Banner

ڈیجیٹل جدت یا معاشی قتل؟ ڈیجیٹل پالیسی یا کوئی نئی سازش؟

Share

Share This Post

or copy the link

ڈیجیٹل جدت یا معاشی قتل؟ ڈیجیٹل پالیسی یا کوئی نئی سازش؟

تحریر: اسرار محمد کھیتران

بلوچستان میں ذرائع ابلاغ کی موجودہ صورتحال اور مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے گرد اٹھنے والی بحث محض ایک تکنیکی یا وقتی معاملہ نہیں، بلکہ یہ دراصل صحافت کے مستقبل، معلومات کی ترسیل کے نظام، اور عوامی نمائندگی کے بنیادی ڈھانچے سے جڑا ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ایسے میں اس بحث کو سادہ انداز میں “بوکھلاہٹ” یا “خوف” کا نام دے دینا نہ صرف حقیقت سے چشم پوشی ہے، بلکہ ایک ایسے شعبے کی تضحیک بھی ہے جو انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتا آیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو جذبات یا الزامات کے بجائے زمینی حقائق، تاریخی پس منظر، اور بلوچستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ اخبار مالکان کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر اٹھائے گئے تحفظات کو محض “اجارہ داری کے خاتمے کا خوف” قرار دینا دراصل اس پیچیدہ مسئلے کو غیر ضروری طور پر سادہ بنانے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کبھی بھی کسی مضبوط مالی یا ادارہ جاتی ڈھانچے کا حامل نہیں رہا۔ یہاں کے اخبارات ہمیشہ محدود وسائل، حکومتی عدم توجہی، اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم، اور سکیورٹی خدشات کے سائے میں کام کرتے رہے ہیں، ان حالات میں بھی انہوں نے نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑی بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے، دور دراز علاقوں کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے، اور جمہوری اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کہنا کہ اخباری صنعت چند افراد کی اجارہ داری ہے، ان سینکڑوں صحافیوں، کالم نگاروں، رپورٹرز، سب ایڈیٹرز، کمپیوٹر آپریٹرز، ڈسٹری بیوٹرز، اور اخبار فروشوں کی شبانہ روز محنت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، جو اس نظام کا اصل چہرہ ہیں۔ بلوچستان میں ایک اخبار محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام (ecosystem) ہے، جس سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے، اس نظام کو کمزور کرنا دراصل ایک پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرنے کے برابر ہوگا۔
ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اور نہ ہی کوئی سنجیدہ حلقہ اس کی مخالفت کرتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے نام پر پرنٹ میڈیا کو دیوار سے لگانا کیا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ کیا یہ مناسب ہوگا کہ پہلے سے مالی مشکلات کا شکار مقامی اخبارات کے وسائل مزید کم کر دیے جائیں، اور انہیں ایک غیر یقینی مستقبل کے حوالے کر دیا جائے؟ ان سوالات کے جوابات دیانتداری کے ساتھ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں مقامی اخبارات کی موجودہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکومتی اشتہارات کی ادائیگی میں تاخیر، نجی شعبے کی محدود دلچسپی، کاغذ اور پرنٹنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت، اور دیگر انتظامی اخراجات نے اس صنعت کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ کئی اخبارات ایسے ہیں جو صرف اس امید پر چل رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان کے واجبات ادا ہو جائیں گے، اور وہ اپنے عملے کو برقرار رکھ سکیں گے۔ ایسے میں اگر ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے ذریعے فنڈز کی مزید تقسیم کی جاتی ہے، تو یہ خدشہ بالکل بجا ہے کہ پرنٹ میڈیا کو ملنے والا حصہ مزید کم ہو جائے گا، جس سے اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ تاثر دینا کہ اخبارات میں ملازمین کی تعداد کم ہے، اس لیے بے روزگاری کا خدشہ مبالغہ آمیز ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔ ایک اخبار کا دائرہ کار اس کے مرکزی دفتر تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ پورے صوبے میں پھیلا ہوا رپورٹرز کا نیٹ ورک، تقسیم کاروں، ٹرانسپورٹرز، اور دیگر معاون عملہ شامل ہوتا ہے۔ ان سب افراد کا روزگار براہ راست اس صنعت سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر اخبارات کمزور ہوتے ہیں یا بند ہوتے ہیں، تو اس کے اثرات ایک وسیع سطح پر محسوس کیے جائیں گے، جس کا اندازہ محض اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا۔
گزشتہ چند برسوں میں صحافیوں کی برطرفیوں کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، مگر اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب کسی ادارے کو اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات پیش آئیں تو، جب اشتہارات کی مد میں ملنے والی آمدن غیر یقینی ہو، اور جب حکومتی واجبات کی ادائیگی مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں تک مؤخر ہو جائے، تو ایسے میں ادارے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ فیصلے کسی خوشی یا بدنیتی کے تحت نہیں، بلکہ بقا کی جنگ کے طور پر کیے جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے اخبارات کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کو ایک مکمل متبادل کے طور پر پیش کرنا بھی ایک غلط فہمی ہے، خصوصاً بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں انٹرنیٹ کی رسائی اب بھی محدود ہے، کئی علاقوں میں نیٹ ورک کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، اور بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول کا حصہ ہے۔ ایسے میں پرنٹ میڈیا ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں تک معلومات پہنچاتا ہے۔ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں آج بھی اخبار کو ایک معتبر اور قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جہاں خبر کی تصدیق اور ادارتی ذمہ داری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ڈیجیٹل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں، افواہوں، اور سنسنی خیزی کا رجحان ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ اس میں بہت سے سنجیدہ اور پیشہ ور افراد بھی کام کر رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر اس شعبے میں ضابطہ اخلاق اور نگرانی کا نظام ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔
اخبار مالکان کی جانب سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنا، پریس کلبوں میں اجلاس منعقد کرنا، اور حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں کرنا ایک جمہوری عمل کا حصہ ہے، اسے کسی سازش یا دباؤ کی حکمت عملی قرار دینا مناسب نہیں۔ درحقیقت، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں شفافیت اور مشاورت کا فقدان ہے۔ ایک مؤثر اور دیرپا پالیسی وہی ہو سکتی ہے جس میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے، اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ مقامی اخبارات کے خلاف ماضی میں بھی مختلف نوعیت کی سازشوں کی نشاندہی ہوتی رہی ہے جن میں فنڈز کی کٹوتی، اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم، اور بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر انہیں کمزور کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اگر ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوتی ہے، تو یہ نہ صرف صحافت بلکہ جمہوری اقدار کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ صحافت کا مستقبل کسی ایک ذریعے سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ نظام ہے جس میں پرنٹ، ڈیجیٹل، اور الیکٹرانک میڈیا سب کا اپنا اپنا کردار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام ذرائع کو متوازن انداز میں فروغ دیا جائے، نہ کہ ایک کو مضبوط کرنے کے لیے دوسرے کو قربان کیا جائے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کو درپیش چیلنجز کو نظرانداز کر کے ڈیجیٹل میڈیا کو یکطرفہ طور پر فروغ دینا ایک غیر متوازن اور ممکنہ طور پر نقصان دہ حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی اخبارات کی مالی مشکلات کا سنجیدگی سے نوٹس لے، ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائے، اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے اس صنعت کو مستحکم کرے۔ ڈیجیٹل میڈیا یقیناً وقت کی ضرورت ہے، مگر پرنٹ میڈیا اس کی بنیاد ہے۔ اگر بنیاد کو کمزور کر دیا جائے تو عمارت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ ایک مضبوط، آزاد، اور ذمہ دار صحافت کے لیے ضروری ہے کہ دونوں شعبوں کو ساتھ لے کر چلا جائے، تاکہ عوام کو مستند، بروقت، اور جامع معلومات کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔

ڈیجیٹل جدت یا معاشی قتل؟ ڈیجیٹل پالیسی یا کوئی نئی سازش؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us