Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہنقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہ

عید ملن ۔اتحاد، تعلیم اور سماجی شعور کا مظہر

عید ملن ۔اتحاد، تعلیم اور سماجی شعور کا مظہر
احمد خان اچکزئی کے فکر و فلسفے کے آئینے میں
تحریر و رپورٹ ،اے کے میڈیاٹیم پاکستان

قارئین کرام ۔عیدالضحیٰ کا مبارک اور پرمسرت تہوار جہاں ہمیں مذہبی ہم آہنگی، ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے، وہاں یہ سماجی سطح پر بکھرے ہوئے رشتوں کو یکجا کرنے، دلوں کی دوریوں کو مٹانے اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنے کا ایک بہترین اور موزوں ترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پشتون بیلٹ کی روایات اور اعلیٰ اقدار میں عید ملن کی محافل کو ہمیشہ سے ایک خاص اور کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے، جہاں زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے افراد، دانشور، قبائلی عمائدین اور نوجوان طبقہ ایک جگہ جمع ہو کر نہ صرف عید کی خوشیاں دوبالا کرتے ہیں بلکہ قومی و علاقائی امور پر سیر حاصل گفتگو بھی کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی عیدالضحیٰ کے پرمسرت موقع پر پشتون بیلٹ کے طول و عرض سے مختلف مکاتبِ فکر، سماجی، تعلیمی اور ادبی شعبوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے سربراہِ قبائل اور معروف دانشور احمد خان اچکزئی سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور عید کی مبارکباد پیش کی۔ یہ عید ملن محض ایک روایتی سماجی اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا فکری اور مشاورتی پلیٹ فارم بن کر ابھرا جہاں علاقے کی تعمیر و ترقی، امن و امان، تعلیم اور مستقبل کے لائحہ عمل پر انتہائی گہرائی کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اے کے میڈیا ٹیم پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد خان اچکزئی نے اس عید ملن کے حقیقی فلسفے، مقاصد اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انتہائی جامع، بصیرت افروز اور فکر انگیز خیالات کا اظہار کیا۔احمد خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ عید ملن دراصل ہمارے باہمی اتحاد، اتفاق اور وطنِ عزیز و علاقے کے مختلف اور گوناگوں خیالات رکھنے والے لوگوں کا ایک ایسا تعمیری اجتماع ہے جس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کو نزدیکی سے سننا، سمجھنا اور علاقے کے عوام کو درپیش گوناگوں اور مختلف قسم کے سنگین مسائل پر انتہائی باریک بینی کے ساتھ گفت و شنید کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ عید کے ان لمحات کو ہمیں صرف روایتی خوشیوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان ملاقاتوں کو اپنے علاقے کے پسماندہ طبقات کی آواز بننے اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ اس پروقار اور فکری اجتماع کے دوران حاضرین اور معزز مہمانوں نے احمد خان ایجوکیشن سسٹم اور کاکا شہیدؒ فاؤنڈیشن کی بے لوث اور بے مثال سماجی و تعلیمی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنے گراں قدر تبصرے اور تجاویز پیش کیں۔ احمد خان اچکزئی نے فاؤنڈیشن کے طریقہ کار اور اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ کاکا شہیدؒ فاؤنڈیشن کسی بیرونی امداد یا سرکاری فنڈنگ پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ وہ اسے مکمل طور پر اپنے ہی بل بوتے پر، اپنی ذاتی جمع پونجی اور خالصتاً انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت چلا رہے ہیں۔ اس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام علاقے کے غریب اور مستحق بچوں کے لیے پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولز قائم کیے گئے ہیں جہاں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دی جا رہی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشرتی روایات اور ضرورت کے مطابق لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ تعلیمی سیکشنز کا بہترین اور محفوظ انتظام کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ یا بچی زیورِ تعلیم سے محروم نہ رہے۔تعلیمی سفر کو مزید وسعت دینے اور علاقے کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے اسی تسلسل اور کڑی کے طور پر 20 جون 2026 کو احمد خان پبلک کالج کا ایک گرینڈ اور تاریخی افتتاح ہونے جا رہا ہے جو اس پورے خطے کے لیے ایک عظیم تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ احمد خان اچکزئی نے بتایا کہ اس پروقار تعلیمی پروگرام کے تسلسل میں جہاں علم و دانش کی شمعیں روشن ہوں گی، وہاں ان کے طویل اکیڈمک نالج، عمیق زمینی حقائق، قومی و بین الاقوامی حالات و واقعات کے گہرے مشاہدے اور برسوں کی انتھک محنت کا نچوڑ یعنی ان کی تصنیف کردہ شہرہ آفاق کتاب “دی گریٹ گیم کا خاتمہ : بیجنگ سے واشنگٹن تک” (The End of the Great Game) کی باقاعدہ رونمائی کا تاریخی پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا جو خطے کی جیو پولیٹکس اور بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنے فکری پیغام میں اس بات پر انتہائی سختی کے ساتھ زور دیا کہ میرا اصل اور حقیقی مقصد یہ ہے کہ جس طرح لوگ عید ملن کے موقع پر انتہائی محبت، خلوص، اتحاد اور یگانگت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اس عارضی رویے کو مستقل عادت میں تبدیل کریں اور ہمہ وقت اسی خوبصورت صفت کو اپنائے رکھیں تاکہ معاشرے میں پائیدار تبدیلی لائی جا سکے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عارضی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، باہمی اتحاد و اتفاق کی مضبوط رسی کو تھام کر، مل جل کر اپنے علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور تعلیم، صحت، امن و امان کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خصوصاً اپنے اردگرد موجود غریبوں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے جیسے عظیم اور مقدس کاموں کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنائیں۔ جب تک ہم سب مل جل کر ایک مخلص اور منظم قوم کی طرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر کوششیں نہیں کریں گے، تب تک پائیدار ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، لہذا عید کا یہ پیغام عزمِ نو کا متقاضی ہے کہ ہم علم کی روشنی پھیلانے اور انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں ایک دوسرے کا دست و بازو بنیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *