Banner

روٹی ۔۔۔۔۔ھر انسان کی بنیادی و لازمی ضرورت ھے

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی تقسیم غیر منصفانہ ھوتی ھے ایک طرف دولت کے ڈھیر اور دوسری طرف غربت کے سائے چھائے ھوتے ھیں جن کے پاس پیسہ ھے وہ پیسہ سے پیسہ کماتے ھیں ایک سرمایہ دار چائے کا ایک کپ پینے کے لیے پیرس چلے جاتے ہیں لیکن ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا دوسری طرف ایک مزدور صبح سے شام تک محنت کرتا ھے چاھے گرمی ھو یا سردی یا بارش وہ اسی حال میں مست ھے کیونکہ اس نے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوست کرنا ھے
ظلم کی انتہا یہ ھے کہ دس بارہ گھنٹے سخت ترین محنت کرنے کے بعد مالک سے جتنے پیسے ملتے ہیں ان سے وہ مشکل سے دو وقت کی روٹی کھا سکتا ھے
اور ھاں روٹی سے یاد آیا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ھے جو دنیا میں گندم کی پیداوار میں آٹھویں نمبر پر آتا ھے مگر حکومت اور اس کے اداروں کی نااہلیوں اور ملی بھگت سے اپنی گندم کی پیدوار افغانستان وغیرہ اسمگل ھو جاتی ھے یا ذخیرہ اندوز غائب کر دیتے ھیں جس سے ایک زرعی ملک میں آٹا کا بحران پیدا ھوتا ھے عوام کو مہنگی روٹی ملتی ھے پھر حکومت دیگر ممالک سے مہنگی گندم برآمد کرتی ھے جس پر کمشن الگ لیتے ہیں غریب کے لیے روٹی کھانا نہایت مشکل ھوتا جارھا ھے
روٹی ایک انسان کے لیے بنیادی و لازمی جزو ھے روٹی کے بغیر جینا نہایت مشکل ھے ایک فلاحی معاشرے کا فرض ھے کہ وہ سب کے لیے روٹی کا بندوست کرے مگر ھمارے معاشرے اس میں ناکام ھو چکا ھے اور اگر حکومت کی بات کریں تو وہ بھی اپنے بنیادی فرائض بھول چکی ھے اس کے سارے انتظامات ڈنگا ٹپاؤ نظام کے تحت چلتے ہیں
ھماری حکومتی ادارے پاسکو و خوارک وغیرہ 75 سال گزر جانے کے بعد میں گندم کو ذخیرہ کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر انتظامات کرنے میں ناکام ھیں اگر آپ کبھی گندم کے موسم میں دیہی علاقوں کا وزٹ کریں تو آپ کو کھلی جگہوں پر محکمہ خوراک یا پاسکو کی جانب سے گندم سٹور کرنے کے لئے اوپن گودام نظر آتے ھیں جہاں گندم کی بوریوں کو ترپال ڈال کر رکھا گیا ھے موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طریقہ سے محفوظ کی گئی لاکھوں ٹن گندم اکثر و بیشتر خراب ھو جاتی ھے
کسی زمانے میں محکمہ خوراک نے کئی شہروں میں گندم سٹور کرنے کے لئے مستقل بنیادوں پر گودام بنائے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ محکمے خوراک کے عملے و افسران کی بد نیتی چور بازاری و نااہلیوں کی وجہ سے یہ گودام تباہ و برباد ھو چکے ھیں ان گوداموں کی مرمت وغیرہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی حالانکہ تھوڑی سی توجہ اور پیسے سے یہ تباہ حال گندم سٹور کرنے والے سرکاری گودام مرمت ھو سکتے ھیں اور قابل استعمال بھی
ایسے اقدامات سے لاکھوں ٹن گندم کو بچایا جا سکتا ھے اور عوام کو سستی گندم آسانی سے فراھم کی جا سکتی ھے
