Banner

ام رباب چانڈیو کے والد دادا چاچا کا قاتل کون

featured
Share

Share This Post

or copy the link

قاتل ظالم طاقتور جیت گیا مظلوم مقتول انصاف ہار گیا پاکستان کی عدالتی تاریخ کا انوکھا فیصلہ دن دہاڑے تین قتل ہونے والے افراد کے قتل میں نامزد اٹھ ملزمان میں سے کسی کو سزا نہیں دی گئی بلکہ باعزت بری کر دیا گیا عدالتی نظام پر سوالیہ نشان 17 جنوری 2018 کو صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں جاگیرداری نظام کے خلاف اواز بلند کرنے پر ام رباب چانڈیو کے دادا والد اور چچا کریم اللہ چانڈیو مختار چانڈیو قابل چانڈیو کو تقریبا ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے بڑی بے دردی سے قتل کر دیاملزمان کے باثر ہونے اور سیاسی پشت پناہی کی بدولت چھ ماہ تک ایف ائی ار درج نہ ہو سکی اپنے خاندان کے تین افراد اور بڑوں کے قتل ہونے کی دادو سندھ اور پاکستان کی جرات مند بہادر حوصلہ مند بیٹی ام رباب نے اواز بلند کرنا شروع کی سپریم کورٹ رجسٹری میں اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ اف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی کے سامنے لیٹ کر احتجاج کرنے پر جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا پیپلز پارٹی کے دو ایم پی اے بھائیوں سردار احمد خان چانڈیو برہان خان چانڈیو ایس ایچ او کریم چانڈیو سمیت اٹھ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا سپریم کورٹ کے حکم پر اعلی سطح کی تحقیقاتی جی ائی ٹی بنائی گئی جے ائی ٹی میں قتل کے وقوعہ کچھ ملزمان کی موجودگی اسلحہ فائرنگ اور گاڑیوں کے استعمال کی تصدیق ہوئی نامزد ملزمان سے متعلق شواہد کی کمی کا ذکر کیا گیا کیونکہ سپریم کورٹ میں ائی جی سندھ نے سیاسی مداخلت کا اعتراف کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے از خود نوٹس لینے اور تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ سنانے کے باوجود مقدمہ اٹھ سال مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا مقدمہ کی 392 یا 450 سماعتیں ہوئیں عدالت نے استغاثہ کے تین عینی شاہدین کے بیانات اور گواہی کو نظر انداز کیا اور تقریبا چھ ماہ کی تاخیر سے ایف ائی ار کے اندراج کۓ شک کا فائدہ بھی ملزمان کو دیا مقدمے میں ملوث اٹھ ملزمان میں سے چار ملزمان ضمانت پر رہا ہوئے اور چار ملزمان جیل میں رہے ام رباب چانڈیو اٹھ سال تک انصاف کی تلاش میں ننگے پیر عدالتوں کے چکر کاٹتی رہی تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے انصاف کی دہائی دیتی رہی اور الیکٹرانک پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنے ناحق قتل ہونے والے دادا والد اور چاچا کے ملزمان کو انصاف اور قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اواز بلند کرتی رہی گزشتہ روز دادو کی ماڈل ٹرائل عدالت نے فوجداری قوانین کے مطابق گواہ ثبوت اور شواہد کی کمی کی بنیاد پر تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا یہ عدالتی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا جس میں تین افراد قتل تو ہوئے لیکن قتل میں ملوث تمام ملزمان بری کر دیے گئے اور کسی ملزم کو سزا نہیں سنائی گئی جو عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کفر کا معاشرہ اور نظام قائم رہ سکتا ہے ظلم کا نظام نہی مجھے اس موقع پر شاکر شجاع ابادی کے چند جملے یاد اگئے خدایا خود حفاظت کر تیرا فرمان بک رہا ہے کہیں دین کا سودا کہیں ایمان بک رہا ہے فیصلے سے قبل عدالت کے چاروں اطراف کے دو کلومیٹر تک سخت سیکیورٹی کا حصار رہا 30 تھانوں کے ایس ایچ او چھ ڈی ایس پی اور 600 کے قریب پولیس اہلکار سکیورٹی پر مامور تھے جبکہ بری ہونے والے جاگیردار طاقتور ملزمان قانون کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے یہاں تک عدالت سے اسلحہ لہراتے ہوئے روانہ ہو کے جب کہ ملزمان اور الزام علیہ خان کے حامیوں نے ہوائی فائرنگ کر کے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ملزمان کا شاندار استقبال کیا جو ہمارے معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ مقدمہ کی مدعی ام رباب چانڈیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا میں اس فیصلے کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گی مجھے اللہ پاک پر بھروسہ ہے میں حسینی ہوں مجھے انصاف ملے گا ام رباب چانڈیو نے کہا میں جاگیرداری نظام کو نہیں مانتی اپنے مخالفین سے نہ گھبراؤں گی اور نہ ہی ڈروں گی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ اج کے عدالتی فیصلے نے جاگیر داروں کو لوگوں کو قتل کرنے کا لائسنس دے دیا ہے انصاف کے حصول تک میری جدوجہد جاری رہے گی راقم افتخار نتھی نے کہا ہے کہ میری صدر پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیراعلی سندھ گورنر سندھ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ دادو سندھ اور پاکستان کی بہادر بیٹی ام رباب کو انصاف فراہم کیا جائے کیوں کہ پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے یہ دنیا عارضی فانی ہے اور یہاں پر اقتدار اور اختیار بھی عارضی اور فانی ہیں اور اخرت میں اقتدار اور اختیار کا اللہ پاک کو جواب بھی دینا ہے ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمارا دین ہے اس کائنات کے خالق اور مالک اللہ پاک ظلم کو پسند نہیں کرتے ہمارا دین بھی ظلم کرنے اور ظالم کی سپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہم حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پیروکار ہیں حسین اور حسینیت ظلم کرنے کی اور ظالم کو سپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتی بلکہ حسین اور حسینیت حق سچ کی گواہی دینے کا نام ہے جبکہ اج اس فرق کو بھی واضح انداز میں سمجھنا ہوگا کہ یزید اور یزیدیت ظلم کا نام ہے اور ظلم کو سپورٹ کرنے کا نام ہے ملزمان طاقتور سردار اور پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور ان کے حواری ہیں اس مقدمے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو سیاسی مداخلت بھی بادی النظر میں نظر ارہی ہے ہمارے اقتدار میں بیٹھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں افسران کو طاقتور کی سپورٹ کرنے کی بجائے مظلوم کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے پہلی امتوں کی تباہی اور ناکامی کا سبب یہی تھا کہ اگر کوئی کمزور سے غلطی سرزد ہوتی تو اس کو سزا دی جاتی اور طاقتور کو چھوڑ دیا جاتا اج 2026 کے الیکٹرانک پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں بھی یہی ہو رہا ہے کمزور کو سزا دی جاتی ہے اور طاقتور کو بچا لیا جاتا ہے یہ روش اور سلسلہ انتہائی خطرناک اور اللہ پاک کی ناراضگی کو دعوت دینے کا عمل ہے ہم عدل و انصاف کی روح کے مطابق عمل کر کے دنیا اخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں ہم پاکستان کے ائین اور قانون کا احترام کرتے ہیں یقینا عدالت نے فوجداری قوانین گواہ ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہوگا لیکن 1906 کے فوجداری قوانین عدالتی نظام اور پولیس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے عدالت نے تہرے قتل کے اٹھ ملزمان کو بری تو کر دیا لیکن میرا سوال پولیس قانون نافذ کرنے والے اداروں وزیراعلی سندھ گورنر سندھ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور ریاست پاکستان سے یہ ہے ٹرائل کورٹ نے بھی تین افراد کے قتل ہونے کا اعتراف کیا ہے ان تین افراد کے قتل کا ذمہ دار کون ہے ان تین افراد کو کب کس وقت اور کس نے قتل کیا ان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے کیا قاتل ریاست اور صوبائی حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں تین افراد کے قتل میں اٹھ ملزمان تو شواہد کی کمی کی بدولت بری ہو گئے لیکن تین افراد کو قتل کرنے والے قاتلوں کو زمین کھا گئی یا اسمان نگل گیا ریاست پاکستان اور سندھ حکومت ان قاتلوں کو تلاش کر کے ام رباب کو انصاف فراہم کرےتاکہ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو

ام رباب چانڈیو کے والد دادا چاچا کا قاتل کون

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us