Banner

نیشنل پارٹی مکران چیپٹر کی کارکردگی– حقائق بمقابلہ پروپیگنڈے

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: شمبے تگرانی
نیشنل پارٹی اکثر حکومت میں رہی ہے ان کے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے علاوہ سینیٹ کے عہدوں پر براجمان ہو چکے ہیں اور ابھی ہیں ـ حتیٰ کہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ بھی ان کے پاس رہا ہے۔ پارٹی کے اراکین اور ان کے حواری اپنے آپ کو ہمیشہ عوامی خدمات کے چیمپئن پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کالم میں ہم نیشنل پارٹی مکران چیپٹر کی کارکردگی کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ کیا مکران کے بارے میں نیشنل پارٹی کے بلند و بانگ نعرے حقائق پر مبنی ہیں یا محض من گھڑت پروپیگنڈے ہیں؟ اس سلسلے نیشنل پارٹی مکران کے اراکین اور حواریوں کے ہاں صرف دو منترے ہیں ـ

ان کا پہلا منترا یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صاحب نے تربت شہر کا بنیادی ڈھانچہ جدید طرز پر استوار کر کے تربت کو بہت خوبصورت بنایا ہے. آپ نے تمام تجاوزات کا خاتمہ کر کے سڑکیں کشادہ اور پکی بنائی ہیں اور عوام کی سیرو تفریح کے لیے شہر میں دو پارکیں بنائی ہیں، آئیے دیکھتے ہیں کہ ان باتوں میں کتنے حقائق ہیں ـ حضور والا! تربت شہر محض دو مربع کلو میٹر کے احاطے پر محیط ہے ـ ڈاکٹر صاحب نے اسی دو مربع کلو میٹر کے احاطے پر صرف تین کشادہ مگر چھوٹی سڑکیں بنائی ہیں ـ باقی اندرون شہر کی گلیاں بشمول مین بازار قرون وسطی کے منظر پیش کرتی ہیں ـ جہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں اور گلیاں گندگی کے ڈھیر بن چکی ہیں۔ ناقص سیورج نظام کی وجہ سے بارش سے اکثر گھر پانی سے بھر جاتے ہیں ـ جہاں تک پارکوں کی بات ہے تو تربت شہر میں صرف دو چھوٹی پارکیں بنائی ہیں اور ہر پارک تقریباً تین سو مربع میٹر کے احاطے پر پھیلی ہوئی ہے۔ ان میں بچوں کے کھیلنے کے لیے نہ کوئی آلے ہیں اور نہ بڑوں کی ورزش کے لیے کوئی سہولت ہے ـ
۔ نیشنل پارٹی مکران چیپٹر کا دوسرا منترا یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صاحب نے تعلیم کے شعبے میں مکران کے لیے بہت بڑا کام کیا ہے بقول نیشنل پارٹی والوں کے جامعہ تربت، جامعہ پنجگور، جامعہ گوادر اور مکران میڈیکل کالج ڈاکٹر صاحب کی خدمات کی واضح مثالیں ہیں جن میں اہل علاقہ کے طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ آئیے اس منترا کا پوسٹ مارٹم کر کے دیکھتے ہیں کہ ان میں کتنی سچائی ہے۔ جہاں تک ان جامعات اور مکران میڈیکل کالج کے قیام کی بات ہے، ان کا سہرا ڈاکٹر عبدالمالک صاحب کو ہرگز نہیں جاتا کیونکہ ان تعلیمی اداروں کا قیام آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا منصوبہ تھا کہ بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے صوبے میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ـ اس سلسلے میں بلوچستان میں جامعہ بلوچستان کی مختلف سب کیمپسوں اور بولان میڈیکل کالج کی کئی سب کیمپسوں کا قیام عمل میں لایا گیاـ جن میں جامعہ تربت، جامعہ گوادر، جامعہ پنجگور، جامعہ لورلائی، جامعہ وڈھ اور جامعہ چاکر اعظم شامل ہیں اور میڈیکل کالجوں میں مکران میڈیکل کالج، جالاوان میڈیکل کالج، بولان میڈیکل کالج اور لورلائی میڈیکل کالج شامل ہیں۔ اگر صرف مکران کے تینوں جامعات اور مکران میڈیکل کالج بنائے جاتے تو پھر ان کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر پر جاتا۔ لہٰذا نیشنل پارٹی مکران چیپٹر کا دوسرا منترا بھی حقائق کے بجائے جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی ہے۔

اسی طرح صحت عامہ کے شعبے میں نیشنل پارٹی مکران کی کارکردگی کچھ بہتر نہیں ہے۔ آئیے مکران کے سب سے بڑے سول ہسپتال کی طرف چلتے ہیں۔ سول ہسپتال تربت ایک پرانا ہسپتال ہے تاہم نیشنل پارٹی نے نہ ان کا بنیادی ڈھانچہ بہتر کیا ہے اور نہ ہی نئی مشینری لانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ البتہ انہوں نے اپنے چند من پسند ڈاکٹروں کی تعیناتیاں ضرور کی ہیں۔ حقیقتاً ظہور بلیدی نے تربت سول ہسپتال کے بنیادی ڈھانچے کو جدید طرز پر استوار کرنے اور اسے نئی مشینری سے لیس کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چند مہینے پہلے ظہور صاحب نے تربت سول ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔ آپ نے سول ہسپتال کے اسٹاف کی غیرحاضریوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔ لہٰذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تربت سول ہسپتال کو فعال اور بہتر بنانے کا سہرا ظہور صاحب کے سر جاتا ہے۔ جہاں تک نیشنل پارٹی مکران کے اراکین اور نمائندوں کا تعلق ہے، انہوں نے آج تک مکران میں ایک ڈسپنسری قائم نہیں کیا ہے۔ اگر کسی کو معلوم ہے تو ہمیں ضرور بتائیں۔ لہٰذا صحت عامہ کے شعبے میں نیشنل پارٹی کی کارکردگی دعوے حقائق کے بجائے ان کی پروپیگنڈا مشینری کی پیداوار ہیں۔
علاوہ ازیں، تعلیم کے شعبے میں نیشنل پارٹی نے صرف ایک نمایاں کام کیا ہے ـ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ صاحب نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران اسکول لیول کے اساتذہ کی بھرتیاں اہلیت (میرٹ) پر کروائی تھیں، جن میں کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار لوگ بھرتی ہوئے. اس کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں نیشنل پارٹی کی کارکردگی صفر ہے آج تک نیشنل پارٹی کے وزراء اور سینیٹرز نے کسی اہل اور ضرورت مند طالبعلم کو وظیفہ یا مالی امداد فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی انہوں نے آج تک کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے۔ البتہ انھوں نے اپنے عزیز و اقارب کو وظائف دے کر بیرون ملک پڑھنے کے لیے بیجھتے رہے ہیں ان کے برعکس ظہور بلیدی کی سیاست اقربا پروری اور تعصب سے پاک عوامی خدمات پر مزکور ہے۔آپ نے تعلیم کے میدان میں خصوصاً مکران کے لوگوں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
مزید براں، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی صاحب اپنے حلقے میں بمشکل جاتے ہیں. اگر سال میں ایک دفعہ جاتے ہیں تو مہمان بن کر ایک دن قیام کر کے واپس چلے جاتے ہیں. کیونکہ بلیدی صاحب کے گھر کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد میں ہیں۔ جناب والا! آپ خود فیصلہ کریں کہ جان بلیدی صاحب کیسے بلیدہ و زامران کے لوگوں کا رہنما بن سکتے ہیں جہاں وہ خود مہمان ہو۔ کسی علاقے کا نمائندہ بننے کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں، جو شخص سالہاسال اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد اور کراچی کے ڈیفنس میں ایئر کنڈیشنڈ بنگلوں میں زندگی گزارتا ہے اور سال میں ایک دفعہ مہمان بن کر اپنے حلقے کا دورہ کرتا ہے۔ تو ایسا شخص کبھی بھی ایک حقیقی عوامی نمائندہ بن نہیں سکتا۔ اس کے برعکس ظہور بلیدئی صاحب کے مہمان خانے (بیٹک) بلیدہ، تربت (اسلام اور شے نسیم بلیدی کے گھر) اور کوئٹہ میں چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ جہاں عوام جوق در جوق اپنی فریادیں لے کر آتی ہے۔ وہاں نہ صرف ان کی خدمت کی جاتی ہے بلکہ ان کی داد رسی بھی کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی اور اسلام آباد میں رہنے والا شخص مکران خصوصاً بلیدہ، زامران اور تربت کے لوگوں کا رہنما ہرگز نہیں بن سکتا۔

اسی طرح بدقسمتی سے عوامی فلاح اور علاقائی ترقیاتی کاموں کا مخالفت کرنا بھی ہمیشہ نیشنل پارٹی کا وطیرہ رہا ہے۔ میں کئی ایسی مثالیں دے سکتا ہوں، جہاں نیشنل پارٹی مکران کے ارکان اور حواری کھلم کھلا عوامی فلاحی اور ترقیاتی کاموں کا مخالفت کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ سب سے واضح مثال شہید ایوب ،بلیدی روڈ (بلیدہ ٹو تربت روڈ) کی تعمیر کی مخالفت ہے، اس سلسلے میں نیشنل پارٹی والوں نے سماجی رابطے کا میڈیا اور حتیٰ کہ پرنٹ میڈیا (ڈان رپورٹ) کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈے چلائے تاکہ روڈ کو متنازع بنا کر روک دیا جاہے۔ اسی طرح انہوں نے شہید ایوب سیکنڈری اسکول اور غلام فاروق میموریل ہسپتال کے قیام کی شدید مخالفت کی ہے۔ علاوہ ازیں، نیشنل پارٹی والوں نے شہرک سے کولواہ تک ظہور صاحب کے تمام عوامی فلاحی اسکیموں اور سڑکوں کی تعمیر کو متنازع بنانے کی بڑی کوششیں کی ہیں تاکہ ان کو روکا جائے ،لیکن وہ اپنے تمام تر پروپیگنڈا مشینری استعمال کرنے کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ حقیقت کو چھپایا ناممکن ہے بلوچی کی کہاوت ہے۔ “روچ پہ لنکک ء اندیم نہ بیت”

نیشنل پارٹی مکران چیپٹر کی کارکردگی– حقائق بمقابلہ پروپیگنڈے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us