Banner

امریکی مداخلت ۔بارود کی سیاست اور خونی سفر

featured
Share

Share This Post

or copy the link

امریکی مداخلت ۔بارود کی سیاست اور خونی سفر
محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام! تاریخ کے اوراق جب بھی عالمِ انسانیت کے زخموں کا حساب مانگیں گے، تو وہاں ایک ایسی طاقت کا نام جلی حروف میں لکھا ملے گا جس نے امن کا ماسک پہن کر جنگ کی تجارت کی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی عالمی مداخلت محض فوجی نقل و حرکت نہیں، بلکہ ایک ایسی داستان ہے جہاں جمہوریت کے خوابوں کو بارود کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔مداخلت کے بہانے اور لفظوں کا طلسم سے امریکہ نے جب بھی کسی خود مختار ملک کی سرحدوں کو پامال کیا، تو اس کے پاس الفاظ کا ایک خوبصورت گلدستہ ہوتا تھا۔ کبھی انسانی حقوق کی بحالی کبھی تباہ کن ہتھیاروں کا خاتمہ (WMDs)، تو کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ ویتنام کے گھنے جنگلوں سے لے کر عراق کے ریگزاروں تک، اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر لیبیا کی ساحلی پٹی تک ہر جگہ مداخلت کا جواز آزادی کو بنایا گیا، مگر نتیجہ ہمیشہ بربادی کی صورت میں نکلا ہے۔اسی سازشوں میں امریکہ کا فائدہ اور مفتوحہ ممالک کا زیاں اس خونی کھیل میں پوشیدہ ہے امریکہ کا فائدہ ہمیشہ معاشی بالادستی اور اسٹریٹجک گرفت رہا ہے۔ پیٹرو ڈالر کی حفاظت، قدرتی وسائل (خاص طور پر تیل اور گیس) پر قبضہ، اور اسلحہ ساز فیکٹریوں (Military-Industrial Complex) کے پہیے کو رواں رکھنا وہ اصل محرکات ہیں جو واشنگٹن کو جنگوں پر اکساتے ہیں۔دوسری طرف، جن ممالک میں مداخلت کی گئی، وہاں کی تصویر انتہائی دردناک ہے۔ عراق جو کبھی تہذیب کا گہوارہ تھا، آج کھنڈرات کا مجموعہ ہے۔ افغانستان کی تین نسلیں بارود کی بو سونگھتے جوان ہوئیں۔ شام اور لیبیا میں ریاست کا ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ ان ممالک کو کیا ملا؟ لاکھوں یتیم، کروڑوں مہاجرین، اپاہج وجود اور وہ گہرے نفسیاتی زخم جو صدیوں تک نہیں بھر پائیں گے۔آخر یہ
مداخلت کی پالیسی کیوں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ملک دوسرے خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں کیوں گھستا ہے؟ اس کی بنیاد یک قطبی دنیا (Unipolar World) کا وہ تکبر ہے جہاں امریکہ خود کو دنیا کا تھانہ دار تصور کرتا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محور یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی طاقت ابھرنے نہ پائے جو اس کے ڈالر یا اس کی سیاسی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔ اس کے لیے وہ رجیم چینج(حکومتوں کی تبدیلی) کا سہارا لیتا ہے، منتخب لیڈروں کو ہٹاتا ہے اور اپنے آلہ کار چہرے نصب کرتا ہے۔اسی طرح امریکہ کے قتلِ انسانیت کا ہولناک حساب بھی الگ ہے تاریخ کی روشنی میں اگر انسانی جانوں کا زیاں دیکھا جائے تو اعداد و شمار روح کو لرزا دینے والے ہیں۔ مختلف تحقیقاتی رپورٹس اور ‘کاسٹ آف وار’ جیسے منصوبوں کے مطابق، صرف نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 40 سے 60 لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ یہ صرف اعداد نہیں ہیں، یہ وہ انسان تھے جن کے خواب تھے، جن کے گھر تھے اور جن کا کسی عالمی سیاست سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج ڈرون حملوں کی صورت میں معصوم بچوں کی چیخوں تک جاری ہے۔
امریکہ کی یہ پالیسی دنیا کو امن نہیں بلکہ نفرت کا تحفہ دے رہی ہے۔ جب خود مختار ملکوں کی خود مختاری کو بوٹوں تلے روندا جاتا ہے، تو وہاں سے انصاف نہیں بلکہ انتقام جنم لیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سلطنت ظلم کی بنیاد پر ہمیشہ قائم نہیں رہی۔ آج دنیا کے منصفوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا “طاقتور کا حق” (Might is Right) ہی انسانیت کا مستقبل ہے؟ یا پھر ان سسکتی ہوئی تہذیبوں کو جینے کا حق ملے گا جنہیں صرف اس لیے اجاڑ دیا گیا کہ وہ کسی کی انا یا مفاد کی راہ میں حائل تھیں۔

امریکی مداخلت ۔بارود کی سیاست اور خونی سفر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us