Banner

علی واہن سے متصل خاموش بستیاں اور تعلیم کا خوف

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر اسلم سومرو

بھارتی فلم 12th Fail کے اختتامی منظر میں ایک جملہ سنائی دیتا ہے: “تعلیم طاقتور لوگوں کے لیے خطرہ ہوتی ہے، کیونکہ ایک پڑھا لکھا انسان سوال کرنا سیکھ جاتا ہے۔”
یہ جملہ محض سینما کا مکالمہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی کئی خاموش بستیوں کی سچائی بھی ہے۔
اگر اس سچائی کو دیکھنا ہو تو روہڑی کے قریب واقع علی واھن سے متصل بھٹہ بستی اور اس کے ساتھ آباد چھوٹے گاؤں کا رخ کرنا پڑے گا۔ یہاں چوہان، بروہی، پٹھان اور دیگر کئی قومیں آباد ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام دیہی آبادی ہے، مگر اس کی خاموشی کے اندر ایک طویل محرومی سانس لیتی ہے۔
یہاں تعلیم تقریباً ناپید ہے۔ بستی میں کوئی باقاعدہ اسکول موجود نہیں۔ معصوم بچے صبح کے وقت کتابوں کے بستے اٹھا کر تقریباً تین کلومیٹر دور تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ اس سفر میں انہیں ریلوے لائن عبور کرنی پڑتی ہے۔ یہی وہ خطرناک راستہ ہے جہاں کئی بار حادثات پیش آ چکے ہیں۔ کسی ماں کا دل اس وقت کس کرب سے گزرتا ہوگا جب اس کا بچہ ریلوے ٹریک عبور کر کے اسکول جاتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
حیرت انگیز تضاد یہ ہے کہ جدید ترقی کی علامت سمجھی جانے والی M-5 Motorway یہاں سے محض دس یا پندرہ منٹ کے فاصلے پر گزرتی ہے۔ ایک طرف جدید شاہراہ کی برق رفتاری ہے اور دوسری طرف علی واہن سے متصل یہ بستیاں ہیں جہاں بچے آج بھی تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
اس علاقے کی ایک اور شناخت اینٹوں کے بھٹے ہیں۔ انہی بھٹوں کی وجہ سے اس بستی کو بھٹہ بستی کہا جاتا ہے۔ دن بھر بھٹوں سے اٹھنے والا گاڑھا دھواں فضا میں پھیلتا رہتا ہے۔ اس دھوئیں کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ سانس کی بیماریاں اور کمزور صحت یہاں کے بچوں کے معمولات میں شامل ہو چکی ہیں۔
مگر اصل المیہ اس سے بھی بڑا ہے: چائلڈ لیبر۔
جب تعلیم کے دروازے بند ہوتے ہیں تو مزدوری کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی بچے، جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں، اینٹیں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ بچپن، جو کھیلنے اور سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے، یہاں مٹی، پسینے اور مشقت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
قریب ہی عظیم دریا سندھ بہتا ہے، مگر بستی میں نہ کوئی مناسب طبی مرکز ہے اور نہ کوئی ڈسپنسری۔ معمولی بخار یا حادثہ بھی یہاں کے لوگوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ علاقے سیاسی طور پر غیر اہم نہیں۔ یہاں ایک نمایاں ووٹ بینک موجود ہے۔ ہر انتخابی موسم میں وعدوں کے چراغ روشن کیے جاتے ہیں۔ مگر انتخابات کے بعد یہی بستیاں پھر سے خاموشی کے اندھیرے میں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ مقامی سیاست، بااثر افراد اور روایتی وڈیرہ شاہی کے سائے میں بنیادی سہولتیں جیسے اسکول اور ڈسپنسری آج تک خواب ہی بنی ہوئی ہیں۔
شاید یہی وہ نقطہ ہے جہاں فلم 12th Fail کا مکالمہ حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دیتا ہے۔ تعلیم صرف علم نہیں دیتی، بلکہ سوال پیدا کرتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا بچہ کل کو یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس کے حصے کی ترقی کہاں گئی۔
اگر علی واہن کی ان بستیوں کے بچے تعلیم یافتہ ہو گئے تو شاید وہ یہ سوال بھی کریں گے کہ
ان کے علاقے میں اسکول کیوں نہیں؟
ان کے بچوں کو ریلوے ٹریک عبور کر کے تعلیم کیوں حاصل کرنی پڑتی ہے؟
اور کیوں ان کے بچپن کو بھٹوں کی مزدوری میں جلا دیا جاتا ہے؟
یہ سوال اگر کبھی اجتماعی آواز بن جائیں تو یقیناً طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت سندھ، مقامی انتظامیہ اور منتخب نمائندے اس حقیقت کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ علی واہن سے متصل یہ بستیاں اور گاؤں بھی اسی ملک کا حصہ ہیں جہاں آئین ہر بچے کو تعلیم کا حق دیتا ہے۔
کیونکہ کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے سب سے محروم بچے کے ہاتھ میں بھی کتاب آ جائے۔
اور شاید اسی دن یہ ثابت ہو جائے گا کہ
تعلیم واقعی طاقت کو چیلنج کرتی ہے — مگر یہی چیلنج کسی بھی معاشرے کی اصل نجات بھی ہوتا ہے۔

علی واہن سے متصل خاموش بستیاں اور تعلیم کا خوف

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us