Banner

سیاسی و نظریاتی استاد ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل بطور ایک جدلیاتی مفکر اور قومی تنظیمی شعور کے معمار

Share

Share This Post

or copy the link


سیاسی و نظریاتی استاد ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل بطور ایک جدلیاتی مفکر اور قومی تنظیمی شعور کے معمار
تحریر.عارفہ صدیق ایڈوکیٹ
ممتاز محقق،افغان تاریخ و جغرافیہ اور سیاست کے استاد ارواح شاد عبد الرحیم خان مندو خیل کی نویں برسی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ھے آئیں ارواح شاد عبد الرحیم خان مندو خیل کو پشتون اور افغان سیاست کے موجودہ منظرنامے میں جہاں نعرے بازی نے نظریاتی گہرائی کو کمزور کر دیا ہے اور جذبات نے حکمتِ عملی کی جگہ لے لی ہے کو ایک مفکر اور قومی تنظیمی شعور کے معمار کے طور پر دیکھتے ہیں،ایسے ایک وقت میں استاد عبدالرحیم مندوخیل ایک ایسے فکری چراغ کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے قوم کو سوچ، تنظیم اور شعور کا ایک مربوط راستہ دیا۔ وہ محض ایک سیاستدان یا استاد نہیں تھے بلکہ ایک مکمل نظریاتی نظام، ایک فکری مکتب اور ایک عملی رہنما تھے جنہوں نے ایک منتشر قوم کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرنے کی کوشش کی۔
محترم عبد الرحیم مندو خیل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ انقلاب کے محض داعی نہیں بلکہ اس کے معمار تھے۔ انہوں نے انقلابی فکر کو محض کتابی حوالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک عملی اور تنظیمی شکل دینے کی کوشش کی۔ دنیا کے بڑے انقلابات کا مطالعہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ سمجھا کہ ہر کامیاب تحریک کے پیچھے ایک واضح نظریہ، منظم تنظیم اور طویل المدتی حکمت عملی ہوتی ہے۔ اسی اصول کو انہوں نے پشتون و افغان سیاست میں متعارف کرایا۔
ان کے نزدیک محض قربانی کافی نہیں تھی بلکہ قربانی کو ایک منظم نظریاتی ڈھانچے میں ڈھالنا ضروری تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر جذبات کو تنظیم میں نہ بدلا جائے تو وہ راکھ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاست کو شخصیات کے بجائے اداروں اور تنظیموں کے ذریعے مضبوط کرنے پر زور دیا۔ ان کی نظر میں ایک مضبوط جماعت ہی وہ ذریعہ ہے جو قوم کی محبت کو ایک عملی قوت میں بدل سکتی ہے۔
انہوں نے تاریخ کو محض ماضی کا بیان نہیں بلکہ ایک زندہ سیاسی قوت کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے افغان اور پشتون تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اسے اپنی سیاسی فکر کی بنیاد بنایا۔ بایزید روشان سے لے کر خوشحال خان خٹک تک، اور درانی و ہوتکی ادوار سے لے کر نوآبادیاتی دور تک، انہوں نے ہر مرحلے کو ایک سیکھنے کے عمل کے طور پر دیکھا اور پرکھا۔ ان کے نزدیک تاریخ ایک ایسا آئینہ ھے جس میں قوم اپنی کمزوریوں اور طاقتوں کو پہچان سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سامراج صرف زمین یا وسائل پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ وہ ذہنوں، ثقافت اور شناخت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ان کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ذہنی، ثقافتی اور معاشی آزادی کے بھی قائل تھے۔ ان کے نزدیک مکمل آزادی تبھی ممکن ہے جب ایک قوم اپنے وسائل، معیشت اور ثقافت پر اختیار حاصل کرے۔
محترم استاد عبد الرحیم مندوخیل کی فکر میں معیشت کو مرکزی حیثیت حاصل ھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر پیداواری وسائل چند ہاتھوں میں ہوں تو معاشرہ کبھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی اختیار کے حامی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی کے ساتھ اگر معاشی آزادی حاصل نہ کی جائے تو آزادی ادھوری ہے۔
انہوں نے اپنی تنظیمی سوچ کے ذریعے ایک ایسا کیڈر تیار کرنے کی کوشش کی جو صرف نعرے نہ لگائے بلکہ تجزیہ کرے، سوچے اور عملی اقدامات کرے۔ ان کے کارکن محض سیاسی کارکن نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی طور پر تربیت یافتہ افراد ہوتے تھے۔ وہ تنظیم کو ایک “انقلابی نرسری” سمجھتے تھے جہاں نئے لیڈر اور مفکر پیدا ہوتے ہیں۔
عبد الرحیم صاحب نے پشتون سیاست میں کئی اہم اصطلاحات اور تصورات متعارف کرائے جنہوں نے قوم کو ایک نئی فکری زبان دی۔ یہ اصطلاحات محض نعرے نہیں تھے بلکہ ایک مکمل نظریاتی فریم ورک تھے جنہوں نے جغرافیہ، سیاست اور شناخت کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا۔ جن سے قوم کو اپنی سمت کا تعین کرنے میں مدد ملی۔
ان کی فکر کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ جذبات کو نظریے کے تابع رکھنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک محبت اور جذبہ اہم ضرور ہیں لیکن اگر وہ منظم نہ ہوں تو وہ قوم کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے نظم و ضبط، تنظیم اور حکمت عملی کو بنیادی اہمیت دی۔
ان کی سیاست کا مقصد فوری نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ وہ ایک طویل المدتی انقلابی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ وہ ہجوم کی سیاست کے بجائے کیڈر کی سیاست پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب مضبوط نظریاتی بنیاد پر تربیت یافتہ افراد میدان میں ہوں۔
آج کے دور میں جب پشتون معاشرہ نظریاتی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے، تو فکری، نظریاتی و تنظیمی استاد عبد الرحیم صاحب کی فکر پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوم کی بقا صرف جذبات یا نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک واضح نظریہ، مضبوط تنظیم اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
ان کی زندگی اور فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی ایک عمل ہے، ایک منصوبہ ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت، قربانی اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ان کے راستے کو اپنائیں، ان کی فکر کو سمجھیں اور اسے عملی شکل دیں تو ہم نہ صرف اپنی موجودہ مشکلات کا حل تلاش کر سکتے ہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ استاد عبدالرحیم مندوخیل محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک راستہ ہیں۔ ان کی میراث صرف یادوں تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی ڈھانچہ ہے جو آج بھی قوم کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو صرف خراجِ عقیدت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں شامل کریں اور ایک منظم، باوقار اور خودمختار معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کریں۔۔ تخلیص کنندہ:- عارفہ صدیق ایڈوکیٹ

سیاسی و نظریاتی استاد ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل بطور ایک جدلیاتی مفکر اور قومی تنظیمی شعور کے معمار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us