Banner

باوٹہ مہ شورہ! خاموشی سے موت تک اور موجودہ مشرقِ وسطیٰ!!

featured
Share

Share This Post

or copy the link

باوٹہ مہ شورہ! خاموشی سے موت تک اور موجودہ مشرقِ وسطیٰ!!

​محترم قارئین! ایک بار ہمارے قبیلے کی کسی دوسرے قبیلے کے ساتھ سخت جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں مخالف فریق کے بہت سے لوگ مارے گئے، اس صورتحال میں ہمارے لوگوں نے اس ڈر سے کہ کہیں سارا بوجھ ہم پر نہ آ جائے یہ کوشش شروع کر دی کہ کوئی ایسا شخص مل جائے جسے میدانِ جنگ میں مقتول بنا کر پیش کیا جا سکے تاکہ مدعی فریق کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ نقصان صرف ان کا نہیں ہوا بلکہ ہمارے بھی بندے مارے گئے ہیں، لیکن اس خطرناک محاذ پر خود کو مردہ ظاہر کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا کیونکہ اس میں جان کا صریح خطرہ موجود تھا، آخر کار ایک مجذوب صفت انسان جسے لوگ باؤٹ کے نام سے جانتے تھے اور جس کا تعلق ہمارے قبیلے سے بھی نہ تھا اس کام کے لیے راضی ہو گیا، چنانچہ باؤٹ کو میدانِ جنگ میں مدعی فریق کی لاشوں سے کچھ فارصلے پر لیکن اپنے قبیلے کے قریب لٹا دیا گیا اور اس پر سفید چادر ڈال دی گئی تاکہ دیکھنے والوں کو یہ گمان ہو کہ یہ ہماری طرف سے مرا ہوا شخص ہے، اسی دوران جب مخالف فریق کے لوگ اپنے مقتولین کو اکٹھا کرنے کے لیے وہاں پہنچے تو عین اسی نازک لمحے میں باؤٹ کے جسم میں کچھ جنبش ہوئی اور وہ تھوڑا سا ہلا، ہمارے لوگ جو قریب ہی چھپے یہ منظر دیکھ رہے تھے انہوں نے گھبرا کر باؤٹ کو بلند آواز میں پکارا کہ “باؤٹہ مہ ښوره” یعنی اے باؤٹ مت ہلو، چونکہ باؤٹ ایک سادہ لوح اور مجذوب انسان تھا اس لیے وہ اپنی جبلت سے مجبور ہو کر دوبارہ ہلا جس پر مخالف فریق کی نظر پڑ گئی، وہ فوراً اس کی طرف بڑھے اور اسے حقیقت میں قتل کر دیا۔
​آج کی عالمی بساط پر جاری امریکہ، ایران اور اسرائیل کی مثلث میں خلیجی عرب ممالک کی حالت بالکل اسی باؤٹ جیسی ہے جو ایک پرائی جنگ کے میدان میں محض ایک مہرے کے طور پر لیٹے ہوئے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وہ اب ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں ہلنے میں بھی موت ہے اور نہ ہلنے میں بھی ہلاکت، آج خطے میں کوئی ایسا دوسرا “بلا گردان” یا سادہ لوح باؤٹ میسر نہیں جو ان کی جگہ اپنی قربانی پیش کر سکے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود کوئی فیصلہ کریں اور اس جاری جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے کسی تیسری قوت کو شامل کریں یا تیل کی قیمتوں اور طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے اپنی بقاء کی راہ نکالیں، ورنہ اس تزویراتی جنگ میں باؤٹ کی طرح ان کا انجام بھی نوشتہ دیوار نظر آتا ہے۔ کیونکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنی ہوئی مثلث نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔​اس تصادم میں جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی اور نظریاتی برتری کے دعوے ہیں، وہاں دوسری طرف خلیجی عرب ممالک اس ‘باؤٹ’ کی طرح بظاہر خاموش اور غیر متحرک لیٹے ہوئے ہیں۔ ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی ڈھال بنیں اور اس وقت تک خاموش رہیں جب تک بڑے کھلاڑی اپنے اہداف حاصل نہیں کر لیتے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس میدانِ جنگ میں خاموشی بھی موت ہے اور حرکت بھی۔ اگر یہ ریاستیں کسی ایک فریق کے حق میں ذرا سی جنبش کرتی ہیں تو دوسرے کی زد میں آتی ہیں، اور اگر مکمل خاموش رہتی ہیں تو ان کی خود مختاری اور وسائل کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔​باؤٹ کے لواحقین سمجھ رہے ہیں کہ اگر وہ اس جنگ میں حصہ لے لیں تو اصل فریق جو ساری تباہی کے ذمہ دار ہیں یعنی ہمارا قبیلہ، وہ جنگ سے نکل جائے گا اور پھر یہ جنگ باؤٹ کے قبیلے اور ہمارے مخالف فریق کے درمیان رہ جائے گی۔​باؤٹ کی کہانی کا سب سے المناک پہلو وہ لمحہ ہے جب اسے “باؤٹہ مہ ښوره” (باؤٹ مت ہلو) کی صدا دی گئی۔ یہ صدا آج کے عالمی سفارتی دباؤ کی بازگشت ہے۔ جب خلیجی ممالک اپنی معیشت، دفاع یا تیل کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی آزادانہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو عالمی طاقتوں کے مفادات انہیں توازن برقرار رکھنے یا سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی دھمکی آمیز ہدایات دیتے ہیں۔ باؤٹ کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسے معرکے کا حصہ بنا جو اس کا تھا ہی نہیں، آج خلیجی ریاستوں کو بھی اسی چیلنج کا سامنا ہے؛ وہ امریکہ کے سیکیورٹی چھتر تلے بھی ہیں اور ایران کے پڑوس میں ہونے کے ناطے اس کے ممکنہ ردِعمل کے نشانے پر بھی۔
​اس تناظر میں یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا آج کے دور میں کوئی نیا ‘بلا گردان’ یا کوئی اور سادہ لوح ‘باؤٹ’ میسر ہے؟ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اب سادگی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ خطے میں اب کوئی ایسا تیسرا فریق نہیں جو اپنی گردن دوسروں کے مفاد کے لیے کٹوا دے۔ لہٰذا، خلیجی ریاستوں کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ مقتول بن کر لیٹنے کے بجائے ایک فعال ‘کھیلاڑی’ کے طور پر ابھریں۔ اگر وہ اس تہرے تنازعے کے تاوان سے بچنا چاہتی ہیں، تو انہیں اپنی بقاء کے لیے ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو روایتی اتحادوں سے ہٹ کر ہوں۔ ان فیصلوں میں تیل کی سپلائی کی نئی حکمتِ عملی، سستے ایندھن کے طویل مدتی معاہدے اور سب سے بڑھ کر اپنے داخلی ڈھانچے میں سیاسی اصلاحات شامل ہیں۔​اگر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ باؤٹ کا قتل دراصل اس کی بے عملی اور دوسروں پر بھروسے کا نتیجہ تھا۔ اگر خلیجی عرب ریاستیں اس تاریخی سبق کو نہیں سمجھتیں، تو وہ اسرائیل کی جارحیت، ایران کی تزویراتی گہرائی اور امریکہ کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کے درمیان پستی رہیں گی۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی طاقتوں کے لیے وہ صرف ایک تزویراتی بفر (Strategic Buffer) سے زیادہ کچھ نہیں۔ جمہوری عمل کی مضبوطی اور علاقائی ہم آہنگی ہی وہ واحد راستہ ہے جو انہیں “باؤٹ” بننے سے بچا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، باؤٹ کی بے گناہ موت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ پرائی جنگ میں خاموش تماشائی یا مصنوعی مقتول بننا، اصل مقتول بننے سے زیادہ خطرناک ہے۔

باوٹہ مہ شورہ! خاموشی سے موت تک اور موجودہ مشرقِ وسطیٰ!!

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us