Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
درجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم کا پولیو کیچ اَپ ڈے کے دوران مختلف علاقوں کا دورہکوئٹہ:ملک باری کاکڑ اور سینئر صحافی نصیر احمد کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیامسلم باغ میں SNID پولیو مہم کے آخری روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقدگنداخہ میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آزاد خان جمالی کی نئی عمارت کا افتتاحنواز شریف نے جمہوریت کے استحکام کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، جمال شاہ کاکڑمتاثرین اور املاک کے نقصانات کا درست و قابلِ تصدیق ڈیٹا مرتب کیا جائے، مہراللہ بادینیسمنگلی ایئربیس کے سامنے 12 سالہ طالب علم کی ہلاکت پر احتجاج جاریای کامرس و آئی ٹی لیب مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، ذیشان لاشاریدرجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم کا پولیو کیچ اَپ ڈے کے دوران مختلف علاقوں کا دورہکوئٹہ:ملک باری کاکڑ اور سینئر صحافی نصیر احمد کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیامسلم باغ میں SNID پولیو مہم کے آخری روز ایوننگ ریویو اجلاس منعقدگنداخہ میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول آزاد خان جمالی کی نئی عمارت کا افتتاحنواز شریف نے جمہوریت کے استحکام کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، جمال شاہ کاکڑمتاثرین اور املاک کے نقصانات کا درست و قابلِ تصدیق ڈیٹا مرتب کیا جائے، مہراللہ بادینیسمنگلی ایئربیس کے سامنے 12 سالہ طالب علم کی ہلاکت پر احتجاج جاریای کامرس و آئی ٹی لیب مقررہ مدت میں مکمل کی جائے، ذیشان لاشاری

لاہور: اللہ کی رحمتوں کا شہر

لاہور: اللہ کی رحمتوں کا شہر

تحریر۔
شکیل گوندل

لاہور صرف ایک شہر نہیں، اللہ کی رحمتوں کا سایہ ہے۔ جس کی گلیوں میں تاریخ سانس لیتی ہے اور جس کی فضاؤں میں دعائیں بسی ہیں۔ میں ٹاؤن شپ لاہور میں 22 سال رہا ہوں، اس لیے یہ شہر میری یادوں کا حصہ نہیں، میری روح کا حصہ ہے۔

1. سرحد اور نہر: رحمت کے دو نشان
لاہور کی ایک سرحد ہندوستان سے ملتی ہے، مگر اس کی اصل سرحد تو محبت سے ملتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والی نہر اللہ کی ایک خاص نعمت ہے۔ رات کے وقت جب نہر کے کنارے قطار در قطار لائٹیں جلتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آسمان کے تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ وہ منظر دیکھ کر بے ساختہ یہ شعر یاد آ جاتا ہے:

_نیلے نیلے اودے اودے پیلے پیلے پیرہن
فیریا ہے یہ سہرا میں قطار اندر قطار_

نہر کے ایک طرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس ہیں اور دوسری طرف ہوسٹل۔ دونوں طرف خوبصورت سڑک ہے جس پر گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ پاکستان کی نمبر ون یونیورسٹی کا یہ نظارہ اور نہر کا پانی، دل کو سکون دے دیتا ہے۔

2. تاریخ کا زندہ شہر
لاہور میں بادشاہی مسجد کھڑی ہے تو لگتا ہے اللہ کا گھر خود شہر کی نگہبانی کر رہا ہے۔ اندرون شہر کے وہ بڑے بڑے دروازے آج بھی موجود ہیں: دہلی گیٹ، لوہاری گیٹ، بھاٹی گیٹ۔ ان دروازوں کے اندر لاہور کا اصل کلچر اور ثقافت آج بھی زندہ ہے۔ تنگ گلیاں، پرانی حویلیاں، اور ہر دروازے پر کوئی کہانی۔

3. زندہ دل لوگ اور مشہور کھانے
لاہور کے بندے واقعی بڑے زندہ دل ہیں۔ مہمان کو دیکھ کر ان کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ اور کھانے؟ لاہور کے کھانوں کی تو کیا ہی بات ہے۔
صبح کے ناشتے میں سری پائے، چنے، اور دہی بھلے۔ ریگل چوک پر چمن کی آئس کریم کے تو کیا کہنے۔ ریگل پر ہی سٹوڈنٹ چاٹ اور بھلے والا ریڑھی والا بہت مشہور ہے۔ جو ایک بار کھا لے، وہ لاہور کو بھول نہیں سکتا۔

4. میری 22 سالہ یادیں: ٹاؤن شپ کا سایہ
میں ٹاؤن شپ لاہور میں 22 سال رہا ہوں۔ وہ وقت میری زندگی کا سب سے مثالی دور تھا۔ اس پر اللہ کا خاص سایہ تھا، اس کی سرپرستی اور دعائیں شامل تھیں۔
ہم دو بھائی اپنی فیملیوں کے ساتھ وہاں رہ رہے تھے۔ محلے والوں کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ دونوں بھائیوں کی بیویاں ہیں یا بہنیں۔ دونوں سگی بہنوں کی طرح رہتی تھیں۔ بچے بھی ایسے گھلے ملے کہ سمجھ ہی نہ آئے کہ میں نے ان کے پالے ہیں یا انہوں نے میرے۔ آج بھی ان بچوں میں بہن بھائیوں جیسی ہم آہنگی موجود ہے۔ یہی لاہور کا حسن ہے: یہاں رشتے خون سے نہیں، محبت سے بنتے ہیں۔

پرانا لاہور: مٹی کی خوشبو
تاریخ گواہ ہے کہ لاہور ہمیشہ سے دلوں کا دارالحکومت رہا ہے۔ مغل، سکھ، انگریز، سب آئے اور اس کی مٹی کے ہو گئے۔ داتا دربار کی حاضری، شالامار باغ کی سیر، اور مینارِ پاکستان کا وقار۔ یہ شہر ہر دور میں جیا ہے اور آج بھی ویسے ہی جی رہا ہے۔

لاہور پر واقعی اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ یہاں کی نہر، یہاں کی مسجدیں، یہاں کے دروازے، یہاں کے لوگ اور یہاں کے کھانے۔ سب اللہ کا کرم ہیں۔

آخر میں علامہ اقبال کا یہ شعر لاہور کے نام:
_یہی جانتی ہے کہ فقط ایک ہے لا الٰہ
حرم بھی، دیر بھی، میکدہ بھی، کلیسا بھی_

لاہور زندہ باد۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *