Banner

کی داستانِ حیات

Share

Share This Post

or copy the link

کی داستانِ حیات

منشا قاضی
حسبِ منشا

میں نے تعلقات کو نبھانے ، رشتوں کا احترام اور روایات کی پاسداری ، شکر گزاری ، صبر و برداشت اور رواداری کا سبق عکسِ ذات کی مصنفہ زوبیہ انور سے سیکھا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عکسِ ذات کے مطالعہ نے میری ذات کا عکس، جمیل کر دیا ہے ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی قابلِ فخر خدمات کا اعتراف ملک کے نامور صحافی اور کالم نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی فرماتے ہیں ، گفتگو طرازی میں جن کا مثیل ملنا مشکل ہے ، میں نے ان کی حوصلہ افزائی میں مسیحائی کی تاثیر پائی ہے ، میرے لئیے اعزاز کی بات ہے ،
اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے
شامی صاحب چھوٹوں سے مل کر ان کو بڑا کر دیتے ہیں ، لیلائے زلفِ شبِ دراز تا حدِ کمر پہنچ چکی تھی اور میں سویا ہوا تھا کہ موبائل فون پر جناب مجیب الرحمٰن شامی صاحب کا فون آ رہا تھا ، دوسری طرف آواز نہ پا کر شامی صاحب نے اپنی آواز میں پیغام دیا کہ قاضی صاحب میں نے آپ کا کالم پڑھا ہے اور آپ کو مبارکباد پیش کرنی تھی ، اس کو کہتے ہیں بڑا انسان ، بڑے بڑے صحافی تو میں نے دیکھے ہیں بڑا انسان الطاف حسن قریشی ، جن کو آج مرحوم لکھتے وقت کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ مجیب الرحمٰن شامی ، جاوید نواز ، ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب کو پایا ہے رانجھا صاحب کو کون نہیں جانتا وہ دلوں میں چاہت کے دروازے کھول دیتے ہیں ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے مداح اور قدردان ہیں ،ڈاکٹر کیوان قدر خان ملزئی سے جب بھی فون پر بات ہوئی تو دوسری طرف سے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی انسانی خدمات کی داستان طویل ہوتی گئی اور وہ بات جو میں نے کرنی تھی وہ آج تک نہیں ہو سکی ، ، پروفیسر ایم اے رفرف کا بھی یہی حال ھے ، سردار مراد علی خان کی کیفیت بھی ایسی ہے ، اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جناب ابو زر شاد تو محترم مجیب الرحمٰن شامی صاحب کو اپنا استاد اور ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو تاجروں کا محسن قرار دیتے ہیں ، مختار مسعود نے کہا تھا کہ محسن دوسروں کے لیئے زندہ رہتا ہے اور شہید دوسروں کے لیئے جان دے دیتا ہے ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ ستارہ امتیاز اور ہلالِ امتیاز یافتہ فلاحی شخصیت کو چاھنے والوں کی فہرست میں شامل ایک عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز بھی آتے ہیں اور رحمٰن فاؤنڈیشن کے لٹریچر میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی تصویر نمایاں ہے وہ گردوں کے مریضوں کی عیادت کر رہے ہیں اور آج بھی گردوں کے مریض گردوں کی صفائی کے مرکز ماڈل ٹاؤن میں بسترِ علالت سے لیکر آسماں کی نیلگوں وسعتوں تک اپنے مسیحا کی راہ تک رہے ہیں ، کالم کے اختتام پر ڈاکٹر آصف محمود جاہ سے استدعا کرنی تھی وہ آغاز میں ہی کر دیتا ہوں کہ وہ وفاقی ٹیکس محتسب کی حیثیت سے تو رحمٰن فاؤنڈیشن کا دورہ نہ فرما سکے ، اب وہ اپنی سریع الاثر چارہ سازی کی ادا کو قضا نہ فرمائیں ، پاکستان کی سرزمین ایسی عظیم شخصیات سے مالا مال ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کی خدمت کے لیئے وقف کر دیں۔ انہی ہستیوں میں ایک درخشاں نام ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا سرِ فہرست آتا ہے ، جنہوں نے نہ صرف طب کے شعبے میں خدمات انجام دیں بلکہ بطور کسٹمز آفیسر، مصنف، فلاحی کارکن، اور وفاقی ٹیکس محتسب کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کو عادت بنا لیا ہے اور یہ عادت اب عبادت میں بدل گئی ہے ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ 1962 میں سرگودھا کے علمی و تہذیبی ماحول میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور بطور ڈاکٹر اپنے تابناک مستقبل کا آغاز کیا۔ مگر اُن کا دل ہمیشہ ان لوگوں کے لیئے دھڑکتا رہا جنہیں علاج، تعلیم، اور زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے سینے میں جو دل دھڑک رہا ہے اس دل کی دھڑکنوں میں دکھی انسانوں کے دل کی دھڑکنیں بھی دھڑک رہی ہیں ، وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان کسٹمز میں ایک ایماندار اور شاندار ذمہ دار آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا اور درد کا درماں
ڈاکٹر صاحب کا سب سے نمایاں کارنامہ ثابت ہوا، “کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی” کا قیام مسکینوں کے طعام کا وسیلہ ثابت ہوا، کسٹمز ھیلتھ کئیر سوسائٹی جو پاکستان اور بیرونِ ملک مصیبت زدہ، مجبور اور بیمار افراد کے لئیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ سوسائٹی ہزاروں افراد کو علاج، ادویات، طبی کیمپس، فری ڈسپینسریز، اور میڈیکل ریلیف کی سہولیات مہیا کر رہی ہے۔ بلوچستان، تھر، شمالی علاقہ جات، اور کشمیر جیسے پسماندہ علاقوں میں ان کی ٹیم نے بے مثال خدمات سرانجام دیں، حتیٰ کہ افغانستان اور شام جیسے جنگ زدہ خطوں میں بھی انسانی امداد پہنچائی گئی۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی لازوال خدمات کے اعتراف میں 23 مارچ 2016 کو صدرِ مملکت کی جانب سے انہیں “ستارۂ امتیاز” سے نوازا گیا، جبکہ 23 مارچ 2021 کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ “ہلالِ امتیاز” سے بھی سرفراز کیا گیا۔ یہ اعزازات نہ صرف ان کی بے لوث خدمت کا اعتراف ہیں ، بلکہ نوجوان نسل کے لیئے مشعلِ راہ بھی۔
ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک زرخیز قلم کے مالک بھی ہیں۔ انہوں نے کئی کتب تحریر کی ہیں جن میں سفرنامے، معاشرتی مشاہدات، اور دکھی انسانیت کے احوال شامل ہیں۔ ان کے تحریری انداز میں سادگی، درد، اور حقیقت پسندی نمایاں ہے ۔ جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو چار برس پہلے وفاقی ٹیکس
محتسب (Federal Tax Ombudsman) کے طور پر ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں ، جنہیں آپ نے انصاف، شفافیت اور عوامی سہولت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ٹیکس دہندگان کی شکایات کا ازالہ کرنے میں بیمثال کارنامہ انجام دیا۔ ان کی قیادت میں ادارہ ایک فعال، منصف اور عوام دوست ادارے کے طور پر ابھرا ۔ان کی شخصیت عاجزی، اخلاص اور خدمت کے جذبے سے مزین ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی ذات یا عہدے کو فوقیت نہیں دی بلکہ ہمیشہ معاشرے کے کمزور طبقات کو ترجیح دی۔ ان کے لیئے ہر بےسہارا انسان ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ کچھ قیمتی اثاثوں تک وہ پہنچ رہے ہیں اس لئیے وہ ان قیمتی اثاثوں کو متاعِ زیست کی طرح سینے سے لگائے ہوئے ہیں ،
ڈاکٹر آصف محمود جاہ بلاشبہ پاکستان کے ان ہیروز میں شامل ہیں جنہوں نے خاموشی سے، بنا کسی شہرت یا مفاد کے، انسانیت کے عظیم مقصد کو اپنایا۔ ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ وہ آج کے دور کے اُس نایاب انسان کی مثال ہیں جو دل میں درد، ہاتھوں میں شفا، اور آنکھوں میں روشنی لے کر چل رہا ہے۔ میں اپنے سارے احباب کے ساتھ مل کر ان کے لیئے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے اور ان کی فلاحی کوششوں کو مزید کامیابی سے ہمکنار کرے۔ ان کے خصوصی مشیر اشفاق احمد کی یہ خوبی ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے قیمتی اثاثوں کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سارے قیمتی اثاثے اپنے ممدوح کی مقناطیسی شخصیت سے معانقہ کرتے چلے جاتے ہیں ، میری کتاب پاکستان کے سو روشن چہرے بہت جلد منظر عام پر آ رہی ہے اور یہ روشن چہرہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ میری کتاب کا خوبصورت منظر ہو گا ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا جن دنوں موٹر وے پر شدید حادثہ ہوا تھا اور وہ بے ہوشی کے عالم میں میو ہسپتال کے مسیحاؤں کی دسترس میں تھے ان مسیحاؤں میں ایک گمنام مسیحا جس نے ابتدائی طبی سہولیات میں اپنا سریع الحرکت کردار ادا کیا تھا وہ ہماری ملک کی نامور شاعرہ ڈاکٹر زرقا نسیم غالب کی سعادت مند دخترِ نیک اختر تھی ، اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا ،

عزرائیل کو یہ ضد تھی کہ جان لے کے ٹلوں

سر بہ سجدہ ھے مسیحا کہ میری بات رہے

تھر کے بے گھر اور سیلاب زدگان کے بے سہارا بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کے ھاتھ اور ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے عظیم والد گرامی حاجی بشیر احمد کی نیم شبی دعاؤں نے لاکھوں بے سہارا لوگوں کا مسیحا صحت مند زندگی سے متصف دے دیا ، ان کی صحت یابی پر تشکر آمیز جذبات کے ساتھ مکرر ھاتھ اٹھ گئے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا جس میں راقم سر فہرست تھا کہ
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد

میں اللہ کے حضور آج بھی سجدہ ء ریز تشکر ہوں کہ مجھے ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے اپنا دوست رکھا ، ملازم نہیں بنایا اور میری آزاد منش طبیعت کو سمجھا ، میں نے بھی ڈاکٹر صاحب کے انکسار میں افتخار تلاش کیا ہے ، اور انہوں نے تا ابد زندہ رہنے والے کام کیئے ہیں ، میری دعا ہے

آپ سلامت رہیں ہزار برس

ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

عمر اتنی تو عطا ہو میرے فن کو خالق

میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

کی داستانِ حیات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us