Banner

تاریخی المیہ: اسلامی دنیا میں زوالِ علم اور فنون کی گمشدگی

Share

Share This Post

or copy the link


محترم قارئین ۔ تقریباً پانچ دہائیاں قبل جب پاکستان اور بالخصوص علاقائی سطح پر دینی مدارس کے منتظمین اور مالکان کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی کہ زیرِ تعلیم طالب علموں کے لیے فارغ اوقات میں لکڑی کے کام (ترکھان)، خراد اور سلائی کڑھائی جیسی دستکاریوں کی مشینیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ کسی ہنر یا کسب سے واقف ہو سکیں، تو اسے یکسر مسترد کر دیا گیا۔ مدارس کے اربابِ اختیار کا مؤقف تھا کہ طالب علموں کے پاس ان “عبث” اور لاحاصل کاموں کے لیے وقت نہیں ہے۔ یہ سوچ دراصل اس گہرے فکری زوال کی عکاس ہے جس نے علم کو صرف ایک محدود دائرے تک مقید کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم محض چند روایتی علوم کا نام نہیں، بلکہ یہ تمام علوم و فنون کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔ علم میں جہاں دینی فرائض اور احکام شامل ہیں، وہاں انسانی بقاء اور تمدنی ترقی کے لیے ناگزیر فنون جیسے کسب، دستکاری، اور جدید عصری علوم مثلاً طب، سائنس اور انجینئرنگ بھی اسی کا لازمی حصہ ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے موجودہ روایتی مدارس کے نظام میں عصری علوم کے حقیقی ادراک کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے دنیاوی یا تمدنی علوم کو اسلام کے مروجہ اصولوں کے منافی یا محض ایک ثانوی و مباح چیز تصور کر لیا گیا، جس کا دین سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو اسلام کے ابتدائی ادوار اور سنہری عہد میں علوم و فنون کی یہ تقسیم سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ آمدِ اسلام کے ساتھ ہی علم کے افق پر ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس نے اسلامی علوم اور تمدنی فنون دونوں کو بیک وقت جلا بخشی۔ اس دور میں مدارس اور جامعات کا نظام اتنا جامع اور مضبوط تھا کہ وہاں صرف صرف و نحو، فقہ اور تفسیر ہی نہیں پڑھائی جاتی تھی، بلکہ طب، الجبرا، فلکیات (ایسٹرونومی)، فلسفہ اور کیمیا جیسے پیچیدہ علوم بھی ایک ہی چھت کے نیچے سکھائے جاتے تھے۔ مسلم سائنسدان اور مفکرین بیک وقت قرآن و حدیث کے ماہر بھی ہوتے تھے اور اپنے وقت کے عظیم طبیب اور ماہرِ فلکیات بھی۔ علم کو کبھی بھی حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا کیونکہ کائنات پر غور و فکر کرنا اور انسانیت کو نفع پہنچانا بذاتِ خود ایک بنیادی اسلامی فریضہ ہے۔
اس عروج کو زوال میں بدلنے کے پیچھے اقتدار کی ہوس، مسلمانوں کی باہمی نااتفاقی اور اندھی خانہ جنگیاں تھیں۔ جب مسلم حکومتیں اندرونی طور پر کمزور ہوئیں تو بیرونی اغیار اور حملہ آوروں کو اسلامی ممالک پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا۔ چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے وحشی حملہ آوروں نے بغداد اور دیگر علمی مراکز پر حملہ کر کے صدیوں کی محنت سے قائم کی گئی لائبریریاں اور نایاب کتب خانے جلا کر خاکستر کر دیے۔ اس دور کا سب سے بڑا المیہ دریائے دجلہ اور فرات میں لاکھوں کتابوں کا بہایا جانا تھا، جس کے نتیجے میں ان دریاؤں کا پانی مہینوں تک کتابوں کی سیاہی کی وجہ سے کالا اور نیلا بہتا رہا۔ اس ہولناک علمی قتلِ عام کے نتیجے میں تحریری شکل میں موجود سائنسی، طبی اور فلسفیانہ علوم کا ایک بہت بڑا حصہ دنیا سے ہمیشہ کے لیے مٹ گیا۔اس عظیم علمی نقصان کے بعد، صرف وہی دینی علم محفوظ رہ سکا جو مسلمانوں کے سینوں میں حفظ کی صورت میں موجود تھا، کیونکہ اسلامی احکام اور قرآن و حدیث کا علم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا۔ دوسری طرف، کتب خانوں کی تباہی کے باعث سائنسی، طبی اور فلکیاتی علوم کے مآخذ ختم ہو گئے، جس کے بعد ایک ہولناک فکری جمود نے جنم لیا۔ مغلوبیت اور خوف کے اس دور میں وقت کے مقتدر بادشاہوں اور سطحی سوچ رکھنے والے بے علم علماء نے اپنی بقاء اور مفادات کی خاطر تفکر، تدبر اور فلسفے کو ممنوع قرار دے دیا۔ حیران کن اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ علمِ نافع کی شمع روشن کرنے والے عظیم مفکرین، فلسفیوں اور سائنسدانوں کو اللہ اور شاہی دربار کا باغی، منکر اور زندیق قرار دے دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک عظیم فلسفی کو اس کی اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب اس کے سر پر اس وقت تک ماری جاتی رہی جب تک کہ وہ جانبحق نہ ہو گیا۔ اسی طرح ابنِ سینا، ابنِ عباس اور ان جیسے متعدد جلیل القدر مسلم سائنسدانوں اور محققین کو شدید ذہنی و جسمانی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا یا انہیں قتل کر دیا گیا۔ یوں جس علم کو اسلام نے فرض قرار دیا تھا، اسے اپنوں ہی کی جہالت اور بیرونی سازشوں کے باعث کفر و الحاد سے جوڑ کر امت کو ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

تاریخی المیہ: اسلامی دنیا میں زوالِ علم اور فنون کی گمشدگی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us