ایک اور بات کا ذکر کرنا لازمی ھے کہ گندم و دیگر غذائی اجناس پیدا کرنے والے کسان بہت زیادہ مشکلات و مسائل کا شکار ھیں کسان کو وقت پر پانی نہیں مل رھا ھے دیہات میں بجلی ناپید ھو چکی ھے پورا پورا دن بجلی نہیں آتی جس کی وجہ سے کسان ٹیوب ویل چلنے سے قاصر ھیں فصلوں کو پانی دینے کے لئے ڈیزل انجن چلانے پڑتے ہیں ڈیزل مہنگا ھونے پر ڈیزل انجن چلانے پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں وقت پر پانی نہ ملنے پر فصلیں تباہ ھو رھی ھیں اور کسان بد حالی کا شکار ھیں اس کے علاؤہ بیج و کھادیں نہایت مہنگی ھو چکی ھیں بلکہ کھاد مافیا ناجائز منافع خوری سے کسانوں کو بری طرح لوٹ رھا ھے اور دوسری طرف تاجر برادری کسانوں سے سستی گندم خرید کر ذخیرہ کر لیتی ھے اور پھر مہنگے داموں فروخت کرکے ڈبل کماتی ھے جب کہ کسان اپنے اخراجات بھی پورے کرنے سے محروم رہتا ھے
بجلی اور پانی کسی بھی ملک و معاشرے خاص طور پر ھمارے دیہی علاقوں کی بنیادی ضروریات میں شامل ھوتی ھیں بجلی اور پانی ملے گا تو فصلیں کاشت ھوں گئیں فصلیں کاشت ھوں گئیں تو ھمارے ملک و شہروں کی معیشت کا پہیہ چلے گا اس لیے حکومت کا یہ فرض ھے کہ وہ اپنی دیہی علاقوں کو بجلی پانی جیسی بنیادی سہولیات کو نہایت معمولی داموں پر فراھم کرنے کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اس کے لیے حکومت نجی شعبہ کے تعاون سے ملک بھر میں دیہی علاقوں سے گزرتی ھوئی بڑی بڑی نہروں پر رینالہ خورد اور ندی پور جیسے ھزاروں ھائیڈو پاور پلانٹس ( بجلی گھر) بنائے جا سکتے ہیں جن سے کسان و دیہی علاقوں کو بآسانی سستی بجلی چوبیس گھنٹے فراھم کی جا سکتی ھے اگر واپڈا یا حکومت پاکستان کے پاس سمال ھائیڈور بجلی گھر بنانے کے لیے پیسے نہیں ھیں تو ایسے سمال ھائیڈور پاور پلانٹس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لگائے جا سکتے ھیں کیونکہ پاکستان کے سرمایہ کاروں کے پاس بہت پیسہ ھے
حکومت پاکستان و صوبائی حکومتیں ڈنگا ٹپاؤ نظام کے تحت کسانوں کی مدد کرنے کی خاطر ھر سال گندم و دیگر اجناس کی امدادی قیمت خرید میں اضافہ کرتی چلی آرھی ھیں اتنی سی بات ھمارے حکمرانوں اور پالیسی میکرز کو سمجھ نہیں آتی کہ اگر گندم کی قیمت خرید میں اضافے ھوں گئے تو لازمی آٹا مہنگا ھو گا جب اٹا مہنگا ھوگا تو روٹی بھی مہنگی سے مہنگی ھوتی جائے گئی جس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا
یہاں حکومت و دیگر اداروں سے گزارش ھے کہ جناب ھر سال گندم کی امدادی قیمت خرید بڑھانے کی بجائے کسانوں کو بجلی پانی فری اور کھاد بار دانہ بیج و دیگر بنیادی سہولیات کم از کم معاوضے پر فراھم کریں اور گندم کی قیمت خرید کم رکھیں
گندم و دیگر زرعی اجناس کی خرید کمرشل بینکوں کے ذریعے کی جائے اور فصل تیار ھونے پر بیوپاریوں کی بجائے کمرشل بینک کسان کو معاوضہ ادا کریں اور بنک خود کھیتوں سے گندم اٹھا کر آگے مارکیٹ میں فروخت کریں اور پیسے کمائیں
ھر فلاحی حکومت کی یہ بنیادی زمہ داری ھے کہ وہ اپنی عوام کو سستی روٹی فراھم کرے ۔۔۔

روٹی ۔۔۔۔۔ھر انسان کی بنیادی و لازمی ضرورت ھے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us