Banner
Daily Sahafat Quetta
August 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسینوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسین

خوابوں کی منڈی اور سیاسی خوانچہ فروش

احمدخان اچکزئی

خوابوں کی منڈی اور سیاسی خوانچہ فروش

محترم قارئین، ایک عرب خواجہ اجمیر ہندوستان مزار زیارت کرنے گیا زیارت میں جانے سے پہلے خوانچہ فروش کچھ پھول بیچ رہے تھے کچھ تحائف کوئی چائے اور آخر میں ایک آدمی گردن کو دائیں بائیں جنبش دیتے آنکھیں موندیں ہوئے خالی خوانچے میں بیٹھا تھا۔ عرب جب متوجہ ہوا تو وہ اس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پوچھا آپ کے دکان میں بیچنے کیلئے کچھ نہیں ہے جناب آپ کیا بیچ رہے ہیں تو موصوف نے گردن کا جنبش بند کیا اور آنکھیں آدھ مووا کھول کر عرب کا سراپا جائزہ لیا اور انتہائی مسحور کن آواز میں کہا کہ میں خواب بیچ رہا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ کیسے؟ خواب بیچنے والے نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کریں۔ عرب نے بیٹھ کر آنکھیں بند کردی۔ خواب فروش نے قصہ شروع کیا کہ آپ اعلیٰ نسب کے عرب ہندوستان آئے ہو، آپ اجمیر کی گلیوں میں جارہے ہو کہ اچانک ایک دروازے سے ایک خوبصورت دوشیزہ نمودار ہوتی ہے، آپ اس دوشیزہ کے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس گھر کے مکین سے ملے اور دوشیزہ کا ہاتھ مانگا، گھر والوں نے خوشی سے آپ کی نکاح دوشیزہ مذکورہ سے طے کردی۔ عرب اب تک آنکھیں موندیں نیم خوابی کی حالت میں سن رہا تھا کہ اس کے خواب بیچنے والے نے کہا کہ پھر شادی ہوئی اور آپ کے بچے ہوئے اور یہی اجمیر میں آباد ہوئے۔ جب خواب دکھانے والے نے عرب کو ہلایا کہ آنکھیں کھولو آپ کا وقت پورا ہوا اور لوگ خواب دیکھنے کے منتظر ہیں، خواب دکھانے کے دس ہزار روپے دیدو۔ یہ قصہ سن کر مجھے ہمارے ملک کے سیاسی خواب دکھانے والے یاد آئے جو اپنے خوانچے سجائے کوئی مجاور مرادیں بیچ رہا ہے، کوئی جنت بیچ رہا ہے، کوئی نئے ملک بنانے کا خواب بیچ رہا ہے، کوئی مظلوم کو ظالم سے حق دلانے کا خواب بیچ رہا ہے۔ ہماری عمومی سیاسی فضا اور جمہوری تماشا گاہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ افسانہ نما حقیقت ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔ سیاست کے اس پرفریب بازار میں ہر طرف الفاظ کے کاریگر، نعروں کے سوداگر اور سرابوں کے بیوپاری اپنے خالی خوانچے سجائے بیٹھے ہیں۔ عام انسان، جو روزمرہ کے اقتصادی بحرانوں، مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی ناانصافیوں کی چکی میں پس رہا ہے، ان نام نہاد نجات دہندگان کے حسین جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ یہ سیاسی مداری عوام کی نفسیات، ان کی محرومیوں اور ان کے گہرے جذباتی پن سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور مذہب، قومیت، انقلابی نعروں اور جھوٹے بہشت کے ایسے پرکشش خوانچے سجاتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان عارضی طور پر اپنی تمام تر تلخ حقیقتوں کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ جب ایک سادہ لوح شہری ان فریب کاروں کی مسحور کن آوازوں کے سحر میں آ کر اپنے ہوش و حواس معطل کر لیتا ہے، تو یہ کاریگر اسے ایک ایسا دلفریب مستقبل دکھاتے ہیں جہاں نہ کوئی بھوکا ہوگا، نہ بے روزگار، جہاں قانون کی بالادستی ہوگی اور جہاں ہر مظلوم کو اس کا حق پلیٹ میں رکھ کر دیا جائے گا۔ اس نیم خوابی کی کیفیت میں عوام اس سراب کو حقیقت سمجھ کر اپنی تمام تر حمایت، محبت اور اپنے قیمتی ووٹ ان لُٹیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ مگر اصل ڈراما تب شروع ہوتا ہے جب وقت مقررہ پورا ہوتا ہے اور خواب دیکھنے کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔ خواب فروش اپنی مسندوں پر براجمان ہوتے ہی حقیقت کا پردہ چاک کرتے ہیں، آنکھیں کھولنے کا حکم دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب اگلی صف میں کھڑے دوسرے خواب دیکھنے والے انتظار میں ہیں، اور اس فرضی جنت کی قیمت کے طور پر عوام سے ان کا حال، ان کا مستقبل اور ان کی جمع پूंجی نچوڑ لی جاتی ہے۔ عرب نے تو اجمیر میں صرف دس ہزار روپے ادا کیے تھے، مگر ہمارے ملک کے غریب عوام اپنے سیاسی خواب فروشوں کو اس سراب اور فریب کی بھاری قیمت اپنی نسلوں کے تباہ حال مستقبل، معاشی بدحالی اور سماجی انحطاط کی صورت میں روزانہ چکاتے ہیں۔ تاریخ اور معاشرت کا یہ مسلسل جبر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم خوابوں کی اس منڈی کی حقیقت کو سمجھیں، اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور ان خالی خوانچوں والے سوداگروں کے فریب سے ہوشیار رہیں، کیونکہ خواب بیچنے والے کبھی حقیقت کی روٹی مہیا نہیں کرتے بلکہ وہ صرف اندھیروں کے سودے کرتے ہیں اور عوام کو ہمیشہ خالی خوانچے کے سامنے منتظر چھوڑ جاتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *