منشاقاضی
حسبِ منشا
تعلیم کے چراغ کو روشن رکھنے اور خوابوں کو تعبیر دینے کے عزم کے تحت 66 اسکالرشپ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ڈیفنس رایا گالف اینڈ کنٹری کلب، ڈی ایچ اے لاہور میں ایک باوقار فنڈ ریزنگ اور ڈونرز کی اعزازی تقریب منعقد ہوئی۔ اس یادگار تقریب کا مقصد نہ صرف فاؤنڈیشن کے فیاض عطیہ دہندگان کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا بلکہ ادارے کے مشن، سالانہ کارکردگی اور آئندہ کے وژن کو بھی اجاگر کرنا تھا۔
تقریب کی میزبانی چیئرمین سہیل بشیر، چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید افراز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین نے کی۔ مہمانانِ خصوصی اور معزز شرکاء میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات، سماجی رہنما، مخیر حضرات اور تعلیم دوست افراد شامل تھے، جنہوں نے اس فلاحی مقصد کے ساتھ اپنی بھرپور وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا۔
اپنے استقبالی خطاب میں چیئرمین سہیل بشیر اور سی ای او نوید افراز نے عطیہ دہندگان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل معاونت ہی وہ قوت ہے جو معاشی طور پر کمزور مگر باصلاحیت طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے انہیں پاکستان کا ذمہ دار اور کارآمد شہری بنانے میں مدد دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 66 اسکالرشپ فاؤنڈیشن ایک رجسٹرڈ نان پرافٹ ادارہ ہے اور اس کو دی جانے والی تمام عطیات ایف بی آر کے سیکشن 2(36)(c) کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔
تقریب کے دوران فاؤنڈیشن کی قیادت نے گزشتہ برس کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی اور آئندہ سال کے لیے اپنے اس وژن کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں مستحق طلبہ تک تعلیمی معاونت کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس موقع پر اسکالرشپ حاصل کرنے والے کئی طلبہ نے اپنے متاثرکن تجربات بیان کیے اور بتایا کہ کس طرح 66 اسکالرشپ فاؤنڈیشن نے نہ صرف ان کی تعلیمی راہیں ہموار کیں بلکہ ان کی ذاتی زندگی میں بھی اعتماد اور خود اعتمادی پیدا کی۔
ڈائریکٹر فنڈ ریزنگ توقیر شریفی نے جاری اور آئندہ منصوبوں پر جامع اور بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی، جس میں ادارے کے شفاف طریقہ کار، وسائل کے مؤثر استعمال اور مستقبل کے اہداف کو واضح کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن اسکول سطح سے لے کر گریجویشن تک مالی طور پر نادار طلبہ کو ٹیوشن فیس، ماہانہ وظیفہ یا دونوں صورتوں میں مدد فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
یہ بھی بتایا گیا کہ فاؤنڈیشن میں طلبہ کے انتخاب کا عمل میرٹ اور ضرورت دونوں بنیادوں پر ہوتا ہے، تاکہ عطیات صحیح معنوں میں ان مستحق طلبہ تک پہنچ سکیں جہاں ان کا اثر سب سے زیادہ ہو۔ یہی شفافیت اور اصول پسندی 66 اسکالرشپ فاؤنڈیشن کی پہچان ہے۔
تقریب کے اختتام پر چیئرمین سہیل بشیر نے ایک بار پھر تمام شرکاء اور عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعاون صرف مالی مدد نہیں بلکہ قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 66 اسکالرشپ فاؤنڈیشن تعلیم کے ذریعے امید، خودمختاری اور روشن مستقبل کی تعمیر کے اپنے مشن پر پوری استقامت سے کاربند رہے گی۔
