Banner

سندھ کی سیاست:طاقت کا نیا کھیل اور بدلتا توازن

Share

Share This Post

or copy the link

سندھ کی سیاست:طاقت کا نیا کھیل اور بدلتا توازن

تحریر: محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

سندھ کی سیاسی فضا اس وقت مہنگائی عوامی احتجاج اور انتظامی مسائل کے باعث ایک بار پھر شدید کشیدگی کے دور سے گزر رہی ہے مختلف سیاسی دھڑے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں جس کے نتیجے میں سیاسی تپش بڑھ گئی ہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سندھ حکومت کے درمیان ٹکراؤ واضح ہو رہا ہے ایک طرف سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور احتجاج پر پابندیوں کے الزامات ہیں تو دوسری جانب حکومت اسے امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی قرار دے رہی ہے انسانی حقوق کی پامالی مہنگائی اور مبینہ جبری گمشدگیوں جیسے مسائل بھی بحث کا حصہ بن چکے ہیں جنہوں نے عوامی بے چینی کو بڑھایا ہے کراچی کا بلدیاتی نظام وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک بار پھر مرکزی سیاسی بحث کا محور بن گیا ہے مختلف سیاسی حلقے 18ویں ترمیم کی روح کے مطابق مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور اختیارات اضلاع کی سطح تک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں دوسری طرف انتظامی ڈھانچے پر اختلافات بڑھ رہے ہیں صوبائی سطح پر حکمران جماعت کو سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں موجودہ انتظامیہ کو کرپشن کا مرکز قرار دے رہی ہیں اور طرزِ حکمرانی پر سخت سوالات اٹھا رہی ہیں اسی سیاسی صورتحال میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے حالیہ بیانات نے نئی صف بندیوں کا اشارہ دیا ہے ف لیگ کی قیادت کے مطابق سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے اہم سیاسی شخصیات ان کی صفوں میں شامل ہو رہی ہیں سید راشد شاہ راشدی کے مطابق لاڑکانہ سے معظم عباسی اور سانگھڑ سے محمد خان جونیجو پہلے ہی اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ بدین سے بھی ایک اہم سیاسی شخصیت کی شمولیت کا امکان ہے ان تبدیلیوں کو سندھ کے سیاسی توازن میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لاڑکانہ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید راشد شاہ راشدی نے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو اپنے اتحاد کا حصہ قرار دیا اور اسے مستقبل کی ایک اہم پیش رفت کہا انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پیر صاحب پگارا کی روحانی اور سیاسی قیادت میں ایسے نظام کے لیے کوشاں ہے جہاں کرپشن کی کوئی گنجائش نہ ہو اور احتساب بلا امتیاز ہو ف لیگ اب اپنی سیاسی موجودگی کو کسی ایک علاقے تک محدود رکھنے کے بجائے یونین کونسل کی سطح تک مضبوط کرنے کا ہدف رکھتی ہے دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سندھ کے حوالے سے حکمت عملی مفاہمت اور شراکت داری پر مبنی ہے جہاں تصادم کے بجائے مذاکرات اور تعاون کا رجحان غالب ہے گورنر سندھ کی حالیہ تعیناتی اور وفاق و صوبے کے درمیان بہتر روابط کو سیاسی حلقے ایک نئے مفاہمتی دور کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دریائے سندھ پر نہروں کے منصوبے جیسے حساس معاملے پر بھی ن لیگ کا موقف اب مشاورت کی طرف مائل نظر آتا ہے جو وفاقی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے مجموعی طور پر سندھ کی سیاست اس وقت بیانات احتجاجوں نئی صف بندیوں اور سیاسی اتحادوں

سندھ کی سیاست:طاقت کا نیا کھیل اور بدلتا توازن

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us