Banner

​ارگ سے زِندان تک افغان اقتدار کے خائن چہرے اور خونی سودے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمــــــــدخان اچکـــــــزئی

​ارگ سے زِندان تک افغان اقتدار کے خائن چہرے اور خونی سودے

محترم قارئین! افغانستان کی سرزمین صدیوں سے غیور اقوام کا مسکن رہی ہے مگر اس کی تاریخ کا سیاہ ترین پہلو وہ داخلی غداریاں اور مفاد پرستانہ سازشیں ہیں جنہوں نے بارہا اس ملک کو غیر ملکی استعمار کی چراگاہ بنایا۔ 2001ء میں جب امریکی فوجی دستے جنہیں او ڈی اے (ODA) ٹیموں کے نام سے جانا جاتا ہے افغانستان میں داخل ہوئے تو ان کا مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کٹھ پتلی انتظامیہ کا قیام تھا جو خطے میں امریکی مفادات کی نگہبانی کر سکے۔ اس دور کے المناک حقائق کئی واقعات اور تصاویر سے واضح ہوتے ہیں جہاں حامد کرزئی ایک نقشے پر امریکیوں کو اپنے ہی ہم وطنوں کے ٹھکانے دکھا رہے تھے۔ یہ محض ایک تصویر نہیں بلکہ اس پورے نظام کا استعارہ ہے جس میں اقتدار کی ہوس نے قومی غیرت کا سودا کیا۔ افغانستان کے جنوب میں حامد کرزئی، گل آغا شیرزئی اور جان محمد خان جیسے غداروں نے ڈالروں اور اقتدار کے عوض نہ صرف امریکی فضائیہ کو زمینی اہداف فراہم کیے بلکہ بن کانفرنس کے ثمرات سے پشتونوں کو محروم رکھنے کے لیے ان پر القاعدہ کے جھوٹے لیبل لگا کر انہیں گوانتانامو کے عقوبت خانوں میں پہنچایا۔ شمال میں یہی کردار عطا محمد نور، عبدالرشید دوستم اور بسم اللہ محمدی نے ادا کیا جنہوں نے شمالی اتحاد کے پلیٹ فارم سے غیر ملکیوں کی ہر اول دستے کا کام کیا۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو غداری کا یہ تسلسل شاہی دور سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ محمد ظاہر شاہ کے چالیس سالہ دور میں اگرچہ بظاہر امن تھا مگر اسی عہد میں وہ دراڑیں پڑیں جنہیں سردار داؤد خان نے اپنے خاندان کے خلاف بغاوت کر کے مزید گہرا کیا۔ داؤد خان نے اگرچہ جمہوریہ کی بنیاد رکھی مگر ان کی تذبذب کا شکار پالیسیوں نے کیمونسٹ عناصر کو پنپنے کا موقع دیا جس کا نتیجہ نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کی صورت میں نکلا جنہوں نے سوویت یونین کو افغانستان پر حملے کی کھلی دعوت دی۔ ببرک کارمل تو اس غداری کی علامت بن گئے جو روسی ٹینکوں پر سوار ہو کر کابل کے تخت پر براجمان ہوئے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے اگرچہ آخری وقت میں خود کو ایک قوم پرست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی مگر ان کا ماضی بھی خاد (KHAD) جیسی سفاک جاسوسی تنظیم کی سربراہی سے داغدار تھا جس نے ہزاروں افغانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ روسی انخلاء کے بعد مجاہدین کے نام پر آنے والے لیڈروں صبغت اللہ مجددی، برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار نے کابل کو اقتدار کی ہوس میں کھنڈر بنا دیا اور اسی افراتفری نے رشید دوستم جیسے کرداروں کو جنم دیا جنہوں نے کبھی نجیب، کبھی ربانی اور کبھی طالبان کے ساتھ وفاداریاں بدل کر ثابت کیا کہ ان کا کوئی دین ایمان نہیں بلکہ صرف طاقت اور پیسہ ہی ان کا قبلہ ہے۔ پیر سید احمد گیلانی اور عبدالرب رسول سیاف جیسے نامور مذہبی پیشواؤں نے بھی سیاسی مفادات کی خاطر بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دی۔ 2001ء کے بعد کا دور تو غداریوں کی ایک نئی داستان ہے جہاں اشرف غنی جیسے مغرب زدہ ٹیکنوکریٹ نے افغان معاشرت کی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ اشرف غنی کی حکومت میں کرپشن اس انتہا کو پہنچ گئی کہ فوج صرف کاغذوں تک محدود رہ گئی اور جب کابل پر دوبارہ طالبان کا سایہ لہرانے لگا تو یہی افغان مفکر چار گاڑیوں میں عوام کا پیسہ بھر کر فرار ہو گئے۔ ضلع بہ ضلع اور صوبہ بہ صوبہ اگر ان غداروں کی فہرست مرتب کی جائے تو قندھار میں گل آغا شیرزئی کے مظالم، ننگرہار میں مقامی ملکوں کی جاسوسی اور بلخ میں عطا محمد نور کی بادشاہت نے افغان ملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان حکمرانوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ غیر ملکی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے آلہ کار استعمال کرتی ہیں اور جب ضرورت ختم ہو جاتی ہے تو انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ افغانستان کی تاریخ ان تمام چہروں کو محفوظ کر چکی ہے جنہوں نے اپنی سرزمین کے نقشے غیروں کے سامنے پھیلائے اور اپنے بھائیوں کے خون کا سودا کیا۔ آج کا افغانستان ان تمام ناسوروں کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے مگر ماضی کے ان زخموں کو فراموش کرنا ممکن نہیں کیونکہ ان غداریوں کی قیمت افغان نسلوں نے اپنے لہو سے چکائی ہے۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور آنے والے مورخ جب بھی افغان المیے پر قلم اٹھائیں گے تو ان تمام ناموں کے سامنے خائن اور غدار کے القابات ضرور رقم ہوں گے جنہوں نے ذاتی جاہ و حشم کے لیے پوری ملت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی۔

​ارگ سے زِندان تک افغان اقتدار کے خائن چہرے اور خونی سودے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us