Banner
Daily Sahafat Quetta
August 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسی

جمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو نوجوانوں کے پاس کیا بچتا ہے؟

جمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو نوجوانوں کے پاس کیا بچتا ہے؟
تحریر ،عصمت خان
ریاست کو ایک لمحے کے لیے رُک کر خود احتسابی کرنی چاہیے۔
اگر نوجوان آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنا چاہیں، پُرامن جلسے کریں، احتجاج کریں اور اپنی آواز جمہوری طریقے سے بلند کریں، تو کیا اس کا جواب گرفتاریاں، جھوٹے مقدمات، 3-MPO، جبری گمشدگیاں، یا ٹارگٹ کلنگ ہونا چاہیے؟آج جب عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کے ووٹ کی طاقت کمزور ہو گئی ہے، اس کے نمائندوں کے لیے سیاسی میدان تنگ کر دیا گیا ہے، اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں، تو ریاست کو طاقت کے بجائے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔کیونکہ جب آئینی اور جمہوری راستے بند کر دیے جائیں، آواز اٹھانے والوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جائے، یا اختلاف کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے، تو نوجوان دیوار سے لگ جاتے ہیں۔
خدانخواستہ، تنگ آ کر وہ ایسے لوگوں کے پاس جانے پر مجبور نہ ہو جائیں جو بندوق کی سیاست کرتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نوبت یہاں تک نہ پہنچے۔چاہے وہ پشتون تحفظ موومنٹ PTM ہو، بلوچ یکجہتی کمیٹی BYC ہو، یا کوئی بھی دوسری پُرامن سیاسی تحریک — ان سے نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اختلاف کا جواب جبر، جبری گمشدگی یا ٹارگٹ کلنگ نہیں ہو سکتا۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اختلاف رائے کو سنے، برداشت کرے، اور قانون و آئین کے دائرے میں اس کا جواب دے۔ریاست کو اپنے نوجوانوں پر رحم کرنا ہوگا۔ نوجوان دشمن نہیں ہیں، یہی اس مٹی کا مستقبل ہیں۔ اگر پُرامن سیاسی سرگرمیوں کے لیے گنجائش مسلسل کم کی جائے گی تو اس سے صرف نفرت اور بے اعتمادی بڑھے گی۔ایک دانشمند ریاست کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کا اعتماد آئین، قانون اور جمہوری عمل پر قائم رکھے۔جبر سے وقتی خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف انصاف، سیاسی برداشت اور عوام کے اعتماد سے ہی قائم ہوتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *