Banner

1857ء کی جنگِ آزادی کا مظلوم ترین باب: پشاور کامعرکہ اور توپ دم کی ہولناک داستان۔

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

1857ء کی جنگِ آزادی کا مظلوم ترین باب: پشاور کامعرکہ اور توپ دم کی ہولناک داستان۔

محترم قارئین ۔ ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی (1857ء) کی تاریخ جہاں شجاعت، سرفروشی اور لازوال قربانیوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے، وہاں برطانوی استعمار کے سفاکانہ اور وحشیانہ مظالم کے ایسے ہولناک ابواب بھی اس میں شامل ہیں جو انسانی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انھی میں سے ایک انتہائی المناک، فراموش کردہ مگر تاریخی نوعیت کا سب سے بڑا اجتماعی قتلِ عام 10 جون 1857ء کو پشاور کے قدیم پریڈ گراؤنڈ (جو اب پشاور ایئرپورٹ کا رن وے ہے) میں برپا ہوا، جہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کے جابر حکمرانوں نے آزادی کے 40 متوالوں کو انتہائی بے دردی سے توپوں کے دہانوں پر باندھ کر اڑا دیا۔ یہ معرکہ تاریخ کا وہ گمشدہ ورق ہے جس سے بہت سے لوگ آج بھی ناواقف ہیں، حالانکہ جون 2026ء میں اس دلخراش واقعے کو پورے 169 سال بیت چکے ہیں مگر اس عظیم سانحے کی سنگینی اور مجاہدین کی استقامت آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان گمنام برگزیدہ شہیدوں کی یاد میں پشاور کی دھرتی پر آج تک کوئی یادگار قائم نہیں کی جا سکی جو آنے والی نسلوں کو ان کے لہو کی سرخی سے روشناس کرا سکے۔اس خونی کھیل کا آغاز اس وقت ہوا جب پشاور میں موجود 55 ویں نیٹو انفنٹری اور دیگر مقامی رجمنٹوں کے غیور سپاہیوں نے برطانوی سامراج کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کیا۔ انگریزوں کی نظر میں یہ صریح غداری اور فوجی سرکشی تھی، لیکن درحقیقت یہ محکومی کی زنجیریں توڑنے کی ایک مقدس جدوجہد تھی۔ برطانوی افسران، جن میں جان نکلسن، سڈنی کاٹن اور نیویل چیمبرلین جیسے کٹر اور بے رحم جرنیل شامل تھے، اس نتیجے پر پہنچے کہ شمال مغربی سرحدی خطے کو مزید بغاوتوں سے محفوظ رکھنے اور مقامی آبادی پر خوف و دہشت کا ایسا تسلط قائم کرنے کے لیے، جس سے ان کی روحیں کانپ اٹھیں، ایک عبرتناک مثال قائم کرنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ فوجی عدالتوں کی دن رات جاری رہنے والی کارروائیوں کے بعد ان سرفروشوں کو سزائے موت سنائی گئی، جس کے تحت چند کو پھانسی دی گئی جبکہ چالیس چنیدہ مجاہدین کے لیے “توپ دم” یعنی توپ کے آگے باندھ کر اڑا دینے کی بدترین سزا مقرر کی گئی۔ برطانوی اشرافیہ کے کچھ حلقوں نے انگلستان میں عوامی ردعمل کے خوف سے اس وحشیانہ سزا کی مخالفت بھی کی، لیکن پشاور کے ظالم حکمرانوں نے تمام اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر اس سفاکی کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا۔برطانوی جریدے “بلیک ووڈز میگزین” (نومبر 1858ء) میں شائع ہونے والی ایک عینی شاہد کی مفصل اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی رپورٹ اس بھیانک منظر کا نقشہ کھینچتی ہے۔ عینی شاہد لکھتا ہے کہ اس روز تمام یورپی اور مقامی فوجیوں کو ایک چوکور شکل میں پریڈ گراؤنڈ میں کھڑا کیا گیا تھا تاکہ کوئی مقامی سپاہی اپنے بھائیوں کو بچانے کی ہمت نہ کر سکے۔ چوتھی سمت نو پاؤنڈ کی دس ہولناک توپیں نصب تھیں جن کے پیچھے جلتے ہوئے فتیلے برطانوی گنرز کے ہاتھوں میں لہرا رہے تھے۔ جب دس دس کے گروپوں میں ان قیدیوں کو لایا گیا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور ان کی پیٹھ کو توپ کے دہانے سے اور بازوؤں کو پہیوں سے جکڑ دیا گیا، تو ایک ہی اشارے پر ہونے والے دھماکے نے پورے ماحول کو دھوئیں اور انسانی گوشت کے لوتھڑوں سے بھر دیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے جسمانی اعضا فضا میں اڑتے ہوئے زمین پر اس طرح مخلوط ہو کر گرے کہ ان کی شناخت مکمل طور پر مٹ گئی۔ انگریزوں کا مقصد صرف جان لینا نہیں تھا، بلکہ وہ جانتے تھے کہ مقامی باشندوں کے لیے عقیدے کے مطابق تجہیز و تکفین یا اگنی سنسکار نہ ہونا اور دیگر مذاہب کے اعضا کے ساتھ خاک ہونا سب سے بڑی روحانی اذیت ہے، اس لیے انھوں نے جان بوجھ کر یہ طریقہ اپنایا۔لیکن اس وحشت ناک منظر کا سب سے حیران کن اور متاثر کن پہلو ان مجاہدینِ آزادی کا بے مثال عزم، استقلال اور مذہبی وابستگی تھی جس کا اعتراف خود متعصب برطانوی عینی شاہد کو بھی بادلِ نخواستہ کرنا پڑا۔ اس نے لکھا کہ ان چالیس مردانِ حر میں سے صرف دو کے چہروں پر خوف کے آثار دیکھے گئے جنہیں ان کے اپنے ہی ساتھیوں نے ملامت کی، جبکہ باقی تمام مجاہدین نے نہایت وقار، سکون اور اطمینانِ قلب کے ساتھ موت کا استقبال کیا۔ جب پہلا گروپ موت کے گھاٹ اتر گیا، تو اگلا دستہ، جو یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، بغیر کسی لرزش یا ہچکچاہٹ کے خود چل کر توپوں کی طرف بڑھا اور اپنے جسموں کو باندھنے کی اجازت دی۔ عینی شاہد حیرت سے سوال کرتا ہے کہ ان مٹی کے پتلوں میں اتنی غیر معمولی طاقت کہاں سے آئی؟ اور پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ یہ ان کا پختہ مذہبی یقین اور خدا پر کامل بھروسا تھا جس نے انہیں موت کے آخری اس ہولناک ترین لمحے میں بھی مسکرانا اور ڈٹ جانا سکھایا۔ وہ گناہ گاروں کی طرح نہیں بلکہ شہدا کی طرح مرے۔اسی استقامت کی ایک اور لازوال مثال ایک مقامی حوالدار کی ہے، جس پر سرحدی قبائل کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کا الزام تھا۔ جب اسے توپ کے سرد اور مہلک دہانے سے باندھ دیا گیا اور موت اس کے سر پر کھڑی تھی، تو انگریزوں نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ اپنے دیگر باغی ساتھیوں کے نام اگل دے تو اس کی جان بخشی کی جا سکتی ہے۔ بارود کی بو سونگھتے ہوئے اس نے چند لمحے تامل کیا، زندگی کا لالچ سامنے تھا، مگر اس کے ایمان، غیرت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وفاداری کے جذبے نے موت کے خوف کو یکسر شکست دے دی۔ اس نے غداری پر موت کو ترجیح دی، اپنے لب سی لیے اور خاموشی سے شہادت کا رتبہ پا کر تاریخ میں امر ہو گیا۔ پشاور کا یہ اجتماعی قتلِ عام اگرچہ برطانوی حکومت کی فتح اور جان نکلسن جیسے جلادوں کی دلی دلیری کا سبب بنا، جنہوں نے 14 جون کو یہاں سے نکل کر دہلی کا رخ کیا، لیکن اس نے برطانوی استعمار کے چہرے پر وہ کلنک کا ٹیکا لگایا جسے تاریخ کبھی دھو نہیں سکی۔ اس واقعے کے بعد پیدا ہونے والے شدید عالمی و مقامی غم و غصے کے نتیجے میں ہی برطانوی پارلیمنٹ نے ایکٹ پاس کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کیا اور عنانِ حکومت تاجِ برطانیہ کے سپرد کی۔ پشاور کے پریڈ گراؤنڈ کی یہ مٹی آج بھی ان عظیم، گمنام اور سرفروش شہیدوں کے پاکیزہ لہو کی خوشبو سے مہک رہی ہے جنھوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

1857ء کی جنگِ آزادی کا مظلوم ترین باب: پشاور کامعرکہ اور توپ دم کی ہولناک داستان۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us