Banner

غصہ دشمن نہیں — بلکہ انسان کے اندر چھپا ایک پیغام

Share

Share This Post

or copy the link

غصہ دشمن نہیں — بلکہ انسان کے اندر چھپا ایک پیغام
تحریر، ماھر نفسیات نبیلہ شاھد

غصہ انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہ کوئی بیماری یا دشمن نہیں بلکہ ایک ایسا جذباتی اشارہ ہے جو انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کے اندر کہیں نہ کہیں تکلیف، دباؤ، خوف، بے چینی یا احساسِ محرومی موجود ہے۔ اکثر لوگ غصے کو صرف چیخنے، لڑنے یا سخت لہجے سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں غصہ ایک گہری اندرونی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ بعض اوقات انسان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اتنا غصہ کیوں کرتا ہے، کیونکہ اصل مسئلہ غصہ نہیں بلکہ وہ درد ہوتا ہے جو خاموشی سے انسان کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ، معاشی پریشانی، خاندانی مسائل، نیند کی کمی یا جذباتی تھکن کا شکار ہو تو اس کی برداشت کم ہونے لگتی ہے۔ پھر چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اسے بڑی محسوس ہوتی ہیں اور معمولی رویے پر بھی شدید ردِعمل سامنے آ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ دراصل غصہ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی اندرونی بے بسی، اداسی یا ناقدری کو غصے کی صورت میں ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔
بعض اوقات غصے کی جڑ انسان کے بچپن میں ہوتی ہے۔ اگر گھر کا ماحول سختی، چیخ و پکار یا لڑائی جھگڑوں پر مشتمل ہو تو بچہ لاشعوری طور پر یہی سیکھتا ہے کہ مسائل کا حل سخت رویہ ہے۔ بعد میں یہی انداز اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح انا اور ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنے کی خواہش بھی غصے کو بڑھاتی ہے۔ جب انسان یہ توقع رکھتا ہے کہ سب لوگ اس کی مرضی کے مطابق چلیں اور ایسا نہ ہو تو اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ غصے کے پیچھے خوف بھی چھپا ہوتا ہے۔ ایک ماں یا باپ بچوں پر اس لیے سختی کرتے ہیں کیونکہ انہیں ان کے مستقبل کا ڈر ہوتا ہے، جبکہ بعض لوگ تعلق ختم ہونے یا اپنی اہمیت کم ہونے کے خوف میں غصہ کرتے ہیں۔ یعنی بظاہر انسان غصہ دکھا رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے اندر عدمِ تحفظ موجود ہوتا ہے۔
غصے کو سمجھنے اور سنبھالنے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنے جذبات کو پہچاننا ضروری ہے۔ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے کن باتوں پر غصہ آتا ہے اور کیوں آتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے ردِعمل پر قابو پانا شروع کر دیتا ہے۔ اکثر لوگ فوراً منفی مطلب نکال لیتے ہیں، حالانکہ ہر رویہ ذاتی حملہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص جواب نہ دے تو ضروری نہیں کہ وہ بے عزتی کر رہا ہو، ممکن ہے وہ خود کسی پریشانی میں ہو۔ سوچ کے زاویے کو بدلنے سے انسان کے جذبات بھی بدلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح غصے کے وقت چند لمحوں کی خاموشی، گہری سانس لینا، پانی پینا یا جگہ بدل لینا انسان کے ذہنی دباؤ کو کم کر دیتا ہے۔ جب انسان اپنے جسم کو سکون دیتا ہے تو ذہن بھی پرسکون ہونے لگتا ہے۔ اپنے آپ سے نرم لہجے میں بات کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر انسان ہر وقت خود سے یہی کہتا رہے کہ “کوئی میری قدر نہیں کرتا” یا “سب میرے خلاف ہیں” تو غصہ بڑھتا جاتا ہے، جبکہ مثبت اندازِ فکر انسان کے اندر تحمل پیدا کرتا ہے۔

غصہ دشمن نہیں — بلکہ انسان کے اندر چھپا ایک پیغام

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us