Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کرسی، گالی، بیرونی ایجنٹ، لندن کا فلیٹ اورپاکستان کی سیاستاولڈ سکھر میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائی، 200 سے زائد غیر قانونی کنکشن منقطععمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر حاجی محمد ندیم شیخ کے صاحبزادے کے اعزاز میں تقریب، پھولوں کے ہار پہنائے گئےگنداخہ شاخ میں بھل صفائی کا کام جاری، زمینداروں اور آبادگاروں کا صوبائی وزیر فیصل خان جمالی سے اظہارِ تشکرکیچ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مکمل، رستم جان گچکی صدر منتخبلہتراڑ روڈ کے طلبہ کا جرگہ، بنیادی حقوق اور شہری سہولیات کے لیے اہم مطالبات پیشآئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیارٹرمپ نے امریکی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلانسیف سٹی منصوبے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بنیاد ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستانلکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاککرسی، گالی، بیرونی ایجنٹ، لندن کا فلیٹ اورپاکستان کی سیاستاولڈ سکھر میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائی، 200 سے زائد غیر قانونی کنکشن منقطععمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر حاجی محمد ندیم شیخ کے صاحبزادے کے اعزاز میں تقریب، پھولوں کے ہار پہنائے گئےگنداخہ شاخ میں بھل صفائی کا کام جاری، زمینداروں اور آبادگاروں کا صوبائی وزیر فیصل خان جمالی سے اظہارِ تشکرکیچ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مکمل، رستم جان گچکی صدر منتخبلہتراڑ روڈ کے طلبہ کا جرگہ، بنیادی حقوق اور شہری سہولیات کے لیے اہم مطالبات پیشآئس کا نشہ، عالمی سیاست کا خاموش ہتھیارٹرمپ نے امریکی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلانسیف سٹی منصوبے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بنیاد ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستانلکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاک

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب — بلوچستان کی سیاست کا معتبر اور باوقار چہرہ

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب — بلوچستان کی سیاست کا معتبر اور باوقار چہرہ

تحریر: محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

بلوچستان کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقتی نعروں، ذاتی مفادات اور جذباتی سیاست سے بالاتر ہو کر اصول، وقار اور قومی سوچ کے ساتھ پہچانی جاتی ہیں۔ قائد جمعیت علماء اسلام بلوچستان اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب بھی انہی چند معتبر اور باوقار شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے سیاست کو عبادت، خدمت اور ذمہ داری سمجھ کر اپنایا۔ وہ نہ صرف قوم و ملت کی پہچان ہیں بلکہ وطنِ عزیز پاکستان بالخصوص بلوچستان کی سیاسی شان اور وقار کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی سیاست کی بنیاد اخلاص، اصول پسندی اور آئینی بالادستی پر استوار ہے۔ آپ کی سیاسی بصیرت اور مدبرانہ قیادت نے بلوچستان کی سیاست کو ہمیشہ مثبت اور تعمیری سمت دی ہے۔ ایوانِ بالا میں آپ کی گفتگو ہو یا عوامی سطح پر مؤقف، ہر جگہ سنجیدگی، شائستگی اور دلیل کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ نے ہمیشہ حق، آئین اور عوامی حقوق کی ترجمانی کی، جس کے باعث آپ ایک ذمہ دار، دوراندیش اور بالغ نظر سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

بلوچستان مختلف اقوام، ثقافتوں اور روایات کا حسین گلدستہ ہے، جہاں اتحاد اور باہمی احترام ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ہمیشہ بھائی چارے، رواداری اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ انہوں نے پشتون، بلوچ اور دیگر اقوام کے درمیان نفرت کے بجائے محبت، اختلاف کے بجائے مکالمے اور تصادم کے بجائے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا، جو آج کے حالات میں ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے لیے حضرت مولانا عبد الواسع صاحب ایک نظریاتی رہنما، حوصلے کی علامت اور فکری رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ کارکنان کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور جماعتی نظم و ضبط، قربانی اور استقامت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر اور باہر ان کی بات کو وزن، اعتماد اور احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کو بلوچستان کی سیاست کا معتبر اور باوقار چہرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی۔ ان کی سیاست میں نہ تلخی ہے، نہ انتقام بلکہ برداشت، تدبر اور شائستگی نمایاں ہے۔ ایوانِ بالا ہو یا عوامی میدان، ان کی آواز ہمیشہ حق، اتحاد، آئینی بالادستی اور عوامی فلاح کے لیے بلند رہی ہے۔ یہی اوصاف انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز کرتے ہیں اور انہیں نہ صرف جمعیت علماء اسلام بلکہ بلوچستان کی تمام اقوام کے لیے اعتماد، امید اور فخر کی علامت بناتے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *