Banner
Daily Sahafat Quetta
November 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگومنفی درجہ حرارت میں گیس کی بندش کسی بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہے، مولانا قاری مہراللہملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ فارم 47 کی حکومت سے نجات ہے، مولانا عبدالقادر لونیکسی بھی جماعت کی تنظیمی مضبوطی اور فعالیت میں شعبہ مالیات بنیادی اہمیت رکھتا ہے، حاجی صالح محمدوزیراعلیٰ پنجاب سے ننھے محمد صمد کے علاج کے لیئے فوری مدد کی اپیلTENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2340/06-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2320/06-11-2026انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگومنفی درجہ حرارت میں گیس کی بندش کسی بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتی ہے، مولانا قاری مہراللہملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ فارم 47 کی حکومت سے نجات ہے، مولانا عبدالقادر لونیکسی بھی جماعت کی تنظیمی مضبوطی اور فعالیت میں شعبہ مالیات بنیادی اہمیت رکھتا ہے، حاجی صالح محمدوزیراعلیٰ پنجاب سے ننھے محمد صمد کے علاج کے لیئے فوری مدد کی اپیلTENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2340/06-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PQ NO.2320/06-11-2026انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی

وفاق میں اتحادی، گلگت میں حریف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی کشمکش


تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ
پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے دلچسپ سیاسی اتحادوں، مفادات اور بدلتے ہوئے حالات کا مجموعہ رہی ہے۔ بسا اوقات وہ جماعتیں جو وفاق یا کسی صوبے میں ایک دوسرے کی اتحادی نظر آتی ہیں، انتخابی میدان میں آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ حالیہ دنوں گلگت بلتستان کی سیاسی فضا میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں وفاق اور بلوچستان میں ایک دوسرے کے ساتھ حکومت چلانے والی جماعتیں، یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن
ایک دوسرے پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔
یہ صورتحال بظاہر متضاد محسوس ہوتی ہے، مگر پاکستانی سیاست کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ سیاسی جماعتیں قومی سطح پر استحکام، پارلیمانی تعاون اور حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے اتحاد قائم کرتی ہیں، لیکن جب بات انتخابات اور عوامی حمایت حاصل کرنے کی آتی ہے تو ہر جماعت اپنی الگ شناخت اور سیاسی بیانیے کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جس کی سیاسی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہاں ہونے والے انتخابات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ قومی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کا بھی ایک پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں کبھی پیپلز پارٹی نے یہاں اپنی سیاسی برتری قائم کی، تو کبھی مسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی میں کامیابی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی ماحول میں تنقید اور سیاسی مقابلہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم اس تنقید کا دائرہ شائستگی اور عوامی مسائل تک محدود رہنا چاہیے۔ بدقسمتی سے اکثر سیاسی جماعتیں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور پالیسیوں پر بحث کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست کو ترجیح دیتی ہیں، جس سے عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعاون کی بنیادی وجہ ملکی سیاسی استحکام اور نظام حکومت کا تسلسل ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں دونوں جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی اتحاد اکثر نظریاتی بنیادوں سے زیادہ سیاسی ضرورتوں اور حالات کے تابع ہوتے ہیں۔
عوام کی توقع یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں محض ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے خطے کی ترقی، نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، صحت، سیاحت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے اپنے واضح پروگرام پیش کریں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو ایسے سیاسی بیانیے کی ضرورت ہے جو انہیں بہتر مستقبل کی امید دے، نہ کہ صرف سیاسی محاذ آرائی کا منظر پیش کرے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جمہوریت میں سیاسی اختلاف ایک فطری عمل ہے، لیکن قومی مفاد اور عوامی خدمت کو ہمیشہ سیاسی رقابت پر فوقیت ملنی چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتیں مثبت مقابلے کو فروغ دیں تو نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *