Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
محکمہ کھیل بلوچستان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواستہرنائی میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، دو معصوم بچے جاں بحقکسٹم چیک پوسٹوں پر آٹے اور گندم کی گاڑیوں کو روکنا اور بھاری رشوت وصول کرنا بدترین کرپشن ہے ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹیکوئٹہ میں کمسن علی شاہ کے قتل کیس کا معمہ حل ہوگیافیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیممحکمہ کھیل بلوچستان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواستہرنائی میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، دو معصوم بچے جاں بحقکسٹم چیک پوسٹوں پر آٹے اور گندم کی گاڑیوں کو روکنا اور بھاری رشوت وصول کرنا بدترین کرپشن ہے ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹیکوئٹہ میں کمسن علی شاہ کے قتل کیس کا معمہ حل ہوگیافیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیم

پنجاب گیس بحران کی زد میں

پنجاب گیس بحران کی زد میں
تحریر: ندیم ملک

پنجاب ایک بار پھر گیس بحران کی شدید لپیٹ میں ہے۔ یہ مسئلہ اب وقتی نہیں رہا بلکہ ایک مستقل قومی چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گھریلو زندگی سے لے کر صنعتی پیداوار تک، ہر شعبہ اس بحران کے منفی اثرات محسوس کر رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اس مسئلے کی وجوہات کا جائزہ لیں بلکہ عالمی مفکرین، سیاستدانوں اور سائنسدانوں کے افکار کی روشنی میں اس کا پائیدار حل بھی تلاش کریں
گھریلو سطح پر گیس کی عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ صبح کے اوقات میں چولہے ٹھنڈے اور پریشان حال خواتین ایک عام منظر بن چکی ہیں۔ اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے برطانوی مفکر Francis Bacon کا قول یاد آتا ہے:
“Knowledge is power.”
اگر ہم اس قول کو موجودہ تناظر میں دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ توانائی بھی جدید دنیا میں طاقت کی علامت ہے۔ جس قوم کے پاس توانائی کے وسائل اور ان کا درست استعمال ہو، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکتی ہے
صنعتی شعبہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ پیداوار میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ملکی معیشت کو کمزور کر رہا ہے۔ اس حوالے سے سابق امریکی صدر Barack Obama کا ایک اہم بیان قابلِ غور ہے:
“We can’t just drill our way out of the energy problem.”
یعنی محض وسائل نکالنا ہی کافی نہیں، بلکہ ہمیں متبادل توانائی اور دانشمندانہ پالیسیوں کی ضرورت ہے
پاکستان میں گیس کے ذخائر محدود ہوتے جا رہے ہیں جبکہ طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں مشہور ماہرِ طبیعات Albert Einstein کا یہ قول نہایت معنی خیز ہے:
“We cannot solve our problems with the same thinking we used when we created them.”
یعنی ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے زاویوں سے سوچنا ہوگا۔ اگر ہم پرانی پالیسیوں پر ہی انحصار کرتے رہے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا
گیس کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بعض علاقوں میں وافر مقدار میں گیس دستیاب ہے جبکہ دیگر علاقے مکمل محرومی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر امریکی مفکر John Rawls کے نظریہ انصاف کا اطلاق ہوتا ہے، جن کے مطابق:
“Justice is the first virtue of social institutions.”
یعنی ریاست کی اولین ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اسی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے
توانائی بحران کے حل کے لیے متبادل ذرائع کی طرف جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ شمسی توانائی، ہوا اور بائیو گیس جیسے ذرائع نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ دیرپا بھی ہیں۔ اس حوالے سے امریکی موجد Thomas Edison کا وژن قابلِ ذکر ہے:
“I’d put my money on the sun and solar energy. What a source of power!”
یہ الفاظ آج کے حالات میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں، جب دنیا قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے پالیسی سازی میں سنجیدگی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے برطانوی وزیر اعظم Winston Churchill کا قول ہمیں رہنمائی فراہم کرتا ہے
“The empires of the future are the empires of the mind.”
یعنی مستقبل انہیں قوموں کا ہے جو علم، حکمت اور منصوبہ بندی کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہمیں بھی وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی
عوامی شعور کی بیداری بھی اس بحران کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ امریکی ماہر ماحولیات Amory Lovins کہتے ہیں:
“Energy efficiency is not just a technical issue; it’s a behavioral issue.”
یعنی توانائی کا مؤثر استعمال صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ عوامی رویوں کی تبدیلی سے ممکن ہے
اگر ہم مجموعی طور پر ان اقوال کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ گیس بحران کا حل کسی ایک اقدام میں نہیں بلکہ جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہوگا، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا، اور جدید سوچ کے ساتھ پالیسی سازی کرنی ہوگی
گیس بحران صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ قیادت، پالیسی اور اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے عالمی دانش سے سبق سیکھتے ہوئے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ بحران آنے والے وقتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے دانشمندی، دیانت داری اور اجتماعی کوشش کو اپنا شعار بنا لیا تو یقیناً ہم اس بحران پر قابو پا سکتے ہیں اور ایک روشن، مستحکم اور خود کفیل پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *