حکومت پنجاب کا گورنمنٹ سکولوں کا پروگرامPSRP، پیف انتظامیہ کے ہاتھوں اپنے انجام کے قریب
وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تعلیم دوستی اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے۔
لاہور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن پانچ لاکھ بچوں کوسکولوں سے نکالنے کی پالیسی پر عمل پیرا فوری عملدرآمد اور ایکشن نہ لیا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔یونین آف پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشنPSRP پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی آؤٹ سورس کئے گئے سکولوں کے لئے پالیسیاں انتہائی تعلیم دشمنی اور بے روزگاری میں اضافے پر مبنی ہیں جو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تعلیمی وژن اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے خلاف باقاعدہ ایک محاذ بنانے کے مترادف ہے۔ ہم حکومت پنجاب کو متنبہ کرتے ہیں کہ فی الفور ہمارے مطالبات پر توجہ دی جائے ورنہ کئی لاکھ بچوں کا تعلیمی مستقبل پیف کی پالیسیوں کی وجہ سے داؤ پر لگ سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار یونین آف پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن PSRP پارٹنرز کے عہدیداران نے اپنے ایک بیانمیں کیا۔ ان عہدیدارا ن نے اپنے بیان میں وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ہمیں ایک، دو یا تین کمروں کی عمارتوں والے سکولوں کے لئے نہ ہی کوئی نیا کمرہ تعمیر کرا کر دیا ہے اور نہ اس ضمن میں کوئی فنڈنگ کی گئی ہے۔ سکولوں میں ہم لائسیسیز نے محنت کر کے پورے پنجاب میں قریباً 8لاکھ نئے داخلے کئے ہیں۔ اب پیف حکام نے اپنے مانیٹرز کے ذریعے ہمیں مجبور کرنا شروع کر دیا ہے کہ کمروں میں اجازت دی گئی تعداد سے زیادہ بچوں کو سکولوں سے بے شک خارج کر دیں۔ ریجنل ڈائریکٹرز کا رویہ بھی لائسینسز کے ساتھ انتہائی ناروا ہے۔ ہم صرف موجود انفراسٹرکچر کے مطابق ہے انرولمنٹ تسلیم کریں گے۔اس حوالے سے ہم پارٹنرز نے وزیر تعلیم جناب رانا سکندر حیات،پیف چیئرمین ملک شعیب اعوان اور ایم ڈی شاہد فرید صاحب کو متعدد مرتبہ تحریری و بالمشافہ درخواستیں کیں کہ ہمیں کرایہ کی عمارت کی اجازت دی جائے لیکن اس حوالے سے کوئی جواب ہی نہیں دیا جارہا۔ ہمارا دوسرا اہم مطالبہ یہ ہے کہ فزیکل ویریفیکیشن کے نام پر پیف کے روایتی مانیٹرنگ نظام کے ذریعے قریباً پانچ لاکھ بچے ان ویریفائیڈ قرار دے دیے گئے ہیں۔ اب پیف حکام ان بچوں کی لائسینسی کو ادائیگی نہیں کرے گا۔ ہمارے ان تحفظات پر بھی پیف کے ایم ڈی اور ڈائریکٹرز کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گا۔ بلکہ پیف کے مانیٹرنگ سیل نے قومی ادارہ NCHDکی گزشتہ دونو ں مانیٹرنگ کو یکسر نظر انداز کردیا۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا لیکن ہمیں نئے ایڈمیشنز کی ادائیگی تاحال نہیں کی گئی۔ان تمام بچوں کے لئے حسب ضرورت سہولیات اور اساتذہ کی فراہمی کی وجہ سے لائسینسزکی اکثریت اب مقروض ہو چکی ہے۔جن سکولوں میں تعداد سو سے کم ہے وہاں تو 25ہزار تا 50، 60ہزار ماہانہ دیا جارہا ہے۔ اتنے کم بجٹ میں سکول کیسے چلائے جائیں؟ سو سے کم تعداد والے سکولوں کو کم از کم سو بچوں کے برابر ادئیگی کی جائے تاکہ یہ سکول بھی چلتے رہیں۔ ہم پنجاب بھر کے PSRPپارٹنرز نا صرف وزیر اعلیٰ پنجاب بلکہ پاکستان کے دیگر بااختیار اداروں سے اس بارے میں فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ پیف کے موجودہ افسران کو غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے عہدوں سے برخاست کر کے نئی اور قابل انتظامیہ تعینات کریں۔ اگر ہمارا مطالبہ بروقت پورا نہ ہوا تو ہم 10ہزار پارٹنرز ان بچوں کے والدین جن کو پیف مانیٹرز نے غیر تصدیق شدہ قرار دے کر پارٹنرز کو ادائیگی سے محروم کر دیا ہے کے ساتھ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہوں گے۔
حکومت پنجاب کا گورنمنٹ سکولوں کا پروگرامPSRP، پیف انتظامیہ کے ہاتھوں اپنے انجام کے قریب



