Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوالوزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلیے حکمت عملی بنانے کا حکمعمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیاپمز میں اصلاحات 3 ماہ میں مکمل اور اسلام آباد کے تمام اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکمایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی نقصانات کی مزید تفصیلات سامنے لائے گا، عباس عراقچیجام محمد فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ’’بزم رحمت العالمین‘‘، بیلہ میں روح پرور مقابلہ حسن نعت، معروف نعت خواں فرحان علی قادری کی خصوصی شرکتنئے قوانین ، نئی مشکلاتوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوالوزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلیے حکمت عملی بنانے کا حکمعمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیاپمز میں اصلاحات 3 ماہ میں مکمل اور اسلام آباد کے تمام اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکمایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی نقصانات کی مزید تفصیلات سامنے لائے گا، عباس عراقچیجام محمد فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ’’بزم رحمت العالمین‘‘، بیلہ میں روح پرور مقابلہ حسن نعت، معروف نعت خواں فرحان علی قادری کی خصوصی شرکتنئے قوانین ، نئی مشکلات

نئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوال

نئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوال
تحریر: شکیل گوندل
گزشتہ چند ہفتوں سے حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ’’نئے صوبے‘‘ کے معاملے پر جو لفظی جنگ جاری ہے، اس نے قومی سیاست کو ایک بار پھر تقسیم کی لکیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف حکومت ’’انتظامی بہتری‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی اسے ’’سیاسی اسٹنٹ‘‘ قرار دے کر مسترد کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک واقعی نئے صوبوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس لفظی جنگ کا حل کیا ہے؟
لفظی جنگ کی وجہ کیا ہے؟
حکومت کا موقف ہے کہ بڑے صوبے، خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا، انتظامی طور پر اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ انہیں مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں الگ انتظامی یونٹس یا صوبوں کے مطالبات بھی برسوں سے موجود ہیں۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کا اعتراض یہ ہے کہ موجودہ معاشی بحران میں نئے صوبوں کا قیام ایک اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ نئے صوبوں کا نعرہ محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے روایتی ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ الزامات، پریس کانفرنسیں اور اسمبلیوں میں بحث و تکرار جاری ہے، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اس لفظی جنگ کا حل کیا ہے؟
اس مسئلے کا فیصلہ جذبات، نعروں اور سیاسی مفادات کے بجائے آئین، اعداد و شمار، انتظامی ضرورت اور عوامی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کے لیے چند قابلِ عمل راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
پہلا راستہ: پارلیمانی کمیشن
وزیراعظم اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک غیر جانب دار پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے، جس میں وفاق اور تمام صوبوں کی مناسب نمائندگی ہو۔ یہ کمیشن ایک مقررہ مدت، مثلاً چھ ماہ، میں اس امر کا جائزہ لے کہ کن علاقوں میں نیا صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانا انتظامی، معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے قابلِ عمل ہے۔
کمیشن محض سیاسی دعووں کے بجائے آبادی، رقبے، وسائل، محصولات، روزگار، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور انتظامی ضروریات سمیت تمام متعلقہ عوامل کا جائزہ لے اور اپنی سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔
دوسرا راستہ: عوامی رائے یا ریفرنڈم
نئے صوبے کا معاملہ محض سیاسی جماعتوں کے درمیان طے نہیں ہونا چاہیے۔ جس علاقے کے لیے نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہاں کے عوام کی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ آئینی تقاضے اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ عوامی رائے جاننے کا شفاف طریقہ اختیار کیا جائے تو اس معاملے کی قبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر کسی علاقے کے عوام واضح اکثریت سے یہ سمجھتے ہیں کہ الگ صوبہ ان کے انتظامی اور معاشی مسائل کا بہتر حل ہے تو سیاسی جماعتوں کو اس رائے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
تیسرا راستہ: مرحلہ وار دس سالہ روڈ میپ
ایک دم نیا صوبہ قائم کرنے کے بجائے مرحلہ وار نظام اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پہلے متعلقہ علاقے میں مؤثر صوبائی سیکریٹریٹ یا انتظامی یونٹ قائم کیا جائے، اسے مناسب اختیارات اور وسائل دیے جائیں اور چند برس تک اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہو تو اگلے مرحلے میں اسے مکمل صوبے کا درجہ دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اس طرح سیاسی جذبات کے بجائے عملی کارکردگی کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔
سب سے بڑا سوال: وسائل کہاں سے آئیں گے؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جہاں پیپلز پارٹی کے مالی خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئے صوبے کا مطلب صرف ایک نیا نام یا نقشے پر ایک نئی لکیر نہیں، بلکہ ایک نیا انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔ نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، ہائی کورٹ، پولیس، محکمے، ملازمین، سرکاری عمارتیں، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر ادارے قائم کرنے کے لیے خطیر رقم درکار ہوگی۔
اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے وسائل کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اگر نئے صوبے وجود میں آتے ہیں تو موجودہ صوبوں کے حصے، مالیاتی ذمہ داریوں اور وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر بھی نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس معاملے پر موجودہ صوبوں کے تحفظات ہوں گے اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی فارمولا آسانی سے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
نئے صوبوں کو ابتدائی برسوں میں وفاقی یا دیگر خصوصی مالی معاونت کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ تاہم مستقل بنیادوں پر کسی نئے صوبے کو صرف وفاقی گرانٹس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اسے اپنی مضبوط معاشی بنیاد پیدا کرنا ہوگی۔ زراعت، صنعت، معدنیات، خدمات، تجارت اور مقامی ٹیکس بیس کو ترقی دینا ہوگا تاکہ صوبہ وقت کے ساتھ اپنے اخراجات کا بڑا حصہ خود برداشت کرنے کے قابل ہو سکے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی معاشی استحکام، بہتر انفراسٹرکچر، امن و امان، شفاف قوانین اور پالیسیوں کا تسلسل بنیادی شرائط ہیں۔ صرف نیا صوبہ بنا دینے سے سرمایہ کاری خود بخود نہیں آتی۔
سچ یہ ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں بیک وقت 14 یا 15 صوبے بنانا ایک انتہائی مشکل اور مہنگا منصوبہ ہوگا۔ اس لیے اگر نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو مرحلہ وار طریقہ زیادہ حقیقت پسندانہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک وقت میں ایک انتظامی یونٹ پر توجہ دے کر اس کی کارکردگی، مالی استطاعت اور عوامی قبولیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا نئے صوبوں کا معاملہ محض ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل سوال ’’کیسے؟‘‘ کا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں، خصوصاً پیپلز پارٹی، کو اعتماد میں لے اور ایک متفقہ قومی فریم ورک تیار کرے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کو بھی مخالفت برائے مخالفت کے بجائے اپنا متبادل انتظامی اور مالیاتی منصوبہ سامنے لانا چاہیے۔
ورنہ یہ لفظی جنگ اسی طرح جاری رہے گی اور جنوبی پنجاب کا کسان، ہزارہ کا طالب علم اور کراچی کا مزدور اپنے مسائل کے حل کا منتظر رہے گا۔
حقیقت یہی ہے کہ ملک کو محض نعرے نہیں، منصوبہ بندی، سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی اعتماد اور وسائل کی حقیقت پسندانہ تقسیم چاہیے۔ نئے صوبے اگر انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے کام ہونا چاہیے، لیکن ایسے ہر فیصلے کے ساتھ یہ سوال بھی لازماً پوچھا جانا چاہیے کہ اس کا مالی بوجھ کون اٹھائے گا اور عام آدمی کو اس سے کیا فائدہ ملے گا؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *