمات اور طالبات کی تربیتنصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجروہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری، منصوبے پر ایک ارب 27 کروڑ روپے لاگت آئے گیکوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکوئٹہ تا چمن پسنجر ٹرین فوری بحال کی جائے،اسلم اچکزئی14 سالہ اسد عاطف نے انڈر 14 نیشنل پیڈل چیمپئن شپ جیت لی

لوگ 80 کی دہائی کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں؟

ایس ایم مرموی

آج کل سوشل میڈیا پر 80 کی دہائی کی پرانی تصویریں بڑی تعداد میں شیئر کی جا رہی ہیں۔کوئی پرانی گلیوں کو یاد کر رہا ہے کوئی سادہ زندگی کو کوئی اُس زمانے کی چیزوں کو اور کوئی اُس دور کے سکون کو شاید ان تصویروں کے ذریعے ایک خاموش پیغام دیا جا رہا ہے کہ موجودہ دور کی چمک دمک کے باوجود زندگی پہلے زیادہ آسان سادہ اور قابلِ برداشت محسوس ہوتی تھی یہ صرف پرانی تصویروں کی محبت نہیں شاید موجودہ حالات سے پیدا ہونے والی بے چینی کا اظہار بھی ہے آج سہولتیں بے شمار ہیں ٹیکنالوجی ہاتھ میں ہے۔دنیا چند لمحوں میں انگلیوں کے نیچے آ گئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی کا سکون بھی اسی رفتار سے بڑھا ہے؟
جب بنیادی ضروریات مہنگی ہو جائیں، روزگار مشکل ہو۔بجلی اور پٹرول کے بل زندگی کا حساب بگاڑ دیں اور عام آدمی مستقبل کے بارے میں پریشان ہو تو اسے ماضی کی سادگی بھی جنت محسوس ہونے لگتی ہےممسئلہ صرف کسی ایک دہائی کا نہیں۔مسئلہ نظامِ حکمرانی عوامی ترجیحات اور مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کا ہے عوام کو تصویروں میں ماضی نہیں چاہیے، انہیں آج اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل، باعزت روزگار، سستی بنیادی ضروریات اور انصاف چاہیے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام پر بوجھ ڈال کر صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ حالات مشکل ہیں عوام آخر کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے اور اقتدار کے ایوان کب تک اپنی آسائشیں برقرار رکھیں گے؟اگر آج کا دور لوگوں کو بار بار ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے تو ان تصویروں کو صرف نوستیلجیا سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے یہ شاید عوام کی طرف سے موجودہ حالات پر ایک خاموش مگر واضح تبصرہ ہے
سوشل میڈیا پر آج کل 80 کی دہائی کی تصویروں کی بھرمار پرانی گلیاں، سادہ گھر، سائیکلیں، لکڑی کی چارپائیاں، بازاروں کے پرانے مناظر، اسکول کے بچے محلے کی بیٹھکیں اور وہ زندگی جس میں وسائل کم تھے مگر شاید خواہشیں بھی اتنی بے قابو نہیں تھیں لوگ ان تصویروں کو صرف یادگار سمجھ کر شیئر نہیں کر رہے ان کے پیچھے ایک خاموش سوال بھی چھپا ہوا ہےآخر ہم نے ترقی کے نام پر کیا حاصل کیا اور کیا کھو دیا یہ عجیب زمانہ ہے کہ انسان چاند تک پہنچ گیا مگر عام آدمی اپنے گھر کے چولہے تک پہنچنے والی گیس، بجلی کے بل اور بچوں کی فیس کے حساب میں الجھ گیا موبائل فون نے دنیا کو جیب میں ڈال دیا مگر مہنگائی نے جیب خالی کر دی سہولتیں بڑھ گئیں مگر سکون زندگی سے غائب ہوگیا۔ 80 کی دہائی کوئی مثالی دور نہیں تھا اُس زمانے کے اپنے مسائل اپنی پابندیاں اور اپنی مشکلات تھیں لیکن آج جب لوگ پرانی تصویروں میں واپس جاتے ہیں تو شاید وہ حقیقتاً 80 کی دہائی نہیں ڈھونڈ رہے ہوتے۔وہ اپنی زندگی سے وہ سکون تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو انہیں آج کے دور میں کم محسوس ہوتا ہے اصل سوال یہ نہیں کہ 80 کی دہائی اچھی تھی یا بری اصل سوال یہ ہے کہ آج کا پاکستان اپنے عام شہری کو کیا دے رہا ہے کیا ایک مزدور اپنے بچوں کی تعلیم آسانی سے جاری رکھ سکتا ہے؟ کیا متوسط طبقہ بیماری، بجلی کرایے۔بچوں کی فیس اور روزمرہ اخراجات کے بعد کچھ بچا سکتا ہے؟ کیا نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کی امید رکھ سکتا ہے؟ کیا کاروبار کرنے والا کل کے بارے میں مطمئن ہے اور اگر ان سوالوں کے جواب پریشان کن ہیں تو پھر حکمرانوں کو سوشل میڈیا پر 80 کی دہائی کی تصویروں سے ناراض ہونے کے بجائے ان تصویروں کے پیچھے چھپی عوامی نفسیات کو سمجھنا چاہیے لوگ ماضی کی تصویریں اس لیے نہیں لگا رہے کہ انہیں دوبارہ پرانی سائیکلیں، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی یا وہی بازار چاہیے وہ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی زندگی چاہیے جس میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان انسان بھی زندہ رہے ہمیں ایسی ترقی نہیں چاہیے جس کے اعداد و شمار تو بڑھتے جائیں مگر عام آدمی کا سکون گھٹتا جائے ہمیں ایسی جمہوریت بھی نہیں چاہیے جس میں اقتدار بدلتا رہے مگر عوام کی مشکلات وہیں کھڑی رہیں۔ چہرے نئے ہوں نعرے نئے ہوں جماعتیں نئی صف بندی کریں زبردستی کے نئے صوبے بنانے کی ضد ہو مگر غریب کی زندگی میں تبدیلی صرف بجلی کے بل، پٹرول کی قیمت اور اشیائے ضروریہ کے نرخ میں آئے تو پھر عوام آخر کس تبدیلی پر یقین کریں؟
حکمرانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عوام ہمیشہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج نہیں کرتے کبھی وہ ووٹ سے جواب دیتے ہیں کبھی خاموشی سے، اور کبھی صرف ماضی کی تصویریں شیئر کرکے حال پر ماتم کرتے ہیں یہ تصویریں دراصل ہماری اجتماعی یادداشت کا آئینہ ہیں یہ صدائے احتجاج بھی ہے اگر آج کا شہری اپنے ماضی کو زیادہ خوبصورت سمجھنے لگا ہے تو شاید ہمیں ماضی کو نہیں حال کو درست کرنے کی ضرورت ہے اقتدار عارضی ہے عوام مستقل ہیں کرسی چند سال کی ہے مگر قوم کی زندگی نسلوں پر محیط ہوتی ہے اس لیے حکمرانوں سے ایک ہی سوال ہے آپ عوام کو ماضی کی تصویریں کیوں پسند آنے دے رہے ہیں ایسا حال کیوں نہیں بنا رہے جس کی تصویریں آنے والی نسلیں فخر سے شیئر کریں اللہ ہمارے ملک کے عوام کو ظلم ناانصافی، بدعنوانی اور استحصال سے نجات دے اور ہمیں ایسا نظام نصیب کرے جہاں اقتدار چند خاندانوں گروہوں یا مفادات کا کھیل نہیں بلکہ واقعی عوام کی خدمت کا ذریعہ ہو۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *