Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہپاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہ

یعقوب بن اسحاق الکندی، عقل فلسفہ اور تاریخ کا جبر

محترم قارئین، عرب دنیائے علم و دانش اور اسلامی فکری تاریخ کے اُفق پر ابھرنے والا وہ پہلا تابناک ستارہ یعقوب بن اسحاق الکندی تھا، جسے دنیا تاریخ کے صفحات میں “عرب کا پہلا فلسفی” تسلیم کرتی ہے۔ بغداد کی پرسکون علمی فضاؤں اور بیت الحکمہ کے سنہری ایام میں جب عقل و استدلال کی شمع روشن کی جا رہی تھی، تو الکندی عباسی خلیفہ المامون اور المعتصم کا استاد اور اس معتبر علمی ادارے کا سب سے بڑا اور تابندہ دماغ بن کر ابھرا۔ اس عظیم عباسی دور میں اس نے نہ صرف یونانی فلسفے اور سائنس کی نوادر تصانیف کو عربی زبان میں ترجمہ کر کے اسلامی فکر کے ڈھانچے میں ڈھالا، بلکہ ریاضی، طب، نجوم، موسیقی اور منطق کے میدانوں میں 240 سے زائد شاہکار کتابیں تخلیق کیں۔ تاہم علمی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ فکر و نظر کے راستے ہمیشہ اقتدار اور درباری مفادات کی زد میں رہتے ہیں۔ وہ یعقوب بن اسحاق الکندی – عرب کا پہلا فلسفی تھا۔تاریخ کے سینے میں محفوظ یہ تلخ واقعہ جس شدت اور روایت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، آپ نے جو سزا سنی ہے وہ بالکل تاریخ میں لکھی ہے، لیکن تھوڑا نمک مرچ لگا کر مشہور ہوئی ہے۔ اصل سچائی اور روایات کا امتزاج یہ بتاتا ہے کہ المعتصم کے بعد جب خلیفہ المتوکل عباسی مسندِ اقتدار پر متمکن ہوا، تو وہ ایک سخت مزاج، قدامت پسند اور شدید فلسفہ دشمن حکمران ثابت ہوا۔ اصل واقعہ: الکندی عباسی خلیفہ المامون اور المعتصم کا استاد تھا – بیت الحکمہ کا سب سے بڑا دماغ۔ اس نے یونانی فلسفہ عربی میں ترجمہ کیا، 260 کتابیں لکھیں۔ پھر خلیفہ آیا المتوکل – سخت مزاج، فلسفہ دشمن۔ الکندی معتزلہ تھا – کہتا تھا عقل وحی سے بڑی ہے۔ دربار کے ملاؤں نے خلیفہ سے کہا “یہ کافر ہے۔” المتوکل نے حکم دیا، 1 اس کی لائبریری ضبط کر لو 2۔ اسے 60 کوڑے مارو 3۔ اور ہر کوڑے سے پہلے اس کی اپنی کتاب اس کے سر پر مارو تاکہ اسے پتہ چلے کہ یہی کتابیں اسے مروا رہی ہیں۔ مشہور معروف فرانسیسی مستشرق اور مورخ ہنری کوربن لکھتا ہے: 873 میں الکندی بغداد میں اکیلا، غریب، مار کھا کر مرا۔ اس کے بیٹے نے لائبریری واپس خریدی۔مفکرین اور آزاد خیال فلسفیوں پر ہونے والے مظالم کا یہ تسلسل صرف بغداد اور مشرقی خلافت تک محدود نہیں رہا بلکہ تاریخ نے خود کو اندلس کی سرزمین پر بھی اسی سنگدلی کے ساتھ دہرایا۔ اسی سے ملتا جلتا دوسرا واقعہ, اندلس میں ابن رشد کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 1195 میں خلیفہ المنصور نے کہا “اس کی کتابیں مسجد کے صحن میں جلاؤ، اور اسے جامع مسجد قرطبہ کے ستون سے باندھ دو، ہر نمازی آتے جاتے اس کے منہ پر تھوکے اور اس کی کتاب اس کے سر پر مارے۔” یہ سزا اس لیے تھی کہ اس نے کتاب لکھی تھی “تہافت التہافت” – جس میں اس نے کہا تھا کہ فلسفہ اور شریعت میں ٹکراؤ نہیں۔ دربار کو پسند نہیں آیا۔ اقتدار کا یہ وہ جابرانہ اور الم ناک رویہ تھا جس نے عقل، برہان اور سچائی کو ہمیشہ زبردستی خاموش کرنے کی کوشش کی۔ان ہولناک مظالم اور تاریخی سزاؤں پر اگر گہرا تجزیہ کیا جائے تو ایک بڑا فکری سوال ابھرتا ہے کہ فلسفہ کیا ہے اس سزا میں؟ دربار ہمیشہ فلسفی کو اسی کی کتاب سے مارتا ہے – تلوار سے نہیں۔ کیونکہ دربار جانتا ہے کہ تلوار سے آدمی مرتا ہے، کتاب سے نظریہ مرتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سچ اور ازلی انصاف یہی ہے کہ حاکموں کی سیاسی طاقتیں اور جابرانہ احکامات عارضی ثابت ہوتے ہیں جبکہ علم اور فکر کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ الکندی کو اس کی کتاب سے مارا، لیکن کتاب نہیں مری۔ آج ہم الکندی کو جانتے ہیں، المتوکل کو کوئی نہیں جانتا۔ زمان و مکان کی سرحدیں عبور کر کے الکندی اور ابن رشد کے افکار آج بھی دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں اور علمی ایوانوں میں زندہ و جاوید ہیں، جبکہ ان پر مظالم ڈھانے والے جابر خلیفہ صرف تاریخ کے سیاہ اور بھولے بسرے اوراق کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *