Banner

کراچی کی سیاست میں ٹکراؤ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی آمنے سامنے

Share

Share This Post

or copy the link

کراچی کی سیاست میں ٹکراؤ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی آمنے سامنے

تحریر: محمد عُبیدالله میرانی

کراچی کی سیاست ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایم کیو ایم پاکستان پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور الزامات کی نئی لہر میں مصروف ہیں یہ صورتحال محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اس شہر کے دیرینہ مسائل ترقیاتی دعوؤں اور عوامی اعتماد کے بحران کی عکاس بھی ہے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی اور سابق میئر وسیم اختر نے حالیہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کراچی میں سرکاری زمینوں پر منظم قبضے کیے گئے ہیں اور شہر کو اس کے آئینی و انتظامی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے وسیم اختر نے یہاں تک کہا کہ شہر کی صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنی چاہیے ان الزامات کے چند گھنٹوں بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں سیاسی دکانداری قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ہر دور میں بحران کی سیاست کرتی رہی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے منصوبے جیسے شاہراہِ بھٹو اور ییلو لائن کراچی میں ترقی کا عملی ثبوت ہیں اسی روز کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے بھی کہا کہ شہر میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور تنقید کرنے والوں کو اپنی ماضی کی کارکردگی بھی دیکھنی چاہیے ان کے مطابق کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے دونوں بڑی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود شہری مسائل حل نہیں کیے۔ ان کے مطابق پانی صفائی ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی اختیارات آج بھی بنیادی بحران کی صورت میں موجود ہیں ترقیاتی دعوے اور زمینی حقیقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں کراچی میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں شاہراہِ بھٹو اور ریڈ لائن BRT جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شامل ہیں جن پر مجموعی لاگت 60 سے 90 ارب روپے کے درمیان بتائی جاتی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ ان بڑے منصوبوں کے باوجود شہر میں پانی نکاسی آب اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل کیوں برقرار ہیں کورنگی صنعتی علاقے کے ایک محنت کش شہری کے مطابق ہم روزانہ ٹریفک گٹر اور پانی کے مسئلے میں پھنسے رہتے ہیں بڑے منصوبے کاغذ پر نظر آتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی کم ہے یہ جملہ دراصل پورے کراچی کی عمومی عوامی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں ترقیاتی منصوبے موجود ہیں مگر ان کا اثر ہر طبقے تک یکساں نہیں پہنچ رہا یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم ماضی میں طویل عرصے تک کراچی کی بڑی سیاسی قوت رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی سندھ کی حکمران جماعت ہونے کے باوجود شہر کے مسائل پر مسلسل تنقید کی زد میں رہتی ہے جماعت اسلامی مسلسل بلدیاتی اصلاحات اور اختیارات کی بات کرتی ہے مگر اسے بھی مکمل عوامی مینڈیٹ میں تبدیل کرنے میں محدود کامیابی ملی ہے مسئلہ بیانات نہیں اعتماد کا بحران ہے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون سا رہنما زیادہ درست ہے بلکہ یہ ہے کہ کراچی کے شہری کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں مگر جب تک ان کا اثر عام شہری کی روزمرہ زندگی تک واضح طور پر محسوس نہیں ہوتا تب تک یہ بیانات اور پریس کانفرنسیں صرف سیاسی سرخیاں ہی رہیں گی کراچی آج بھی اسی بنیادی سوال کے جواب کا منتظر ہے کیا اس شہر کے لیے کیے گئے وعدے کبھی حقیقت میں تبدیل ہوں گے یا نہیں

کراچی کی سیاست میں ٹکراؤ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی آمنے سامنے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us