Banner

دکھی انسانیت کی خدمت عظیم عبادت ہے، ملک ولید خان توخئی

Share

Share This Post

or copy the link


انٹرویو ،قیوم بلوچ

نامور قبائلی ،سماجی ، سیاسی شخصیت ملک ولید خان توخءان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بے لوث خدمت، قبائلی اقدار کی پاسداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ان کا تعلق پشتون قوم کے معزز اور معتبر قبیلہ خلجی کی ذیلی شاخ “توخئں” سے ہے، جو اپنی روایات، غیرت، مہمان نوازی اور انصاف پسندی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ معروف قبائلی شخصیت ملک اللہ نور توخءکے فرزند ،ملک لعل محمد توخءکے نواسے ،اور ملک امان اللہ کے پڑنواسے ہیں۔ لورالائی میں پیدا ھوئے۔ اور تین سال کی عمر میں کوئٹہ اپنی نانی کے پاس شفٹ کیے گئے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔اور بلوچستان یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ملک ولید خان توخءنہ صرف اپنے قبیلے بلکہ پورے علاقے میں عزت، وقار اور اعتماد کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی شخصیت میں سادگی، شرافت، سنجیدگی اور خلوص کا ایسا امتزاج پایا جاتا ہے جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتا ہے۔ان کی زندگی کا بنیادی مقصد خدمتِ انسانیت ہے، جسے وہ محض ایک سماجی فریضہ نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت دکھی انسانیت کے لیے سوچتے اور عملی اقدامات کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا دروازہ ہر وقت ہر سائل کے لیے کھلا رہتا ہے، جہاں آنے والا ہر فرد بغیر کسی امتیاز کے عزت اور توجہ پاتا ہے۔ وہ رنگ، نسل، زبان یا قبیلے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے تعصب پر یقین نہیں رکھتے بلکہ انسان کو صرف انسانیت کے رشتے سے دیکھتے ہیں، جو ان کی اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی کی واضح دلیل ہے۔ملک ولید خان توخءکی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی خاموش مگر مو¿ثر سماجی خدمات ہیں۔ وہ نہ تو نام و نمود کے خواہش مند ہیں اور نہ ہی اپنی خدمات کی تشہیر کو پسند کرتے ہیں، بلکہ ان کا یقین عمل پر ہے، اور وہ پس منظر میں رہ کر لوگوں کی مدد کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی مدد آپ کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے وہ نہ صرف خود فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس جانب راغب کرتے ہیں کہ وہ اپنے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے۔دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات نہایت قابلِ قدر ہیں۔ وہ تعلیم کو روشنی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ طلبائ و طالبات کی مالی اور اخلاقی معاونت ان کے معمول کا حصہ ہے۔ وہ نہ صرف تعلیمی اخراجات میں مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں تاکہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہو سکیں۔ ان کا خصوصی فوکس نوجوان نسل پر ہے، کیونکہ وہ انہیں مستقبل کا معمار سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، انہیں منفی رجحانات سے دور رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتے ہیں۔ کھیلوں کے فروغ میں بھی ملک ولید خان توخءکا کردار قابلِ ذکر ہے۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ نوجوانوں کی ذہنی تربیت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت وہ کھیلوں کے میدان میں نوجوانوں کی سرپرستی کرتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور جہاں ممکن ہو، وسائل بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ نوجوان مثبت اور صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ قبائلی نظام میں ان کا کردار انتہائی اہم اور فعال ہے۔ میڑھ، جرگہ اور مرکہ جیسے روایتی اداروں میں وہ ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ ان کی دانشمندی، تحمل مزاجی اور انصاف پسندی انہیں ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ وہ پیچیدہ تنازعات کو نہایت حکمت، بردباری اور دور اندیشی کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے فریقین ان کے فیصلوں کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا ہر فیصلہ نہ صرف انصاف پر مبنی ہوتا ہے بلکہ اس میں معاشرتی ہم آہنگی اور دیرپا امن کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے ان کی کوششیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ وہ ہمیشہ بھائی چارے، رواداری اور یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں اور ہر قسم کی نفرت، انتشار اور فساد کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت امن پسندی کا عملی نمونہ ہے، اور وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود بھی باہمی احترام اور برداشت کے ذریعے ایک پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری پر بھی وہ گہری تشویش رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسائل نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو خود کفیل بنایا جائے تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ ان کی یہ سوچ ایک پائیدار اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی وابستگی اور دین دوستی بھی ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ہے۔ وہ اسلامی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں اور اپنے کردار و عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود دین پر عمل کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی نیکی، دیانت داری اور سچائی کی راہ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ملک ولید خان توخءمیڈیا سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی خدمات کو نمایاں کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا انٹرویو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم طویل اصرار کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو ان کی سادہ مزاجی اور عاجزی کا واضح ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملک ولید خان توخءایک ایسی ہمہ جہت اور باوقار شخصیت ہیں جو بیک وقت قبائلی روایات کے امین، سماجی خدمت کے علمبردار، تعلیم دوست رہنما، نوجوانوں کے سرپرست اور انسانیت کے سچے خادم ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور جذبہ خدمت کا ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ایسے افراد کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایک روشن، پرامن اور خوشحال معاشرے کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ ہم نے ” ملک ولید خان توخء” سے تفصیلی بات چیت کا اہتمام کیا جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ نامور قبائلی، سماجی اور انسان دوست رہنما ملک ولید خان توخءنے اپنے ایک تفصیلی اور جامع انٹرویو میں بلوچستان کو درپیش مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ نہایت تشویشناک ہیں اور اگر فوری، سنجیدہ اور اجتماعی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والا وقت مزید مشکلات اور پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں، جو ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پالیسی ساز حلقے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی غربت، تنگدستی اور بیروزگاری ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک باپ اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر سکے تو اس کے اندر مایوسی، اضطراب اور بے بسی جنم لیتی ہے، اور یہی کیفیت رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کی وجہ سے نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ انہیں نہ تو روزگار کے مواقع میسر ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے کوئی مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر نوجوانوں کو بروقت مواقع فراہم نہ کیے گئے تو وہ مایوسی کا شکار ہو کر منفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہو سکتے ہیں، جو معاشرے کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔قبائلی تنازعات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ولید خان توخءنے کہا کہ بلوچ اور پشتون بیلٹ میں قبائلی جھگڑوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جو نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی نوعیت کے اختلافات بھی بعض اوقات شدت اختیار کر کے بڑے تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور خاندانوں کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر پشتون بیلٹ میں ان تنازعات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کا واحد دیرپا حل قبائلی روایات کے مطابق ایک مضبوط اور بااختیار “گرینڈ جرگہ” کی تشکیل ہے، جس میں تمام قبائل کے معتبرین، عمائدین، سیاسی و سماجی رہنما اور دانشور شامل ہوں تاکہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے ان تنازعات کا مستقل حل نکال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ پشتون اور بلوچ معاشرے کی ایک قدیم اور مو¿ثر روایت ہے، جس کے ذریعے نہ صرف تنازعات حل ہوتے ہیں بلکہ دلوں میں موجود کدورتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان تعلیمی میدان میں انتہائی پسماندگی کا شکار ہے، جو صوبے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کی شدید کمی ہے، جہاں بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیمی سہولیات کا فقدان اور نصاب کی کمزوری جیسے مسائل نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس شعبے پر خصوصی توجہ دے اور ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات متعارف کروائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نجی شعبے کو بھی تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایک مشترکہ کوشش کے ذریعے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ کوئٹہ شہر اور اس کے گردونواح کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ملک ولید خان توخءنے کہا کہ صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود کوئٹہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس، بجلی اور پانی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ سردیوں میں گیس کی عدم دستیابی اور گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کیلئے ایک اذیت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ٹریفک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام بدترین صورتحال اختیار کر چکا ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مناسب منصوبہ بندی کا فقدان اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک جام نہ صرف وقت کے ضیاع کا باعث بنتا ہے بلکہ اس سے ایندھن کا ضیاع اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس کے منفی اثرات عوام کی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید دور میں انٹرنیٹ کا استعمال جہاں ایک طرف معلومات کے حصول کا ذریعہ ہے، وہیں اس کا بے جا اور غیر محتاط استعمال نوجوانوں میں اخلاقی پستی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے منفی استعمال نے نوجوانوں کو اپنی ثقافتی اور دینی اقدار سے دور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی عدم توجہ اور معاشرتی نگرانی کے فقدان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ والدین، اساتذہ، علمائ کرام اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد کو مل کر نوجوانوں کی رہنمائی کرنی ہوگی تاکہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے اور ان کی توانائیوں کو تعمیری مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دین سے دوری بھی معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسان اپنی دینی اور اخلاقی اقدار سے دور ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی میں بے سکونی اور انتشار پیدا ہو جاتا ہے، جو پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو دینی تعلیمات سے روشناس کروانا ہوگا اور انہیں اس بات کا شعور دینا ہوگا کہ ایک متوازن زندگی کیلئے دنیاوی اور دینی دونوں پہلوو¿ں کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ ملک ولید خان توخءنے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف حکومتی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما، سماجی کارکن، علمائ
اور نوجوان مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں تو نہ صرف موجودہ مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ایک روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی حیثیت میں رہتے ہوئے ہمیشہ عوام کی خدمت، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے اپنے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایک مضبوط، متحد اور باشعور معاشرہ ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام باصلاحیت، محنتی اور باہمت ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں صحیح سمت، مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف اپنے صوبے بلکہ پورے ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

دکھی انسانیت کی خدمت عظیم عبادت ہے، ملک ولید خان توخئی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us