Banner
Daily Sahafat Quetta
November 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیانصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغی

تعلیم، امن اور ترقی کا باہمی ربط

تعلیم، امن اور ترقی کا باہمی ربط
صحافت منظر نامہ

صحافت قارئین۔ عالمی حالات و واقعات اور تاریخ کے آئینے میں ترقی تعلیم کا سفرانسانی تاریخ جنگوں، فتوحات اور زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن بیسویں صدی کے وسط سے عالمی منظر نامے نے ایک نئی کروٹ لی۔ دو عظیم عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا نے یہ سبق سیکھا کہ بقاء صرف طاقت میں نہیں بلکہ بقائے باہمی اور اشتراکِ عمل میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا قیام اور بین الاقوامی قوانین کی تشکیل اسی سوچ کا نتیجہ تھی تاکہ مستقبل کی نسلوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچایا جا سکے۔ جن ممالک نے تاریخ سے سبق سیکھا، انہوں نے اپنی ترجیحات کو سرحدوں کی توسیع سے بدل کر انسانی وسائل کی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ آج کا عالمی منظر نامہ ٹیکنالوجی کی یلغار اور معاشی بلاکس کی تشکیل کا مجموعہ ہے، جہاں وہی قومیں معتبر ہیں جو علم اور امن کی طاقت سے لیس ہیں۔ترقی یافتہ ممالک، جیسے کہ ناروے، جاپان، سنگاپور اور جرمنی، کی کامیابی کا اصل راز ان کا نظامِ تعلیم ہے۔ ان ممالک نے یہ سمجھ لیا تھا کہ خام مال یا قدرتی وسائل سے زیادہ قیمتی “انسانی دماغ” ہے۔ فن لینڈ کی مثال لے لیں، جہاں تعلیم کو محض ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی اور تخلیقی سوچ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ان ممالک نے تعلیم کے شعبے میں جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا اور اساتذہ کے مقام کو معاشرے میں سب سے بلند کیا۔ ترقی یافتہ دنیا میں تعلیم کو ہر فرد کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں طبقاتی تقسیم کم ہوئی اور سماجی انصاف کی راہ ہموار ہوئی۔امن محض جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور انسانی حقوق کا احترام ہو۔ جن ممالک نے طویل عرصے تک امن کو برقرار رکھا، انہوں نے چند بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا قانون کی بالادستی، جمہوریت اور مکالمہ، اور ایک مضبوط سوشل کنٹریکٹ۔ سویڈن اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے دہائیوں سے خود کو عالمی تنازعات سے دور رکھ کر اپنی توانائی صرف اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر لگائی۔آج کی دنیا کو جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل انقلاب جیسے مواقع میسر ہیں، وہیں اسے ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور نظریاتی انتہاء پسندی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا اب “گرین انرجی” اور “پائیدار ترقی” کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زمین کے وسائل محدود ہیں۔ چین نے جس طرح محض چند دہائیوں میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ درست معاشی پالیسیوں اور سیاسی عزم کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔عالمی حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی ملک معجزاتی طور پر ترقی نہیں کرتا۔ ترقی، تعلیم اور امن کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ بغیر تعلیم کے شعور نہیں آتا، بغیر شعور کے امن برقرار نہیں رہ سکتا، اور بغیر امن کے ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی منظر نامے میں یہ سبق موجود ہے کہ ہمیں اپنی دفاعی طاقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور معاشی طاقت پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ وہ قومیں جو تحقیق، ایجاد اور رواداری کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہی عالمی نقشے پر اپنا نام سنہری حروف میں لکھواتی ہیں۔ مستقبل صرف ان کا ہے جو علم کی شمع روشن کریں گے اور امن کے سفیر بن کر ابھریں گے۔ا

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *