Banner

نم آنکھوں کا خاموش نوحہ

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: عبدالصمد حقیار

ایک بے بس باپ اپنے مظلوم اور بے گناہ شہید بیٹے کے جنازے کے پاس جس کرب، بے بسی اور خاموش اذیت کے عالم میں بیٹھا تھا وہ محض خاموشی نہ تھی بلکہ ایک ایسا دردناک نوحہ تھا جس کی بازگشت ہر حساس دل کو جھنجھوڑ رہی تھی اس کے لب اگرچہ خاموش تھے مگر اس کی نم آلود آنکھیں لرزتے ہوئے ہاتھ اور شکستہ چہرہ ایک ایسی داستانِ الم سنا رہے تھے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں بعض درد اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انہیں صرف محسوس کیا جاسکتا ہے لکھا یا بولا نہیں جاسکتا۔ بلوچستان کے ضلع ہرنائی تحصیل شاہرگ کے اس ضعیف اور دکھی والد کی خاموش آہیں عید کی تمام خوشیوں پر بھاری محسوس ہو رہی تھیں ان کی آنکھوں سے بہنے والا ہر آنسو انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ بظاہر وہ خاموش بیٹھے تھے مگر ان کے سینے میں اٹھنے والا غم و اندوہ کا طوفان ہر صاحبِ دل انسان کو اندر تک ہلا رہا تھا جوان بیٹے کے جنازے کے سامنے ایک باپ کا اس طرح بیٹھ جانا یقیناً زندگی کے ان اذیت ناک ترین اور روح فرسا لمحات میں سے ایک ہے جنہیں دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اس بزرگ والد کی خاموش کیفیت نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ ظلم جب معصوم جانوں کو نگلتا ہے تو اس کے زخم صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل پر ثبت ہوجاتے ہیں۔

26 مئی کی شب عیدالاضحیٰ کی چاند رات کو بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی تحصیل شاہرگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پانچ بے گناہ نوجوانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا ایک طرف پوری قوم عید کی خوشیوں کی تیاریوں میں مصروف تھی تو دوسری جانب ہرنائی کی فضائیں جوان لاشوں کے جنازوں اور سوگ کی آہوں سے بوجھل تھیں صبح جب لوگ عید کی خوشیاں منا رہے تھے اس وقت شاہرگ کے غمزدہ عوام اپنے لختِ جگر نوجوانوں کو سپردِ خاک کر رہے تھے۔ بلاشبہ نوجوانوں کی شہادت کسی بھی معاشرے کے لیے ایک ناقابلِ برداشت سانحہ ہوتی ہے کیونکہ ان کی جدائی صرف ایک گھر یا خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر ایک گہرا زخم بن جاتی ہے۔اس اندوہناک واقعے کا درد اگرچہ الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا تاہم انہی شہداء میں شامل شہید قاہر میانی کے ضعیف والد کی اپنے جوان بیٹے کی میت کے پاس بیٹھے ہوئے منظر نے اس کرب کو پوری دنیا کے سامنے آشکار کردیا۔ ان کی خاموش آنکھیں شکستہ وجود اور بے بسی سے بھرپور کیفیت نے ہر دیکھنے والے کے دل کو غم سے بوجھل کردیا اس ایک ویڈیو نے نہ صرف ہر آنکھ کو اشکبار کیا بلکہ ہر حساس دل کو یہ احساس بھی دلایا کہ بلوچستان کے عوام کس کرب محرومی اور مسلسل درد سے گزر رہے ہیں۔ یہ منظر محض ایک خاندان کا المیہ نہیں تھا بلکہ پورے بلوچستان کے اجتماعی دکھ بے بسی اور انسانی المیے کی ایک دردناک تصویر بن چکا ہے۔

بدقسمت بلوچستان میں ایسے بے شمار والدین موجود ہیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کے جنازے اپنے کمزور کندھوں پر اٹھائے کتنی ہی ماؤں کی گودیں ہمیشہ کے لیے اجڑ گئیں کتنی ہی بہنوں کے سروں سے بھائیوں کی شفقت کا سایہ چھن گیا اور کتنے ہی گھرانوں کی خوشیاں ایک لمحے میں ماتم میں تبدیل ہوگئیں یہ سرزمین مدتوں سے خون آہوں سسکیوں اور بے شمار انسانی المیوں کی گواہ بنی ہوئی ہے۔ یہاں اکثر گھروں میں خوشیوں کے چراغ بجھ چکے ہیں اور ہر طرف محرومی خوف اور غم کی ایک طویل داستان بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر جب دنیا بھر میں خوشیاں منائی جارہی تھیں بدقسمت بلوچستان کے کئی علاقوں میں فضا سوگوار تھی کہیں جنازے اٹھ رہے تھے کہیں فاتحہ خوانی ہورہی تھی کہیں ماؤں کی آہ و بکا سنائی دے رہی تھی اور کہیں ایک ضعیف باپ خاموش آنکھوں سے اپنے اجڑے ہوئے آنگن کو تک رہا تھا۔ عین عید کے ایام میں پیش آنے والے یہ دردناک واقعات صرف چند خاندانوں کا ذاتی غم نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کی اجتماعی اذیت کی عکاسی ہیں جو برسوں سے امن انصاف تحفظ اور سکون کی امید لیے مسلسل کرب سے گزر رہا ہے۔ یہ مناظر انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور اہلِ اقتدار کو سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دینے کے لیے کافی ہیں۔

نم آنکھوں کا خاموش نوحہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us