Banner

راحت کا سایہ کڑی دھوپ میں کیسے بدلتا ھے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

راحت کا سایہ کڑی دھوپ میں کیسے بدلتا ھے

شکیل گوندل

ایک اواز اتی ھے۔۔”حاجی جی حاجی جی”.
فورا ھی ابا جی مرحوم نے دو دفعہ “آیا بی بی جی” کہتے اور بچوں کی طرح دوڑ لگادیتے۔
ھمارا مکان نیا بنا تھا۔یہ پرانے مکان سے قریبا 5 انچ اونچا تھا۔ھمارے برامدے سے بی بی جی یعنی دادی جان کا برامدہ قریبا 300قدم کے فاصلے پر تھا۔ابا جی مرحوم وھاں تک بھاگتے ھوے جایا کرتے تھے۔دادی جان مرحومہ نے عموما کھانسی کا سیرپ پلمونول منگوانا ھوتا تھا۔انکی سیرپ یا کبھی کبھی فروٹ کی فرمائش ھوتی تھی تو ابا جی مرحوم لاتے تو تھے ھی مگر اپنی پیاری والدہ کی فرمائش پر نہال ھو جاتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انکی ھر قسم کی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے تھے۔جب اپنی فیملی کے ھمراہ انھیں سعودی عرب بلایا تو بہت زیادہ محبت اور احترام سے انھیں حج مبارک کی سعادت سے سرفراز کیا۔وھاں تین ماہ قیام میں انکی خوراک لباس کا خاص خیال رکھا۔حج کے دوران اپنی حفاظت میں انھیں طواف مکمل کرایا اور خوب دعائیں لیں جنکی بدولت اللہ کریم نے انھیں بے حد نوازا تھا۔ وفا شعار بیوی اور فرمانبردار اولاد روپیہ پیسہ وافر خاندان میں عزت وغیرہ اللہ کریم نے اسی خدمت اور محبت کے طفیل عطا فرمائی تھیں۔انکا یہ عمل ھمیں یعنی انکی اولاد کے لئیے مشعل راہ ھے۔ اپ کو اللہ کریم نے دو حج مبارکہ کی سعادت عطا فرمائی تھی۔
میں دل سے دعا گو ھوں کہ والد محترم کی مغفرت ھی نہیں بلکہ اللہ رب العزت دونوں ماں بیٹے کی ھی بخشش فرمائیں اور انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں۔۔امین۔مرحوم و مغفور والد صاحب 25 مئ 1996 کو جب اچانک رحلت فرما گئے تو یقین ھی نہیں اتا تھا کہ وہ ھم سے ھمیشہ ھمیشہ کے لئے جدا ھو گئے ھیں اور تمام معاملات اب ھمیں خود انکے بغیر سر انجام دینے ھوں گے۔اور مجھے اس موقع پر شدت سے یہ احساس جاگزیں ھوا کہ وہ شفیق اور سدا رفیق شخصیت صرف والد ھی نہیں تھے بلکہ والدہ مرحومہ اور ھم پانچوں بہنوں بھائیوں کے لئیے وہ پیش امدہ بے شمار اور کڑی دھوپ جیسے معاملات کی کامیاب اور خوبصورت معاملت میں ھم سب کے لئے راحت کا سایہ تھے۔ مگر انکی بالکل غیر متوقع اور اچانک وفات نے نہ صرف ھمارا دکھوں کے بحر بیکراں سے واسطہ پڑ گیا ساتھ ھی یہ احساس بھی جاگزیں ھو گیا “راحت کا *سایہ کڑی دھوپ میں کیسے بدلتا ھے ”
ابا جی مرحوم کو اپنے ابا جی یعنی ھمارے دادا جان اور اپنی امی جان جی(بی بی بی جی) یعنی ھمارے دادی جان کا دل و جان سے احترام اور خدمت کیا کرتے تھے۔انکا یہ عمل محض انکی ا پنی ذات تک ھی محدود نہیں رھا یہ ایسی لاشعوری تربیت تھی جو توارثی اثرات بن کر ھماری اولادوں میں ھماری کوششوں کے بغیر ایسی منتقل ھوئی ھے کہ اب ھمیں اپنے بچوں کو روائتی تربیت کے تحت نہیں سمجھانا یا بتانا پڑا۔ ماشاء اللہ ھم پانچوں بہنوں اور بھائیوں کے بچے بلا مبالغہ بطور والدین ھمارا دلی احترام کرتے ھیں اور اپنی حقیقی محبتوں سے ہم والدین کو سر شار کر دیتے ھیں۔اسے اللہ کریم کا خصوصی فضل و کرم ھی کہا جا سکتا ھے جو مکافات عمل کا نمونہ بن کر ھم پانچوں بھائی بہنوں کو ابا جی کے قیمتی ورثے کی شکل میں ھمیں میسر ھوا ھے۔ جو ھمیں بچوں کی لا شعوری فطرت اور شعوری کوششوں ک صورت میں سے انکی اور والدہ مرحومہ کی دعائے مغفرت کے لئے ہمیشہ مائل رکھتا ھے۔اللہ رب العزت ھمارے والدین کو جنت الفردوس میں اعلی ترین مقام عطا فرمائیں اور ھم جو انکی اولاد ھیں ھم سب کو انکے لئے حقیقی صدقہ جاریہ بنائیں۔امین۔

راحت کا سایہ کڑی دھوپ میں کیسے بدلتا ھے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us