یہ تقریب اس حقیقت کی روشن علامت تھی کہ جب نیت، وژن اور اجتماعی تعاون یکجا ہو جائیں تو تعلیم کے ذریعے ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ پاکستانی قوم کے سچے اور سُچے رہنما یہی لوگ ہیں سہیل بشیر رانا چیئرمین جن کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ نوید افراز چیف ایگزیکٹو کی حکمت افروز سوچ کے بطن سے مستقبل کے معماروں کا تابناک مستقبل پیدا ہو رہا ۔ انجینئر توقیر احمد شریفی ڈائریکٹر جیسے دو چار انسان جس بھی ادارے کو مل جائیں ان کامرانی کے راستوں کو کوئی قوت نہیں روک سکتی ۔ نیکی ۔ بھلائی اور خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے والوں میں توقیر احمد شریفی کا نام سرِ فہرست آتا ہے ۔ اختر الدین احمد ڈائریکٹر پورے نظام کا دمکتا ہوا آسمانِ محبت کا ستارہ ہیں ۔ سکندر حمید خان ڈائریکٹر مقدر کے بھی اور کام کے بھی سکندر ہیں ۔ مقصود احمد ڈائریکٹر کی منزلِ مقصود نسلِ نو کی فصل کی شادابی ہے ۔ برگیڈیئر شوکت اسلم ریٹائرڈ ڈائریکٹر کا کمالِ شوکت ان کا جذبہ ء حب العلمی ہے ۔ کرنل قمر بشیر ریٹائرڈ کمپنی سیکرٹری بشارتوں اور خوشخبریوں کے پیامبر ہیں آپ کی سطح تک پہنچنے کے لیئے
عمر درکار ہے ذرے کو قمر ہونے تک
نازش افراز ڈائریکٹر ۔ھدیل فاطمہ ڈائریکٹر۔ مہوش فواد ڈائریکٹر۔ صوبیہ سکندر ڈائریکٹر یہ وہ خواتین ہیں جن کا ہوم ورک پہاڑ جتنا ہے ۔ ان کے بغیر سکالر شپ فاوْنڈیشن کا وجود مکمل نہیں ہوتا ۔ عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں سوائے اس کے اس کا کام بولتا ہے ۔یہ ہے وہ نصف کائنات جس نے پورے ادارے کو اخلاص ۔ احساس ۔ اعتماد اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑا کر رکھا ہے ۔ ان کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کریں کم ہے ۔ ممبران ایڈوائزری بورڈ محمد صدیق ملک ۔ محمد انور پاشاہ ۔ حنا مقصود ۔ پرویز اقبال بٹ۔ بریگیڈیر ریٹائرڈ سلمان بشیر ۔ نور الہدی شوکت۔
آفیسر لوگوں میں شاہد قیوم سی ایف او ۔ آصف حیات ایڈوائزر لیگل آفیئر ۔ دانش علی کنسلٹنٹ ۔ نازش بلال مینجر آپریشن ۔ سائرہ الماس اسسٹنٹ مینجر جن کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔ توقیر احمد شریفی صاحب ایک خاموش قومی ہیرو ہیں ان کی اس فاوْنڈیشن عہدیداران کو جن شخصیات نے خراج تحسین پیش کیا ان میں میجر مجیب آفتاب ۔ لاہور چیمبر آف کامرس کی بورڈ ایگزیکٹو ممبر محترمہ فردوس نثار ۔ رحمان فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کرنل ٹریڈ اشفاق احمد المصطفی ٹرسٹ کی مینجنگ ڈائریکٹر محترمہ نصرت سلیم ۔ میڈیا کے سربراہ ہم سب کے ہر دلعزیز ہمدم و دمساز نواز کھرل ۔ لندن سے رخسانہ رخشی ۔ محترمہ رابعہ رحمٰن ۔ محترمہ رخشندہ رخشی ۔ محترم میجر ر شہزاد نیئر ۔ محترم شہزاد احمد سابق گورنر روٹری کلب ۔ برقی زرائع ابلاغ کے معزز نمائندگان جنہوں نے مور کو جنگل تک محدود رقص میں نہیں رکھا انہوں نے ملکی اور عالمی منظر نامے پر کہکشاں کی طرح روشنی بکھر دی ۔ اس روشنی کے عقب میں جو چراغ جل رہا تھا وہ مناظر علی تھے ۔ میں اگر بشریٰ ارشاد کی کارکردگی کا تذکرہ نہ کروں تو بہت بڑی نا انصافی ہو گی ۔ بشریٰ ارشاد نے تقریب کو اپنے فنی محاسن سے دو چند کر دیا ۔ ہمارے قلم قبیلے کے سردار محترم المقام غلام حسین ساجد کی موجودگی ماحول میں آسودگی فراہم کرتی ہے ۔ سید عارف نوناری کی فنی معاونت اور ان کی حوصلہ افزائی مسیحائی سے کم نہ تھی ۔ ہمارے ہائیکر اور بائیکر عادل وحید بھی اختتامی لمحات میں شامل ہوئے ۔ دی سکالر شپ فاوْنڈیشن کی ساری عبقری شخصیات سے مل کر روحانی مسرت محسوس ہوئی اور ان سے دوبارہ ملنے کی تمنا اب بھی دل میں کروٹیں لے رہی ہے ۔ آخر میں کسی شاعر کا یہ شعر ان کی نذر کرتا ہوں ۔
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں



