Banner
Daily Sahafat Quetta
August 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسینوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسین

تعلیم، امن اور ترقی کا باہمی ربط

تعلیم، امن اور ترقی کا باہمی ربط
صحافت منظر نامہ

صحافت قارئین۔ عالمی حالات و واقعات اور تاریخ کے آئینے میں ترقی تعلیم کا سفرانسانی تاریخ جنگوں، فتوحات اور زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن بیسویں صدی کے وسط سے عالمی منظر نامے نے ایک نئی کروٹ لی۔ دو عظیم عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا نے یہ سبق سیکھا کہ بقاء صرف طاقت میں نہیں بلکہ بقائے باہمی اور اشتراکِ عمل میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا قیام اور بین الاقوامی قوانین کی تشکیل اسی سوچ کا نتیجہ تھی تاکہ مستقبل کی نسلوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچایا جا سکے۔ جن ممالک نے تاریخ سے سبق سیکھا، انہوں نے اپنی ترجیحات کو سرحدوں کی توسیع سے بدل کر انسانی وسائل کی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ آج کا عالمی منظر نامہ ٹیکنالوجی کی یلغار اور معاشی بلاکس کی تشکیل کا مجموعہ ہے، جہاں وہی قومیں معتبر ہیں جو علم اور امن کی طاقت سے لیس ہیں۔ترقی یافتہ ممالک، جیسے کہ ناروے، جاپان، سنگاپور اور جرمنی، کی کامیابی کا اصل راز ان کا نظامِ تعلیم ہے۔ ان ممالک نے یہ سمجھ لیا تھا کہ خام مال یا قدرتی وسائل سے زیادہ قیمتی “انسانی دماغ” ہے۔ فن لینڈ کی مثال لے لیں، جہاں تعلیم کو محض ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی اور تخلیقی سوچ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ان ممالک نے تعلیم کے شعبے میں جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا اور اساتذہ کے مقام کو معاشرے میں سب سے بلند کیا۔ ترقی یافتہ دنیا میں تعلیم کو ہر فرد کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں طبقاتی تقسیم کم ہوئی اور سماجی انصاف کی راہ ہموار ہوئی۔امن محض جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور انسانی حقوق کا احترام ہو۔ جن ممالک نے طویل عرصے تک امن کو برقرار رکھا، انہوں نے چند بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا قانون کی بالادستی، جمہوریت اور مکالمہ، اور ایک مضبوط سوشل کنٹریکٹ۔ سویڈن اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے دہائیوں سے خود کو عالمی تنازعات سے دور رکھ کر اپنی توانائی صرف اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر لگائی۔آج کی دنیا کو جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل انقلاب جیسے مواقع میسر ہیں، وہیں اسے ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور نظریاتی انتہاء پسندی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا اب “گرین انرجی” اور “پائیدار ترقی” کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زمین کے وسائل محدود ہیں۔ چین نے جس طرح محض چند دہائیوں میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ درست معاشی پالیسیوں اور سیاسی عزم کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔عالمی حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی ملک معجزاتی طور پر ترقی نہیں کرتا۔ ترقی، تعلیم اور امن کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ بغیر تعلیم کے شعور نہیں آتا، بغیر شعور کے امن برقرار نہیں رہ سکتا، اور بغیر امن کے ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی منظر نامے میں یہ سبق موجود ہے کہ ہمیں اپنی دفاعی طاقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور معاشی طاقت پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ وہ قومیں جو تحقیق، ایجاد اور رواداری کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہی عالمی نقشے پر اپنا نام سنہری حروف میں لکھواتی ہیں۔ مستقبل صرف ان کا ہے جو علم کی شمع روشن کریں گے اور امن کے سفیر بن کر ابھریں گے۔ا

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *