Banner

بلوچستان کے مردِ درویش حضرت مولانا سید محمد صدیق شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یاد

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر عبد الغنی شہزاد

بلوچستان کے مردِ درویش حضرت مولانا سید محمد صدیق شاہ رحمۃ اللہ علیہ 1947 میں ریاستِ قلات کے ایک مذہبی و روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ نے ابتدائی تعلیم سوراب میں معروف قاری حافظ کرم اللہ کے مدرسے سے حاصل کی اور محض 9 سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول قلات سے میٹرک مکمل کیا، پھر مزید دینی و علمی تشنگی بجھانے کے لیے مستونگ، مطلع العلوم کوئٹہ اور قاسم العلوم ملتان کا رخ کیا جہاں آپ کو مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ جیسے عظیم استاد کی صحبت میسر آئی، اور بالآخر 1968 میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فراغت حاصل کی؛ فراغت کے بعد قلات واپس آکر آپ نے تبلیغی جماعت، تحریک ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام میں بیک وقت ذمہ داریاں سنبھالیں اور اپنی پوری زندگی دینی، سماجی اور سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کر دی، آپ نے نہ صرف مدارس و مساجد کے قیام اور دینی تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں جا کر دعوت و تبلیغ کے ذریعے ایک فکری بیداری پیدا کی، آپ کی شخصیت درویشی، اخلاص، استقامت اور مدبرانہ قیادت کا حسین امتزاج تھی، آپ نے جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا، کارکنان کی فکری تربیت کی اور سرداری نظام کے جبر کے مقابل ایک نظریاتی و عوامی مزاحمت کو جنم دیا، آپ کی سیاسی جدوجہد بھی اتنی ہی روشن تھی جتنی دینی خدمات، چنانچہ 1988 میں پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، 1990 میں دوبارہ اس اعزاز کو حاصل کیا جبکہ 1993 میں کوئٹہ-چاغی کی نشست پر محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے، 1984 سے لے کر دمِ وفات تک آپ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری رہے اور 14 مارچ 2002 کو ایک بار پھر اسی منصب پر منتخب ہوئے مگر صرف چھ دن بعد 20 مارچ 2002 کو داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے؛ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ دین کی سربلندی، قوم کی خدمت اور حق و صداقت کے علم کو بلند رکھنے کے لیے وقف رہا، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ اور تحریک بحالی جمہوریت جیسے اہم مراحل میں آپ نے جرات و استقامت کی لازوال مثالیں قائم کیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اصولوں سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے، آپ کی مخلصانہ گفتگو دلوں کو گرما دیتی تھی اور آپ کی دعوت لوگوں کے اندر نئی روح پھونک دیتی تھی، آپ نے ہزاروں طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کیا اور ایک ایسی فکری و تنظیمی میراث چھوڑ گئے جو آج بھی بلوچستان کے گوشے گوشے میں روشنی بکھیر رہی ہے، بظاہر 20 مارچ کا دن ایک عظیم چراغ کے گل ہونے کا دن ہے مگر حقیقت میں یہی چراغ آج بھی جھالاوان، ساراوان اور پورے خطے میں روشنی کا ذریعہ ہے، آپ کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ضرور تھی مگر آپ کی خدمات، افکار اور نظریاتی استقامت ہمیشہ اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی اور تاریخ گواہی دیتی رہے گی کہ مولانا سید محمد صدیق شاہؒ نے اپنی پوری زندگی ایسی شان، وقار اور خلوص کے ساتھ گزاری کہ وہ خود ایک زندہ و جاوید داستان بن گئے۔

بلوچستان کے مردِ درویش حضرت مولانا سید محمد صدیق شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یاد

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us