Banner

اقتدار سلامت، عوام پریشان

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

اقتدار سلامت، عوام پریشان

قارئین کرام ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا موازنہ اگر دنیا کی دیگر جمہوریتوں سے کیا جائے تو یہاں ایک عجیب و غریب اور تضادات سے بھرا مائنڈ سیٹ (طرزِ فکر) نظر آتا ہے جہاں ریاست کا پورا ڈھانچہ صرف ایک نقطے پر آکر رک جاتا ہے: “اقتدار کی بقاء”۔ اس دھرتی پر حکمرانوں کے محلات، پروٹوکولز اور شاہی اخراجات کا حجم دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے جیسے کوئی مغل سلطنت دوبارہ جی اٹھی ہو، جبکہ دوسری طرف عام پاکستانی شہری بنیادی انسانی حقوق، سستی بجلی، آٹے کے تھیلے اور ہسپتال کے ایک بستر کے لیے سڑکوں پر خوار ہو رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاقیہ عمل نہیں ہے بلکہ ایک باقاعدہ منظم اور ریاضیاتی فارمولے کے تحت چلنے والا نظام ہے جس میں اقتدار ہمیشہ سلامت رہتا ہے اور عوام ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔اگر ہم پاکستانی حکمرانوں کے “اقتدار سلامت” رکھنے کے ٹھوس اور آزمودہ فارمولوں پر نظر ڈالیں تو اس کا پہلا اور سب سے بڑا ستون “کمپرو مائزڈ الائنسز” (مفادات کا گٹھ جوڑ) ہے۔ یہاں اقتدار میں آنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے نظریات کی قربانی سب سے پہلا قدم ہوتی ہے۔ ازلی سیاسی دشمن راتوں رات بھائی بھائی بن جاتے ہیں، جس کی بدترین تاریخی مثالیں ماضی کے مختلف سیاسی اتحادوں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ دوسرا فارمولا “قرض پر مبنی معیشت اور نجی عیاشی” کا توازن ہے، جہاں بین الاقوامی اداروں سے ملک کے نام پر قرض لیا جاتا ہے لیکن اس کا بڑا حصہ عوامی فلاح کے بجائے حکمران طبقے کی مراعات، شاہی کیمپ آفسز کی تزئین و آرائش، اور بیوروکریسی کی نئی گاڑیوں پر اڑا دیا جاتا ہے۔ تیسرا فارمولا “عوامی جذبات کی برین واشنگ” ہے، جس کے تحت غربت اور مہنگائی سے پسے ہوئے طبقے کو ہمیشہ کسی غیبی طاقت کے خوف، نظریاتی نعروں یا پھر مستقبل کے ایسے جھوٹے خوابوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے جن کی تعبیر کبھی نہیں آنی۔ چوتھا اور سب سے تلخ فارمولا “احتساب کے نظام کو پاہج رکھنا” ہے، تاکہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگ اور ان کے سرپرست ہمیشہ قانون کی گرفت سے ماورا رہیں۔حکمرانوں کی اس پرتعیش زندگی کے پسِ پردہ جو اصل شاہی خرچے اور حیران کن تاریخی حقائق ہیں، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کو دنگ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہاں وزیراعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کا روزانہ کا خرچہ لاکھوں روپے پر محیط رہا ہے۔ تاریخی دستاویزات اور بجٹ کے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ قومی رہنماؤں کے غیر ملکی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات، ان کے خاندانی علاج معالجے، اور صرف ایک ایک کیمپ آفس کی سیکیورٹی پر مامور سینکڑوں اہلکاروں کے اخراجات ملکی خزانے پر کسی بم کی طرح گرتے ہیں۔ قومی ایئرلائن (PIA) کے خصوصی طیاروں کو ذاتی استعمال میں لانا، بیرونِ ملک مہنگے ترین ہوٹلوں میں شاہی قیام، اور اپنے حلقہ احباب کو نوازنے کے لیے قومی خزانے سے بھاری فنڈز جاری کرنا یہاں کی سیاسی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا نظام غریب عوام ٹیکس سے چلاتے ہیں، جبکہ اس عیاشی کا پھل صرف چند سو خاندانوں کو ملتا ہے۔دوسری طرف، پاکستان میں عوام کے مسلسل ذلیل و خوار ہونے کی اصل وجوہات کوئی راز نہیں ہیں بلکہ ایک کھلی کتاب ہیں۔ سب سے پہلی وجہ “جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ مائنڈ سیٹ” ہے، جس نے عام ووٹر کو صرف ایک نمبر بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں عام آدمی کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے جان بوجھ کر محروم رکھا جاتا ہے، کیونکہ ایک پڑھا لکھا اور باشعور شہری ان حکمرانوں سے اپنے حقوق کا سوال کرے گا، جو ان کے اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دوسری بڑی وجہ “ادارت کا کھوکھلا پن اور قانون کی غیر مساوی حکمرانی” ہے، جہاں غریب کے لیے تھانہ کچہری کی ذلت مقدر ہے اور امیر کے لیے قانون کے دروازے چوبیس گھنٹے موم بتی کی طرح پگھل جاتے ہیں۔ تیسری وجہ “معاشی ناہمواری کا وہ بھیانک تسلسل” ہے جس میں بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کا پورا بوجھ ایک مزدور اور تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ بڑے بڑے رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز، جاگیردار اور بااثر تاجر ٹیکس نیٹ سے باہر رہ کر عیاشیاں کرتے ہیں۔ چوتھی وجہ عوام کی اپنی “سیاسی عصبیت اور برادری ازم” ہے، جہاں لوگ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذات پات، صوبائیت اور اندھی عقیدت کی بنیاد پر لٹیروں کو دوبارہ منتخب کر لیتے ہیں، جو ان کی اپنی ذلت پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔یہ کالم کسی لفاظی یا مفروضے پر مبنی نہیں بلکہ پاکستان کی اسی سالہ تاریخ کا وہ نچوڑ ہے جس نے ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ جب تک اقتدار کو بچانے کے فارمولے عوامی فلاح کے فارمولوں سے تبدیل نہیں ہوں گے، جب تک شاہی خرچوں پر کٹ کٹاکر انہیں تعلیم اور صحت کے بجٹ میں منتقل نہیں کیا جائے گا، اور جب تک عوام خود اپنی ذلت کے خلاف شعور کی بیداری کا ثبوت نہیں دیں گے، تب تک اقتدار کے ایوانوں میں چہرے تو بدلتے رہیں گے مگر “اقتدار سلامت، عوام ذلیل” کا یہ بھیانک کھیل اسی طرح جاری رہے گا۔

اقتدار سلامت، عوام پریشان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us