Banner

ظریف خان شہید: پشتون قومی جدوجہد کا روشن باب

Share

Share This Post

or copy the link


پشتون قومی تحریک کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور مزاحمت سے بھری پڑی ہے۔ اس تاریخ کے ہر باب میں ایسے عظیم کردار موجود ہیں جنہوں نے اپنی قوم کے حقوق، آزادی اور وقار کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہی عظیم شخصیات میں ایک روشن اور ناقابلِ فراموش نام ظریف شہید کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی مظلوم قوموں کے حق، انصاف اور قومی بیداری کےلئے وقف کر دی۔ ان کی جدوجہد صرف ایک فرد کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک تحریک اور ایک شعور کا نام بن چکے تھے۔شہید ظریف کا تعلق کلی شیخان ژوب سے تھا۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب پشتون قوم سیاسی، سماجی اور معاشی ناانصافیوں کا شکار تھی۔ بچپن ہی سے ان کے اندر ظلم کے خلاف نفرت اور حق گوئی کا جذبہ موجود تھا۔ یہی جذبہ آگے چل کر انہیں قومی سیاست اور پشتون طلبہ تحریک کی طرف لے گیا۔ انہوں نے تعلیم کے دوران میرکنٹونٹمنٹ ہائی اسکول (فورٹ منرو) ڈیرہ غازی خان میں اپنے سیاسی شعور کو مزید جلا بخشی اور نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کےلئے سرگرم کردار ادا کیا۔
1967 میں پشتون طلباء تنظیم کے پلیٹ فارم سے انہوں نے طلبہ کو منظم کرنے، انہیں قومی حقوق سے آگاہ کرنے اور ظلم و جبر کےخلاف آواز بلند کرنے کا آغاز کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے باشعور نوجوان ہوتے ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں نوجوان نسل کی سیاسی اور فکری تربیت پر صرف کیں۔ ان کی تقاریر نوجوانوں میں ولولہ، حوصلہ اور مزاحمتی جذبہ پیدا کرتی تھیں۔ وہ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک نظریاتی رہنما تھے۔
ظریف شہید نے ہمیشہ پشتون قومی تحریک کو عدم تشدد، شعور اور منظم جدوجہد کے راستے پر چلانے کی کوشش کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی آزادی صرف نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل قربانیوں، اتحاد اور سیاسی بصیرت سے حاصل کی جاتی ہے۔ ان کی شخصیت میں سادگی، بہادری، استقامت اور عوام دوستی نمایاں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بہت کم عرصے میں نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ ایوبی آمریت کے دوران 29 مئی 1968 کا دن پشتون قومی تحریک کی تاریخ کا ایک المناک مگر یادگار دن ہے۔ اس دن کوئٹہ میں پشتون طلبہ اپنے حقوق اور مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو نوجوانوں کی بیداری برداشت نہ ہوئی اور ان پر تشدد کیا گیا۔ اسی دوران ظریف خان شہید کو نشانہ بنایا گیا۔ وہ قوم، حق اور آزادی کے لیے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت نے پشتون نوجوانوں کے دلوں میں ایک نئی آگ، ایک نیا جذبہ اور ایک نئی بیداری پیدا کی۔
ظریف شہید کی قربانی نے ثابت کیا کہ ظلم وقتی طور پر آوازوں کو خاموش تو کر سکتا ہے، مگر نظریات کو ختم نہیں کر سکتا۔ ان کی شہادت کے بعد پشتون نوجوان مزید منظم ہوئے اور قومی تحریک کو نئی قوت ملی۔ ان کا نام پشتون تاریخ میں مزاحمت، قربانی اور استقلال کی علامت بن گیا۔ آج بھی جب پشتون قومی حقوق، آزادی، انصاف اور خودمختاری کی بات ہوتی ہے تو ظریف خان شہید کا نام احترام اور عقیدت سے لیا جاتا ہے۔
وہ نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ قوموں کی ترقی اور بقا کے لیے قربانی، شعور اور مسلسل جدوجہد ناگزیر ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے خون سے یہ پیغام دیا کہ حق کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر قوم کے نوجوان باشعور، متحد اور منظم ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں غلام نہیں رکھ سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شہید ظریف اور دیگر قومی شہداءکی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ کریں بلکہ ان کے نظریات، فکر اور جدوجہد کو بھی آگے بڑھائیں۔ نوجوان نسل میں سیاسی شعور، تعلیمی بیداری اور قومی اتحاد کو فروغ دینا ہی ان عظیم قربانیوں کا حقیقی احترام ہوگا۔ کیونکہ قومیں اپنے شہداءکو یاد رکھ کر ہی زندہ رہتی ہیں، اور جو قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ میں اپنا مقام کھو بیٹھتی ہیں۔
شہید ظریف خان شہید آج بھی پشتون نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کا نام حوصلے، غیرت، مزاحمت اور قومی وقار کی علامت ہے۔ ان کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک مشعلِ راہ رہے گی، اور تاریخ ہمیشہ اس عظیم سپوت کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔تحریر:- عارفہ صدیق ایڈوکیٹ

ظریف خان شہید: پشتون قومی جدوجہد کا روشن باب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us