Banner

سیرت نبوی سے ہمیں رحم دلی اور امن و آشتی کا درس ملتا ہے،ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری

Share

Share This Post

or copy the link

انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اسوۂ حسینیؓ کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔وائس چانسلر کا سیمینار سے خطاب

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کے سیرت النبیﷺ چیئر اور شعبہ اسلامیات کے زیر اہتمام یونیورسٹی آڈیٹوریم میں ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ’’حضرت امام حسینؓ: سیرتِ نبویؐ کے عملی ترجمان اور نوجوانوں کے لیے نمونۂ عمل‘‘ تھا ۔ تقریب سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علم، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی پر مبنی رہنما اصولوں کو اجاگر کیا۔اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر نے کہا کہ امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی کسی ایک مکتبِ فکر، گروہ یا خاص طبقے کی میراث نہیں ہے، بلکہ آپؓ پوری انسانیت اور خصوصاً مسلم امہ کا سانجھا اثاثہ اور اتحاد کا مرکز ہیں ۔ انہوں نے واضع کیا کہ سیرتِ نبویؐ سے ہمیں رحم دلی، عفو و درگزر اور امن و آشتی کا درس ملتا ہے اور امام حسینؓ نے اپنے بے مثل عمل سے ثابت کیا کہ وہ اسی اسوۂ حسنہ کے سب سے سچے نقیب اور ترجمان ہیں۔ملک اور نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا زہر ہماری سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے ۔ تاہم، جب ہم کربلا اور اسوۂ حسینیؓ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں انتشار نہیں بلکہ اتحاد، امن اور سکون کا پیغام ملتا ہے ۔ انہوں نے امام عالی مقامؓ کا فرمانِ عالیشان نقل کیا کہ ’’میں سرکشی، تکبر، فساد یا ظلم پھیلانے کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس فرمان کے تحت ہماری توانائیاں توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اصلاح اور جوڑنے کے لیے ہونی چاہئیں، اور انتہا پسندی کا جواب علم، امن اور محبت سے دینا ہی سچا حسینی کردار ہے۔باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے نوجوانوں کو ان کا سنہرا قول یاد دلایا: ’’لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا پھر انسانیت کے ناطے تمہارے جیسے انسان ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس ایک جملے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کا پورا فلسفہ موجود ہے جس پر عمل پیرا ہو کر معاشرے سے نفرت اور تعصب کا خاتمہ ممکن ہے ۔ حضرت علیؓ کے دوسرے فرمان ’’جہالت سے بڑھ کر کوئی مفلسی نہیں، اور عقل و دانش سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں‘‘ ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کا مقصد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں بلکہ طلبہ میں وہ عقلِ سلیم پیدا کرنا ہے جو انہیں فرقہ واریت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔خطاب کے اختتام پر وائس چانسلر نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ حالات کتنے ہی کٹھن ہوں، اصولوں پر سودے بازی نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی حسینی بننے کے لیے دل میں وسعت، زبان میں مٹھاس، امن پسندی اور دوسرے کے نظریات کا احترام کرتے ہوئے مکالمے (Dialogue) کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی پلیٹ فارم سے یہ عہد کیا گیا کہ تعلیمی ادارے اور معاشرے میں انتہا پسندی کو پنپنے نہیں دیا جائے گا، فرقہ وارانہ نفرتوں سے بالاتر ہو کر ایک پرامن پاکستانی بن کر جیا جائے گا، اور علم، تحقیق و اخلاق کو اپنا ہتھیار بنایا جائے گا ۔ وائس چانسلر نے خوبصورت تقریب کے کامیاب انعقاد پر سیرت النبیؐ چیئر اور شعبہ اسلامیات کا خصوصی شکریہ ادا کیا ۔

سیرت نبوی سے ہمیں رحم دلی اور امن و آشتی کا درس ملتا ہے،ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us